تازہ ترین

ٹریفک کی بدنظمی سے شہد کی مکھیوں سے جڑے کاروباریوں کو لاکھوں کا نقصان

گرمی کی شد ت سے شہد کی ہزاروں مکھیاں ہلاک

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد تسکین

 ڈائریکٹر ایگریکلچرجموں کے اجازت نامہ کے باوجود درجنوں ٹرک گھنٹوں روکے رکھے گئے 

  بانہال // جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک کی بدنظمی کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقع میں شہید کی مکھیوں سے لدھے دس ٹرکوں کو ادہمپور اور سانبہ میں ایک رات اور دن بھر روکے رکھے جانے کی وجہ سے شہد کی مکھیوں کے بیوپار سے جڑے درجنوں افراد کو لاکھوں روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ جموں سرینگر شاہراہ اور ٹول پلازہ وغیرہ پر شہد کی مکھیوں سے لدھی گاڑیوں کو وادی کشمیر کی طرف ہجرت کے دوران بغیر کسی روک ٹوک کے ترجیحی بنیادوں پر چلنے کی اجازت دینے کیلئے ڈائریکٹر ایگریکلچر جموں کی طرف سے ڈپٹی کمشنر رام بن اور ادہمپور کے علاوہ ٹریفک پولیس اور دیگر ایجنسیوں کو ایک خط کے ذریعے پہلے ہی مطلع کیا ہے لیکن 11 اپریل کی دوپہر بعد سے سے 12 اپریل کی دوپہر تک شہید کی مکھیوں سے لدھی دس گاڑیوں کو ادہمپور اور سانبہ کے درمیان روک دیا گیا اور ڈائریکٹر کے طرف سے جاری کئے گئے سرکاری حکمنامے کی طرف وہاں موجود ٹریفک حکام نے کوئی توجہ نہیں دی جو شہد کی مکھیوں کے کاروبار سے جڑے افراد کیلئے لاکھوں روپے کے نقصان کی وجہ بنا ہے۔ بی کیپرز ایسوسی ایشن بانہال کے صدر فاروق احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں کے میدانی علاقوں میں سردیاں گزارنے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں بی کیپرز شاہراہ پر سالانہ مائیگریشن کیلئے سردیوں میں جموں کا اور گرمیوں میں کشمیر کا سفر کرتے ہیں مگر ہر سال ہمارے ساتھ شاہراہ پر موجود ٹریفک اہلکار زیادتی کرتے ہیں اور ہر سال ہمیں روک کر نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 اپریل کو اعلان کیا گیا کہ 11 اپریل کو جموں سے وادی کشمیر کی طرف ٹریفک کو چلنے کی اجازت ہوگی اور انہوں نے ٹریفک پولیس کے اس اعلان کے بعد شہد کی مکھیوں سے لدھی پیٹیوں کو دس ٹرکوں میں لوڈ کیا لیکن 11 اپریل کی دوپہر سے 12 اپریل کی دوپہر بعد تک ہماری چھ گاڑیوں کو سانبہ اور ادہمپور کے درمیان کئی مقامات پر بلاوجہ روک دیا گیا جس کی وجہ سے گرمی کی شدت سے ہزاروں کی تعداد میں شہد کی مکھیاں ماری گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر ایگریکلچر جموں کی طرف سے ایک خط زیر نمبر 97-108 مورخہ 08-04-2019 کو ڈپٹی کمشنر ادہمپور اور ڈپٹی کمشنر رام بن ضلع کو مخاطب کرکے لکھا گیا ہے جس میں ٹریفک پولیس اور دیگر ایجنسیوں اور محکمہ کے چیف ایگریکلچر افسروں سے کہا گیا ہے کہ شہد کی مکھیوں کے روزگار سے جڑے ہزاروں لوگ سالانہ مائیگریشن کے سلسلے شہد کی مکھیوں کو لیکر جموں کے میدانی علاقوں سے وادی کشمیر کے پہاڑوں کی طرف جارہے ہیں چونکہ شہد کی مکھیاں نہایت ہی نازک ہوتی ہیں اور گرمی سے مر سکتی ہیں اس لئے شاہراہ پر کسی بھی ناکہ ، چیک پوسٹ اور ٹول پلازہ پر ایسی گاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر چلنے کی اجازت دی جائے اور تین گھنٹوں سے زیادہ دیر تک روکے نہ رکھا جائے کیونکہ گرمی کے دوران اس صورت میں ان مکھیوں کی ہلاکت ہوسکتی ہے۔ انہوں کہا کہ اس سرکاری احکام کو سانبہ اور ادہمپور میں ٹریفک اہلکاروں نے ماننے سے انکار کیا اور کشمیر کی طرف جانے والی ہزاروں شہد کی مکھیاں تقریباً اٹھارہ گھنٹوں تک روکے رکھنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کاروبار سے جڑے لاکھوں روپے کے نقصان کیلئے ٹریفک عملہ اور ٹریفک کی بدنظمی ذمہ دار ہے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور نقصانات کے ذمہ داروں سے جواب مانگاجائے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ ٹریفک پولیس کے اس رویہ کا سخت نوٹس لیا جائے اور آئندہ کیلئے بلاوجہ کی اس روک ٹوک پر پابندی عائد کردی جائے تاکہ غریبوں کو انسانی دخل کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے بچایا جاسکے۔اس سلسلے میں بات کرنے پر پولیس کنٹرول ٹریفک کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لائیو سٹاک اور سبزیاں وغیرہ بغیر کسی تاخیر کے چھوڑ دی جاتی ہیں تاہم شاہراہ پر ناشری اور بانہال کے درمیان ٹریفک جام اور رات کے ٹریفک کی وجہ سے معمول کا ٹریفک متاثر ہوجاتا ہے اور ایسے واقعات شاہراہ پر ٹریفک چلانے میں پیش آنے والی مشکلات کی صورت میں ہی پیش آتے ہیں کیونکہ پسیوں کے گرنے اور ٹریفک جام کی وجہ سے ٹریفک پلان بابار متاثر ہوجاتا ہے۔