بھاجپا 1996اور 2015کو یاد کرے:محبوبہ

جب حکومت سازی کیلئے این سی اور پی ڈی پی سے رابطہ کیا

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 کولگام// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ  بھاجپا بھول جاتی ہے کہ 1996اور 2015میں کس طرح انہوں نے نیشنل بھاجپا بھول جاتی ہے کہ 1996اور 2015میں کس طرح انہوں نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی منتیں کیں تھیں۔ وزیر اعظم مودی کے بیان کہ ’نیشنل کانفرنس اور مفتی خاندانوں نے جموں وکشمیر کو تباہ کیا ہے‘ پر محبوبہ مفتی نے اپنے ردعمل میں کہا ’بی جے پی اور مودی بھول جاتے ہیں کہ 1999 میں یہی بی جے پی والے بھیک مانگنے کے لئے فاروق عبداللہ کے گھر گئے اور عمر صاحب کو منسٹر بنایا۔ اسی طرح جب 2015 میں انتخابی نتائج سامنے آئے تو مودی نے رام مادھو کو دو ماہ تک یہاں خیمہ زن رکھا۔ انہوں نے مفتی صاحب سے منتیں کیں کہ آپ ہمارے ساتھ حکومت بنائیں ہم دفعہ 370 کو نہیں چھیڑیں گے، ہم افسپا کو ختم کریں گے، ہم آپ کے پاور پروجیکٹ واپس کریں گے، پاکستان سے بات کریں گے، ہم حریت سے بات کریں گے، بی جے پی نے تمام شرطیں مانی تھیں‘۔ سری نگر ائرپورٹ پر حریت لیڈر اور معروف شیعہ لیڈر آغا سید حسن کی گرفتاری سے متعلق رپورٹوں پر محبوبہ مفتی نے کہا ’2014 میں الیکشن سے قبل کانگریس نے افضل گورو کو 28 ویں نمبر سے اٹھاکر پھانسی دی، وہ پورے ملک میں یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ہم کشمیری مسلمانوں کے ساتھ کتنی سختی کرسکتے ہیں، اسی طرح یہ جو چھاپے مارے جارہے ہیں، لوگوں کو پکڑا جارہا ہے، آغا حسن کے ساتھ آج یہ ہوا ہے، یہ صرف جموں وکشمیر کے لوگوں کو ڈرا دھماکر پورے ملک میں ووٹ بٹورنے کی سیاست ہورہی ہے، یہ اور کچھ نہیں ہے‘۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے تمام لیڈر ذہنی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے خلاف بولنے والے بھاجپا لیڈران کو ڈاکٹر کے پاس جاکر اپنا ذہنی توازن ٹھیک کرنا چاہیے۔ میں نے پہلے بھی کہا کہ امت شاہ کو ملک کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے، یہ گاندھی کا ہندوستان ہے ، یہ امت شاہ یا مودی کا ہندوستان نہیں ہے‘۔جنوبی کشمیر میں پی ڈی پی کے انتخابی جلسوں میں لوگوں کی کم تعداد میں شرکت پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا ’جنوبی کشمیر ابھی بھی ہمارا گڑھ ہے۔ لوگوں میں ابھی خوف و ہراس ہے۔ روز جھڑپیں ہوتی ہیں، اسی کی وجہ سے لوگوں میں توڑا دہشت کا ماحول ہے۔ جنوبی کشمیر میرا گھر تھا، ہے اور رہے گا‘۔