گروپ سینٹر فدائین حملہ کیسCRPF

رتنی پورہ پلوامہ کا ایک اورنوجوان گرفتار

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر//قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)نے لیتہ پورہ سی آر پی ایف گروپ سینٹر کے حملے میں مبینہ طور ملوث ترال سے تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان کو گرفتار کیا ہے ۔ اس دوران تاحال حملے میں ضلع پلوامہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 5 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ۔مذکورہ گرفتار نوجوان کوآج خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔ ایک بیان کے مطابق این آئی اے نے ایک اور نوجوان ارشاد احمد ریشی ساکن رتنی پورہ پلوامہ کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ اس سے قبل ایجنسی نے فیاض احمد ماگرے لتہ پورہ اونتی پورہ،منظور احمد بٹ پانپور،نثار احمد تانترے ڈار گنائی گنڈ ترال اور سید ہلال اندابی رتنی پورہ پلوامہ کو گرفتار کیاگیا ہے ۔ایجنسی نے سی آر پی ایف گرپ سنٹرپر فدائین حملے کے سلسلے میں پہلے ہی ایک کیس زیر نمبر10/2018درج کر کے حملے میں مبینہ طور ملوث نثار احمد تانترے ساکن ڈار گنائی گنڈ ترال  اور سید ہلال اندرابی ساکن رتنی پورہ پلوامہ کے خلاف کیس درج کر کے مذید تحقیقات شروع کی ہے ۔ترجمان نے بتایا ارشاد جیش محمد جنگجو تنظیم کے لئے سرگرم اپر گراونڈ کے بطور کام کر رہا ہے ۔جو سابق جیش کمانڈرمحمد تانترے عرف نور ترالی کا قریبی ساتھی تھا ۔ ترجمان نے بتایا گروپ سنٹر پر جو حملہ کیا گیا تھا وہ سابق جیش کمانڈر نور محمد ترالی کی ہلاکت کا بدلہ تھا جودسمبر2017ء میں فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میںجاں بحق ہوا تھا۔ بیان کے مطابق ارشاد احمد ریشی نے سب سے بڑا رول نبھایا ۔انہوں نے حملہ آوروں کو رہنے کے لئے جگہ اور ٹرانسپورٹ فراہم کیا ۔خیال رہے لتہ پورہ میںجیش محمد سے وابستہ 3جنگجوئوں نے31جنوری 2017 کو فدائین حملہ کیا تھا  جس میں 5فورز اہلکار مارے گئے تھے اور تین جنگجو بھی جاں بحق ہوئے تھے۔
 

تازہ ترین