پارلیمانی انتخابات2019:سرینگر کی حساس نشست کیلئے بساط بچھ گئی

شیخ اور انصاری خاندان تیسری بار آمنے سامنے

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر// سرینگر پارلیمانی نشست پر تیسری مرتبہ شیخ اور انصاری خاندان کا براہ راست مقابلہ ہے،جبکہ دنوں خاندانوں کی دوسری نسل کے درمیان18اپریل کو ایک بار پھر مقابلہ ہوگا۔ حساس مانے جانے والی سرینگر نشست پر انتخابی بساط سج چکی ہے،اور18اپریل کو12امیدواروں کی سیاسی تقدیر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند ہوگی،اور رائے دہندگان انکی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرینگے۔اب تک ہوئے انتخابات کے دوران 2مرتبہ انصاری اور شیخ خاندان ایک دوسرے کے مد مقابل رہے ہیں،جبکہ18اپریل کو تیسری مرتبہ دنوں خاندانوں کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔اس نشست پر واحد کامیاب ہونے والی خاتون بھی شیخ خاندان سے وابستہ ہے جو مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی شریک حیات بیگم اکبر جہاں ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی خاتون امیدوار اور موجودہ امیدوار ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی والدہ بیگم اکبر جہاں نے 1977کے پارلیمانی انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس کو اس نشست سے سرخ رو کیا اور اس وقت کے کانگریس کے امیدوار مرحوم مولوی افتخار حسین انصاری کو تقریبا 1لاکھ 13ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ بیگم اکبر جہاں نے 2لاکھ 10ہزار 72ووٹ حاصل کئے جبکہ افتخار حسین انصاری نے 87ہزار 431ووٹ اپنے نام کئے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے 2009میں ہوئے پارلیمانی انتخابات کے دوران اپنے نزدیکی مد مقابل پی ڈی پی امیدوار مولوی افتخار حسین انصاری کو 30ہزار 242ووٹوں سے شکست دی تھی جبکہ انتخابات میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک لاکھ 47ہزار 35ووٹ حاصل کئے تھے اور مولانا افتخار حسین انصاری نے ایک لاکھ 16ہزار 793ووٹ حاصل کئے تھے ۔ اس نشست پر جمعرات کو ایک مرتبہ پھر نیشنل کانفرنس کے امیدوار اور شیخ خاندان سے وابستہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پیپلز کانفرنس کے امیدوار و انصاری خاندان سے وابستہ عرفان انصاری کے درمیان مقابلہ ہوگا۔نیشنل کانفرنس کے امیدوار ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پی ڈی پی امیدوار آغا محسن اور پیپلز کانفرنس کے عرفان انصاری کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہونے کی توقع ہیں جبکہ دیگر امیدوار بھی رسمی طور پر انتخابات میں شرکت کر ہے ہیں ۔ان انتخابات میں جو دیگر سیاسی امیدوار شامل ہیں ان میں بی جے پی کے خالد جہانگیر،پنتھرس پارٹی کے عبدالرشید گنائی،جنتا دل یونائٹیڈ کے شوکت حسین خان،شیو سینا کے عبدالخالق بٹ،راشٹریہ جن کرانتی پارٹی کے نذیر احمد لون،مانو ادھیکار نیشنل پارٹی کے نذیر احمد صوفی،عوامی اتحاد پارٹی کے بلال سلطان کے علاوہ سجاد احمد ڈار اور عبدالرشید باندے بھی شامل ہیں۔