تازہ ترین

ایک سال کی وارداتوں میں 67کروڑ کا نقصان

۔467کروڑکی املاک کو بچالیا گیا ، 34 مقامات پرجنگلات میں لگی آگ پر بھی قابو پایا

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 سرینگر // گذشتہ سال وادی میں آگ کی ہولناک وارداتوں کے دوران 67کروڑ کا نقصان ہوا ہے اس دوران 1800رہائشی ڈھانچے  آگ کی نذرہو گئے ہیںاُن ڈھانچوں میں 346دکانیں اور 216بجلی ٹرانسفامربھی شامل ہیں ۔ریاست جموں وکشمیر میں فائر اینڈ ایمرجنسی ہفتہ منایا جا رہا ہے جس دوران لوگوں کو آگ سے بچائو کے حوالے سے جانکاری فراہم کی جا رہی ہے ۔ محکمہ میں موجود ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وادی میں سال2018  میںمحکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کو2740فون کالز موصول ہوئیں جبکہ وادی بھر میں 1800 رہائشی مکان و شیڈ، بجلی ٹرانسفارمر ، دکانیں اور دیگر املاک آگ کی نذر ہوگئے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ اُن میں 346 دکانیں  اور 216 بجلی ٹرانسفارمر بھی بھی شامل ہیں ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ محکمہ نے اس سال محکمہ جنگلات اور انتظامیہ کے اشتراک سے 34 مقامات پرجنگلات میںلگی آگ پر بھی قابو پایا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ 5سو 34کروڑ کی املاک کو آگ لگی تھی جس میں سے 67کروڑ کی املاک کو آگ کی وجہ سے نقصان پہنچااور 4سو 67کروڑاملاک کو بچا لیا گیا ۔محکمہ وادی بھر میں آگ بجھانے کیلئے پہنچ جاتا ہے لیکن افرادی قوت کی کمی کے سبب اہلکاروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ذرائع نے بتایا کہ وادی بھر میں 17سو اہلکار محکمہ میں کام کر رہے ہیں جبکہ ضرورت کے مطابق اُن کی تعداد ساڑھے تین ہزار ہونی چاہیے تھی۔ذرائع کا مزیدکہنا ہے کہ جو افسران یا اہلکار نوکری سے سبکدوش ہو چکے ہیں اُن کی جگہوں کو بھی پُر نہیں کیا جا رہا ہے ۔ کئی سال قبل ساڑھے 7سو اُمیدواروں کی بھرتی عمل میں لائی گئی تھی تاہم عدالت میں چند ایک نوجوانوں کی وجہ سے عرضی دائر ہونے کے بعد اس پر بھی روک لگ گئی ۔معلوم رہے کہ سنیچر کو سرینگر میں اُمیدواروں نے اس حوالے سے احتجاج بھی کیا ۔اُن کا کہنا تھا کہ 2013میں محکمہ میں قریب  7 ہزار امیدواروں نے فائر مین، ڈرائیوروں اور جونیئر اسسٹنٹ اسامیوںکیلئے جسمانی ،تحریری امتحانات میں شرکت کی، 6 برس گزر گئے تاہم ابھی تک لسٹ کا کوئی بھی نام و نشان نہیں ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ 2015میں بھرتی مہم کو سرکار نے منسوخ کیا اور بعد میں دسمبر2018میں ایک مرتبہ پھر ’’شفاف بھرتی عمل‘‘ طریقے سے دونوں امتحانات نئے سرے سے لئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ منتخب امیدواروں کا لسٹ جنوری 2019کے پہلے ہفتہ میں منظر عام پر لایا جائے گاتاہم ابھی تک کوئی بھی فہرست اجراء نہیں کی گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر منتخب امیدواروں کے لسٹ کو شائع کیا جائے کیونکہ کئی ایک امیدوار سرکاری نوکری حاصل کرنے کی عمر کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں۔محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر بشیر احمد شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ عملے کی کمی کو دور کرنے کیلئے سرکار کی جانب سے کوششیں کی جا رہی ہیں اور اُمید ہے کہ سرکار اس جانب خصوصی توجہ دے گی ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے برسوں کے مقابلے میں اس سال آگ کی وارداتوں میں کمی آئی ہے اور اس کی وجہ نئی تعمیرات میں میٹریل کا تبدیل ہونا ہے ۔فائر اینڈ ایمرجنسی ہفتہ کے حوالے سے ،انہوں نے کہا اس پورے ہفتے میں لوگوں کو آگ سے حفاظت پر جانکاری دی جائیگی جبکہ سکولوں میں بھی اس طرح کے پروگرام منعقد کئے جائیں گے ۔؎