کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

12 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
سوال:۔ قران کریم میںحکم ہے کہ استعمال کی چیزیں ایک دوسرے کو دیا کرو۔ آج کل انسان کے پاس قیمتی مشینیں اور آلات ہوتے ہیں۔ جن کے استعمال میں کلی یا جزوی سطح پر تکنیکی تربیت یا تجربہ درکار ہوتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں اگر ان چیزوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو کیا جانا چاہئے تاکہ حکم قران کی عدولی نہ ہو اور نقصان سے بھی چاجاسکے۔ قران وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟
احمد کشمیری
جواب:۔ قران کریم میں ایک جگہ بڑی خرابی کی وعید ویلُ‘ کے لفظ سے بیان کی گئی ہے اور یہ خرابی نمازوں میں سستی کا ہلی غفلت اور اوقات کی پابندی نہ کرنے والوں کے لئے ہے اور ریاکاری کرنے والوں کے لئے ہے اور یہ خرابی اُن لوگوں کے لئے بھی ہے جو ماعون کو روکتے ہیں… سورہ الماعون
ماعون کی دو تفسیریں ہیں,ایک زکوٰۃ اور دوسرے عمومی استعمال کی گھریلو اشیاء ۔اب معنی یہ ہونگے کہ خرابی ہے زکوٰۃ روک کر رکھنے والوں کے لئے اور خرابی ہے گھریلو استعمالی اشیاء پڑوسیوں سے روک کررکھنے والوں کے لئے ۔اس کی مراد یہ ہے کہ گھروں کی وہ چھوٹی موٹی چیزیں جو ایک دوسرے کو استعمال کے لئے لینے دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً برتن، بسترے اور آج کل استری، سوئی دھاگا، آلات زراعت، کلہاڑی بسولہ ، گینتی، رسی، درانتی وغیرہ ایسی چیزیں استعمال کرنے سے عام طور پر خراب نہیں ہوتیں۔ ایسی اشیاء کی ضرورت پڑتی ہے تو جو لوگ اپنے ہمسایوں یارشتہ داروں کو یہ چیزیں بغرض استعمال دینے میں بخل کرتے ہیں اُن کے لئے خرابی کی وعید بیان کی گئی۔اگر کوئی نازک چیز ہو یا ایسی چیز جس کے استعمال کے لئےتکنیکی مہارت کی ضرورت ہو اور مانگنے والے کے ہاتھوں خراب ہونے کا ظن غالب ہو تو ایسی چیز روک لینے پر خرابی کی وعید نہیں ہوگی۔
اس کی مثال یہ ہے کہ کسی پڑوسی نے گاڑی مانگی اور وہ گاڑی چلانے کا ماہر ہے اور یقین ہے کہ وہ گاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہونچائیں گے ،پھر گاڑی دینے سے انکار کر دیا تو ایسی صورت میں خرابی کی وعید ہوگی لیکن اگر خود گاڑی کی ضرورت تھی اس لئے انکار کیا یا گاڑی مانگنے والے کے متعلق ظن غالب یا یقین ہے کہ وہ خرابی کرے گا یا نقصان پہنچائے گا۔ اس لئے انکار کردیا تو اس صورت میں خرابی کی وعید نہ ہوگی۔اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ قرآن کے حکم سے اعراض کیا گیا۔ یا مثلاً پڑوسیوں یا رشتہ داروں نے کہا کہ ہم کو چند دن کیلئے واشنگ مشین یا جنریٹر، یا فریج دو یا ٹرانسفارمر مانگ لیا۔اور یہ چیز دینے میں کوئی حرج بھی نہ ہو اور ان اشیاء کے خراب ہونے کا بھی اندیشہ نہ ہو اور مانگنے والے کے متعلق یقین ہو کہ وہ احتیاط سے ان کا استعمال کرے گا ۔ تو پھر یہ چیزیں روک لینا اُس وعید کے ذیل میں آئے گا، جو قرآن کریم میں ارشاد ہوئی ہے ۔ اگرخود ضرورت ہو، اس لئے انکا رکیا یا خرابی ہونے کا یقین ہو یا پھراس سے پہلے انکی بے احتیاطی کی بنا پر نقصان پیش آنے کا تجربہ ہو چکا ہو تو  انکار کرنے پر وہ وعید نہ ہوگی جوقرآن مجید میں ارشاد ہوئی ہے۔ انکار کی وجہ سے پڑوسیوں کے درمیان غلط فہمیاں ، تلخیاں ، دوریاں اور ناراضگی کے جذبات پید ا ہوتے ہیں اس لئے ایسے انداز سے معذرت کرنی چاہئے کہ ناراضگی پیدا نہ ہو یا کم ہو۔یعنی حسن اداوحسن طرز سے معذرت کی جاے نہ کہ تلخ انداز میں انکار ۔
سوال:۔ زکوٰۃ ہر ایسے مسلمان پر فرض ہے کہ جو صاحب نصاب ہو۔ اب اگر کسی کے پاس مال ہے اور اس میں ایک حصہ حرام ہے اور زیادہ تر حصہ حلال ہے اور دونوں کو ملا کر صاحب نصاب کی رقم بن جاتی ہے تو کیا اس شخص پر زکوٰۃ دینا لازم ہے اور اگر نصف آمدنی حرام اور نصف آمدنی حلال ہے اور دنوں ملاکر صاحب نصاب کی رقم بن جاتی ہے تو کیا اس شخص کو زکوٰۃ دینا لازم ہے رہنمائی فرمائیں؟
ابرار احمد 

حرام کو حلال کے ساتھ ملا کرزکوٰۃ نکالنے پر حرام مال حلال نہیں ہوسکتا

جواب:۔ جس شخص کے پاس کچھ مال حلال اور کچھ حرام ہو اس شخص پر لازم ہے کہ حرام مال فوراً الگ کر دے ۔نہ خود استعمال کرےنہ قرضہ میں دے اورنہ کسی کو بطور قرض دیدے اور نہ ہی ا ُس سے کسی کو کوئی ہدیہ یا عطیہ دے کیونکہ  اس حرام مال پر کوئی زکوٰۃ لازم نہیں ۔اب اس کے بعد شرعی طور پر اس حرام مال کو اصل مالک تک پہونچانا لازم ہے۔اگر اصل مالک کوئی اور ہے مگر اُس تک پہونچانا ممکن نہ ہو تو یہ مال اُس کی طرف سے صدقہ کرے اور ساتھ حرام طریقے سے یہ مال لینے کے جرم کی بنا پر توبہ و استغفار بھی کرے۔اگر یہ حرام مال کسی دوسرے انسان کا حق نہیں مثلاً شراب کی آمدنی ہے یا چرس کا بزنس کیا اور یہ رقم حاصل کی تو چونکہ یہ کسی اور کی ملکیت نہیں ،اسلئے یہ رقم بغیر صدقہ کی نیت کے غرباء ،فقراء، خصوصاً اسپتالوں کے پریشان حال مریضوں پر خرچ کی جائے اور ساتھ ہی توبہ بھی کرنا ضروری ہے۔
اس حرام مال کو الگ کرکے بقیہ حلال مال اگر نصاب کے بقدر ہے تو اس کی زکوٰۃ لازم ہوگی اور نصاب سے کم ہے تو زکوٰۃ لازم نہ ہوگی۔حلال و حرام ما ل مخلوط ہو اور اس مخلوط رقم کی زکوٰۃ نکالی گئی تو اس سے وہ حرام مال حلال نہیں بن سکے گا ۔ یہ شیطانی دھوکہ ہے کہ کوئی یہ سمجھے کہ حرام مال کو حلال سے ملا کر زکوٰۃ کرنے سے وہ حرام حلال بن جائے گا۔
سوال:۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی مسجد شریف میں امام صاحب قرأت شروع کرتے ہیں تو کسی نہ کسی کے فون کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔ بہت سارے اصحاب کو یہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ وہ فون جیب سے نکالتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کال کس نے کی ہے یا یہ مسیج(Message) کہاں سے آئی ہے، پھر فون بند کرکے جیب میں ڈالتے ہیں ۔ براہ کرم یہ فرمائے کہ کیا نماز میں ایسا کرنا صحیح ہے۔ اس سے نماز میں کوئی خلل تو نہیں پڑتا ہے؟
سوال:۔ ثواب دارین حاصل کرنے کیلئے ہم قرآن شریف۔ دلائل الخیرات۔ حزب البحر، حزب الاعظم۔ مناجات مقبول، اوراد قادریہ، اوراد فتحیہ وغیرہ کی روز تلاوت کرتے ہیں ۔ان کے علاوہ بھی چند ایک کتابوں کا حوالہ دیجئے جن کی تلاوت سے ثواب کمائیں جاسکتے ہیں؟
محمد اسلم سہروردی 

نماز میں بجتے موبائیل کو سنبھالنے کا مسئلہ 

جواب:۔ نماز شروع کرنے سے پہلے موبائل کا سوئچ بند کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ بھول جائے تو پھر نماز کے دوران اگر کال آگئی تو جیب میں ہی ایک ہاتھ سے موبائل کا سوئچ بند کر دیا جائے۔ اگر جیب میں سوئچ آف نہ کیا جاسکتا ہو تو ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر دیکھے بغیر سوئچ آف کر دیا جائے۔ اس صورت میں نماز میں کوئی خلل یا خرابی نہ ہوگی۔ اس لئے کہ یہ عمل قلیل ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نماز کے دوران مکھی یا مچھر کو ہٹایا گیا۔ حضرت نبی کریم علیہ السلام نے نماز میں ایک ہاتھ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اور یہ واقعہ تو بخاری شریف میں ہے کہ آپ نے تہجد کی نماز میں حضرت ابن عباسؓ کو بائیں سے دائیں طرف کھینچا تھا۔ اگر کسی نے موبائل کی کال آنے پر جیب سے موبائل نکال لیا پھر یہ دیکھا کہ کوئی کال ہے یا مسیج ہے اور پھر یہ سب کچھ دیکھ کر بند کر دیا تو اس دیکھنے پڑھنے اور پھر بند کرنے کے تین کاموں کا مجموعہ عمل کثیر ہے اور جب نماز میں عمل کثیر کیا جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ایسی صورت میں نئے سرے سے تکبیر تحریمہ پڑھ کر نمازمیں شرکت کی جائے اور اس تحریمہ سے پہلے جتنی نماز ہوئی تھی اس کو فاسد سمجھا جائے۔

تلاوتِ قرآن دنیا و آخرت میں عظیم انعامات کا سبب

جواب:۔ قرآن کریم کی تلاوت جتنی زیادہ کی جائے اتنا بہترو افضل اور بہت ہی اجر و ثواب کا عمل ہے ۔ دلائل الخیرات الحزب الاعظم، مناجات مقبول اور اوراد شریف مسنون دعائوں کے مجموعہ ہیں۔ ان کا پڑھنا بھی باعث اجر ہے۔اور کوئی کتاب ہو تو اس میں بھی یہی دعائیں ہونگی اس لئے اگر مزید کچھ اور پڑھنا چاہیں تو مزید کسی کتاب کے انتخاب کے بجائے تلاوت کی مقدار بڑھائی جائے ،جو بہر حال افضل ہے۔ اگر تسبیحات ،تحمیدات و تہلیلات کی مقدار زیادہ کی جائے تو یہ بھی عبادت ہے اور اس کے ساتھ درود شریف زیادہ سے زیادہ حتیٰ کہ ہزاروں کی تعداد میں روزانہ پڑھنے کامعمول دنیا و آخرت کے عظیم انعامات کا ذریعہ ہوگا۔
سوال:اگر زوجہ کو میکے یا کسی اور رشتہ دار کے گھر جانا ہو تو وہ شوہر کے بجائے ساس سسر سے اجازت لیتی ہے اور ساس سسر بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان سے ہی اجازت لے۔ کبھی کبھار شوہر کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اجازت دینے کا حق شوہر کو ہے یا ساس سسر کو؟
منصور احمد 

بڑوں کے پاس لحاظ سے گھر کا نظام محبت پر قائم ہوتا ہے

جواب: زوجہ کا اصل رشتہ اپنے شوہر کے ساتھ ہوتا ہے اور شوہر کے ہی توسط سے اس کا رشتہ ساس سسر کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس رشتہ میں بنیادی حقوق زوجین کے ہوتے ہیں اور دونوں ان حقوق کے پورا کرنے کے مکلف ہیں۔ اس لئے اگر زوجہ کو میکے جانا ہو تو شوہر سے اجازت لینا اُس کا فریضہ ہے۔ اس لئے کہ میکے جانے پر اصل حق تلفی اگر ہوسکتی ہے تو وہ شوہر کی ہوگی۔ اس لئے اجازت بھی اُسی سے لینا ضروری ہے۔
ہمارے معاشرے میں والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اجازت دینے کا حق اُن کو ہے نہ کہ بیٹے کو۔ یہ سمجھنا درست نہیں ہے۔ اگر بیٹے کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو کہ اس کی زوجہ ساس سسر سے اجازت لینے کی روش اپنائے تو پھر زوجہ کو ساس سسر سے اجازت لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر بیٹے کو اس پر اعتراض ہو تو پھر والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی بہو کو تلقین کریں کہ اگر شوہر کی رضامندی ہو تو ہماری طرف سے بھی اجازت ہے۔ دراصل اس معاملے میں وسعت ظرفی اپنانے کی ضرورت ہے۔ زوجہ شوہر کو بھی اعتماد میں لے کر اُس کی رضامندی کے بعد گھر کے بڑوں ساس سسر سے ان کے بڑے پن کا لحاظ رکھ کر رخصت لے اس طرح گھر کا نظام اعتماد اور محبت پر قائم رہے گا۔
سوال:۱-بہت سارے نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ اُنہیں بہت بُرے بُرے خیالات آتے ہیں ۔ میرا حال بھی ایسا ہی ہے۔ یہ خیالات اللہ کی ذات کے بارے میں ،حضرت نبی علیہ السلام کے متعلق ، ازواج مطہراتؓ کے متعلق ،قرآن کے متعلق ہوتے ہیں۔اُن خیالات کوزبان پر لانا بھی مشکل ہے ،اُن خیالات کو دفع کرنے کے جتنی بھی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی وہ دل میں ،دماغ میں مسلط ہوتے ہیں ۔اب کیا یا جائے ؟
کامران شوکت 

بُرے خیالات: شیطان وہیں حملہ کرتاہے جہاں ایمان کی دولت ہو

جواب:۱-بُرے خیالات آنا دراصل شیطان کا حملہ ہے۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابیؒ نے یہی صورتحال عرض کرکے کہاکہ یا رسول اللہ ؐ میرے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ اگر میں اُن کو ظاہر کروں تو آپؐ ہم کو کافر یا منافق قرار دیں گے ۔اس پر حضرت ؐ نے ارشاد فرمایا کہ واقعتاً تمہارے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں ؟ عرض کیا گیا کہ ہاں ایسے خیالات آتے ہیں۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایمان کی علامت ہے ۔ عرض کیا گیا کیسے ؟تو ارشاد فرمایاچور وہاں ہی آتاہے کہ جہاں مال ہوتاہے ۔ جب ایسابُرے خیال آئیں تو باربار استغفار اور لاحول پڑھنے کا اہتمام کریں اور اپنے آپ کو مطمئن رکھیں کہ یہ آپ کا اپنا خیال ہے ہی نہیں ۔ آپ کاخیال تو وہ ہے جو آپ کی پسند کے مطابق ہو ۔ یہ خیال آپ کو نہ پسند ہے نہ قبول ہے تو اس کا وبال بھی آپ کے سر پر نہیں ہے ۔