!!!۔35اے؍کی مجوزہ منسوخی

رُ ک نہیں سکتا سفر سورج کارات سے

15 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مافی الضمیرحسیب درابو مترجم ارشد حسین
2019 لوک سبھا الیکشن کے لئے ملک بھر میں انتخابی مہم اپنے جوبن پر ہے۔ بھاجپا لیڈر شپ کی طرف سے با لخصوص انتخابات سے قبل جب بھارتی آئین کی دفعہ370یا 35Aکو کالعدم کرنے کی ملکی عوام کو یقین دہانیاں اور وعدے کئے جارہے ہوں تو اسے زیادہ سنجیدگی سے لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کے عوام کواس حوالے سے اگر کوئی ردعمل دکھانے کی ضرورت ہے تووہ یہی ہو ناچاہئے کہ بھاجپا اور اس قبیل کی پارٹیوں کوجوآئین کی متذکرہ دفعات کی منسوخی کے زعم ِباطل میں مبتلا ہیں ،کو عملی طور ایسا کردکھانے کا چلینج دیا جانا چاہئے۔  2014ء  میں جب پرائم منسٹر آفس میں بہ حیثیت وزیر مسٹر جتندر سنگھ نے یہی ہرزہ سرائی کی تو میں نے اس وقت بعینہ یہی طرز عمل اپنایا ۔ جب سے لے کر آج تک پانچ سال کا عرصہ گزر گیاہے،دفعہ 370اور 35Aبھارتی آئین میں اپنے مقام پر بہ نفس نفیس جوں کی توں سالم و ثابت ہے اور جتندر سنگھ بھی دفتر مذکورہ میں اسی کرسی پر تاایں دم براجمان ہیں،لیکن جب ارون جیٹلی جیسے باوقار اور عالم و فاضل کہنہ مشق سیاسی لیڈر ان دفعات کو بھارتی آئین سے کالعدم کرنے کی بات کھلے عام کریں تو اُس وقت اس گفتنی کولازمی طور سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔اپنے آن لائن بلاگ میںمو صوف کچھ یوںر قم طراز ہیں :’’ دفعہ35A؍ کوبھارتی آئین میں بڑی’’ رازداری‘‘ کے ساتھ شامل کیا گیا ہے‘‘ اور اسے ایک ’’ فاش تاریخی غلطی قرار دیتے ہیں جو پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھوںانجام دی گئی ہے۔ مذکورہ دفعہ کو بھارتی آئین میں شامل کرنے کو ’’فاش غلطی ‘‘قرار دینے پر ارون جیٹلی کے ساتھ تو کوئی مجادلہ آرائی نہیں کی جاسکتی۔یہ موصوف اور اُن کے ہم خیال دوسرے لوگوں کی ایک رائے ہوسکتی ہے جس کی بنیاد نہ صرف ایک مخصوص نظریہ بلکہ بھارتی تاریخ کی ایک خاص تفہیم اور بھارتی سیاست کی تئیں ایک نقطہ نگاہ پر منحصر ہے، لیکن آرٹیکل 35A؍کی تاریخ کو مسخ کرنا اور اسے بھارتی آئین میں ’’دھوکہ و فریب‘‘ کے ساتھ شامل کرنے کی ارون جیٹلی کی لن ترانی پراسے محض ایک رائے مان کرتسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست جموں کشمیر کو ان دفعات کی وساطت سے حاصل خصوصی امتیاز اور انفرادیت کو کالعدم کرنے کے اقدام سے سیاسی نتائج کو ایک طرف رکھ کر سنگین نوعیت کے آئینی نتائج و مضمرات بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔ اسے بھارتی آئین کی عکاسی اس نوعیت کی ظاہر ہوگی گویا کہ اس میںمن چاہا رد و بدل اور ملاوٹ کرکے  پلید کردیا گیا ہو۔   
بھارتی آئین کی دفعہ 35A؍ کی رُو سے حکومت جموں وکشمیر کو دو امورات کا خصوصی ومنفرداستحقاق حاصل ہوتا ہے: ایک یہ کہ یہ دفعہ جموں و کشمیر میں رہنے والے لوگوںکوریاست کا پشتینی باشندے ہونے کی اہلیت کی وضاحت کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ یہ حکومت کو اس امر کا اختیار عطا کرتا ہے کہ وہ ریاست کے ان پشتینی باشندوں کو ریاست کے اندر سرکاری نوکری اور غیر منقولہ املاک و جائیداد کے حصول کے تعلق سے خصوصی حقوق و استحقاق مرحمت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی آئین کی یہ دفعہ ان خصوصی حقوق و اختیارات کو کسی قانون سازی کے ذریعے سے منسوخ کرنے سے تحفظ فراہم کر تا ہے۔ دفعہ 35A؍بھارتی آئین میں 1954ء میں ایک صدارتی حکم نامہ کے ذریعے سے شامل کیا گیا ہے ، مذکورہ حکم نامہ آئین کی دفعہ370؍کے تحت اجراء کیا گیا ہے۔دفعہ35A؍کو آئین میں شامل کرنا غیر مبہم ، شفاف اور ٹھیٹ آئینی عمل ہے۔ جموں و کشمیر دستور ساز اسمبلی کی بنیادی اصول و امورات سے متعلق کمیٹی جسے1951ء میں قائم کیا گیاتھا، نے اپنی رپورٹ دستورساز اسمبلی کے سامنے فروری 1954میں پیش کیا تھا۔ رپورٹ کے ساتھ حصہ کے طور پر ایک فہرست مرتب کی گئی تھی جس میں بھارتی آئین کی ان دفعات کی نشاندہی کی گئی تھی جن کا ریاست جمو ں و کشمیر میں اطلاق کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ان دفعات میں بھارتی آئین کی دفعہ1؍اور دفعہ370؍ کے علاوہ دفعہ35A؍بھی شامل تھا۔ یہ ایک دلچسپ امر اور حُسن اتفاق کی بات ہے کہ بنیادی اصول وامورات سے متعلق کمیٹی کی تیار کردہ فہرست کو حکومت ہند کو بھیجنے کی تجویز گرداری لال ڈوگرہ نے پیش کی تھی۔ واضح رہے کہ گرداری لال ڈوگرہ ارون جیٹلی کے والد نسبتی تھے۔یہ فروری 1954ء کا زمانہ تھا اور اس کے ٹھیک تین ماہ بعد ایک صدارتی حکم نامہ دفعہ370؍کے زیر تحت جاری کیا گیا جس کے ذریعے سے دیگر دفعات کے ساتھ دفعہ 35A؍کو بھی بھارتی آئین میں شامل کیا گیا، جس کلیدی دفعہ کے تحت 35A؍ کو آئین میں شامل کیا گیا یعنی دفعہ370 ؍ اس پر بھارتی دستور ساز اسمبلی میںپوری تفصیل کے ساتھ پانچ مہینے سے زیادہ عرصہ تک بحث و تمحیص جاری رہا ، تب جاکے اسے بھارتی آئین کا حصہ بنا یا گیا۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ جب دفعہ 35A؍اور دیگر دفعات کو بھارتی آئین میں شامل کرنے کے لئے یہ آئینی عمل جاریہ تھا اور اس کے بعد اپنے انجام کو پہنچا ۔ اسی اثناء میں اس کے متوازی ا س سے متعلق سیاسی عمل بھی جاری و ساری تھا۔ آئینی اور سیاسی عمل کے ایک ساتھ مکمل ہونے پر بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور جموں و کشمیر کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ نے معاہدہ طے کرکے با ضابطہ طور اس پر اپنے دستخط ثبت کئے۔ پنڈت نہرو نے اس معاہدے کو اپنی یاداشت میں 20؍جولائی1952ء کی تاریخ میں ریکارڈ کیا ہے۔ مذکورہ معاہدے کے شرائط ،جن کے اندر اختیارات کی تقسیم کی تفصیل درج تھی ،کو لوک سبھا کے سامنے پیش کیا گیا ۔شیخ عبداللہ نے اپنی طرف سے معاہدے سے متعلق تفاصیل کو جموں کشمیر کی دستورساز اسمبلی کے سامنے پیش کیا ۔ شیخ صاحب کی مذکورہ تقریر جموں وکشمیر کی تاریخ میںایک معروف اور یاد گار تقریر کے نام سے جانی جاتی ہے ۔   
دفعہ35A؍کو بھارتی آئین میں شامل کرنے کی اس آئینی عمل کو جعلی قرار دینے کا مطلب ارون جیٹلی کے نزدیک شاید یہ ہو گا کہ اس دفعہ کو بھارتی آئین کی دفعہ 368؍ کے تحت وضع کردہ طریقہ کار کے برعکس ایک غیر معروف ترمیمی لائحہ عمل کے ذریعے سے متعارف نہیں کیا جاسکتا ۔اگر دفعہ368؍کے تحت ہی اسے متعارف کرنا مطلوب تھا تو یہ ایک باریک آئینی تکنیکی معاملہ ہے۔ اس معاملہ کی باریکی کو سمجھنے کے حوالے سے ملک کے چوٹی کے آئینی ماہر اور بھارت اور جموں وکشمیر کے مابین آئینی تعلق میں مہارت رکھنے والی شخصیت اے جی نورانی کی رائے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے ،جس کا حوالہ دئے بغیر شاید ہی اس معاملے کی تفہیم کے ساتھ انصاف کیا جاسکتا ہے۔اے جی نورانی کی رائے کے مطابق ’’ دفعہ35A ؍ بھارتی آئین کی دفعہ 370؍ کے تحت محض ایک انتظامی حکم نامہ نہیں ہے بلکہ یہ بذات خود ایک آئینی دفعہ ہے، ایک معاہدہ ہے جو دونوں بھارت اور جموں و کشمیر کے آئین میں درج ہے،کوئی عدالت اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرسکتی ہے۔۔۔۔‘‘  
اب جیسا بھی ہے ، بالفرض محال اگر دفعہ 35A؍کو کالعدم کیاجاتاہے ، کیا اس کی منسوخی کے بعد غیر ریاستی باشندے(بھارتی شہری) جموں و کشمیر میں زمین و جائیدار خرید سکتے ہیں؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔مذکورہ دفعہ کی منسوخی سے صورت حال میں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی ہے، جیسا کہ اے جی نورانی اس امر واقع کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت جموں و کشمیر کی 1927ء کی نوٹیفکشن جو غیر ریاستی باشندوں کو جموں وکشمیر میں نوکری اور زمین کے مالکانہ حقوق کے حصول پر پابندی عائد کرتی ہے، جموں کشمیر کے آئین کا جزوء لاینفک ہے۔فی الواقع اگر دفعہ35A؍کو بھارتی آئین سے منسوخ کیا جاتا ہے ، اس کے نتیجے میں ان تمام حکم ناموں کو کالعدم قرار دینے کی راہ ہموار ہو جائے گی جو 17؍نومبر1956ء کے بعد جاری کئے گئے ہیں اور جن کے ذریعے سے بھارتی آئین کو جموں و کشمیر میں نا فذ العمل بنایا گیاہے ،جب ریاست جموں وکشمیر کی دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کردی گئی تھی۔ قانونی لوازمات اور معاملات کی بابت اب اگر یہ مانا بھی جائے کہ صدارتی حکم نامہ جو دفعہ35A؍کو آئین کے اندر شامل کرتا ہے اور جو ریاستی دستور ساز اسمبلی کی سفارش کردہ تھا ، یہ کسی قانونی اختیار کے بدون ہے ، تب وہ تمام صدارتی حکم نامے جو ریاستی دستور ساز اسمبلی کی رضامندی اور منظوری کے بغیر اجرا ء کئے گئے ہیں ، سرے سے ہی غیر قانونی ہیں۔ یہ صورت حال جموں و کشمیر کو واپس ظاہری خود مختار ریاست کے درجہ پر لے جائے گی جہاں اس کا اپنا وزیر اعظم اور صدر ریاست ہو گا۔جموں و کشمیر کا باشندہ اس کے بعد بھارت کا شہری نہیں رہے گا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بھارتی شہریوں کا جموں و کشمیر میں داخل ہونے پر پابندی عائد ہو جائے گی۔ بھارت سے آنے والا مال و اشیاء کو چنگی محصولات کی بندشوں سے گزرنا پڑے گا اور اس پر ایمپورٹ ڈیوٹی عائد ہوگی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جموں وکشمیر کے لوگوں پر قانونی پابندی لازم نہیں آئے گی کہ وہ بھارت کی سا  لمیت اور اقتدار اعلیٰ کو قبول کریں اور خود بخود اس کے آئین کی پیروی سے بری الذمہ ہو جائیں گے۔ اس صورت میں سب سے بڑی دلچسپ اورمضحکہ خیز بات یہ ہو گی کہ ریاست جموں کشمیر وہ طبقہ جو ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کو فرضی قرار دیتے ہیں اور علٰحیدگی پسندی کے حا مل ہیں ،حقیقی طور بلا کسی تاخیر اور چٹکی کے مین اسٹریم بن جائیں گے۔
   دفعہ370؍اور35A؍ کی ہیئت 1954ء میں بھارتی آئین میں شامل ہونے سے لے کر آج کی تاریخ تک بہت متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ کشمیر اور کشمیریوں کے لئے موجودہ صورت میں یہ دفعات کوئی موت وحیات کا معاملہ نہیں ہیں، البتہ بھارت کے لئے بہ حیثیت ایک وفاق کے یہ عوام کے لئے ایک بقائے انفرادیت کا معاملہ ضرور ہے۔ اگر دفعہ 35A؍کو منسوخ کیا جاتا ہے تو یہ بنیادی آئینی تشریحات کے ساتھ متصادم ہوگااور جموں وکشمیر کے ساتھ دوسری ریاستوں کے ساتھ طے شدہ عہدو پیمان کوزک پہنچائے گا، جو بھارتی وفاق کے اندر مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ یہ اقدام بھارتی وفاق کوتتر بتر کرنے کے سلسلہ کا آغاز ہو گا۔
 نوٹ : مضمون نگار ریاست کے سابق وزیر خزانہ ہیں۔ 
