تازہ ترین

۔2بجے کے بعد شاہراہ پر کوئی کانوائے نہیں گذری

اتوار کو10 فورسزکانوائیوں میں شامل 364 گاڑیوں نے ٹنل پار کی

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 سرینگر // شاہراہ پر سیول ٹریفک کی پابندی نے وادی میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کردی ہے۔بارہمولہ سے ادہمپور تک بندشوں سے  لوگوں کے عبور و مرور میں جو مشکلات پیش آرہی ہیں انکے بارے میں سرکاری مشینری نے دیکھنا یا سننا بند کردیا ہے۔اس دوران پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو سی آر پی ایف کی 4کانوائیوں سمیت مجموعی طور پر 10 کانوائے میں شامل  364 گاڑیاں سرینگر سے جموں اور جموں سے سرینگر کیلئے روانہ ہوئیں لیکن دن کے ایک بجکر 15منٹ کے بعد کوئی کانوائے شاہراہ سے نہیں گذری۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر سے جموں کیلئے اتوار کو پہلی کانوائے سی آر پی ایف کی 48گاڑیوں پر مشتمل تھی اور اس نے جواہر ٹنل صبح 10 بجکر 15منٹ پر کراس کی۔دوسری کانوائے بھی سی آر پی ایف کی تھی جو 43گاڑیوں پر مشتمل تھی اور اس نے  صبح 11بجے ٹنل پار کی اور جموں کے لئے روانہ ہوئی۔جموں سے سرینگر کی طرف سی آر پی ایف کی دو کانوائے آگئیں۔ پہلی 12بجکر 45منٹ پر 42 گاڑیوں پر مشتمل اور  دوسری12بجکر 55منٹ پر 14گاڑیوں پر محیط قافلہ وادی وارد ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ اتوار کو فوج کی 6 کانوائے جموں سے سرینگر کیلئے آئیں۔ صبح 10بجکر 50منٹ پر 20گاڑیوں پر مشتمل پہلی کانوائے نے جواہر ٹنل پار کی اور سرینگر کی راہ لی۔86گاڑیوں پر مشتمل دوسری فوجی کانوائے 11بجکر 6  پر وادی وارد ہوئی۔11بجکر 45منٹ پر 25گاڑیوں پر مشتمل تیسری کانوائے،12بجکر 30منٹ پر 33گاڑیوں پر مشتمل چوتھی کانوائے،12بجکر 50منٹ پر 19گاڑیوں پر مشتمل پانچویں اور1بجکر 10منٹ پر 34گاڑیوں پر مشتمل چھٹی کانوائے ٹنل پار کر کے وادی کیلئے وارد ہوئی۔دن کے 1بجکر 15منٹ کے بعد شاہراہ پر سرینگر یا جموں سے کسی بھی کانوائے کا گذر نہیں ہوا۔ادھراتوار کی بندشوں سے ایک بار پھر نجی اور دیگر سیول گاڑی کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں تھی ۔شاہراہ کیساتھ ساتھ اگر کوی متوازن راستہ جاتا ہے تو اس پر چلنے کی اجازت دی گئی ۔ تاہم شاہراہ پرسبھی کراسنگ پوائنٹ شہر میں کھلے رکھے گئے تھے، تاہم جب کوی سیکورٹی فورسز کی گاڑی کا گذر ہوتا تھا تو ٹریفک کو روک دیا جاتا تھا۔کہیں کہیں شاہراہ پر مخصوص گاڑیوں کو اسی صورت میں چلنے دیا جارہا تھا جب اس وقت کوئی فورسز گاڑی نہیں ہوتی تھی۔عمومی طور پر اتوار کو شاہراہ پر پرائیویٹ گاڑیوں کی آمد و رفت بھی کم رہی کیونکہ زیادہ تر لوگوں نے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی۔ شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں شمال و جنوب کے درجنوں علاقے سیل رہے۔اونتی پورہ ،بجبہاڑہ اور دیگر علاقوںسے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے شاہراہ بند ہونے کے بعد پہلے ترال سے اونتی پورہ ، بعد میں اونتی پورہ سے پلوامہ اور پھر سرینگر کا راستہ لیا۔اسی طرح سے ضلع اننت ناگ، پلوامہ ،کولگام ،کے ساتھ ساتھ ٹنل کے اس پار بھی لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر بارہمولہ ، سوپور ، پٹن ، ایچ ایم ٹی کے لوگوں کو بھی شاہراہ کے ذریعے سرینگر پہنچنے میں سخت دقتیں پیش آئیں ۔بارہمولہ کے ایک شہری فاروق احمد نے بتایا کہ اُسے آج صدر ہسپتال میں اپنے بیٹے کو لیکرجانا تھا تاہم گاڑی نہ ملنے کے سبب وہ ایک نجی گاڑی میں اندرونی علاقوں سے ہو کر اسپتال پہنچا ۔