غزلیات

7 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

میری پلکوں پہ نئے دیپ جلانے آئے 
میرے آنسو ہی مرا ساتھ نبھانے آئے
ہم تو جسموں کی کبھی کرتے نہیں ہیں پوجا 
دل کے قدموں پہ  فقط پھول چڑھانے آ ئے 
کچھ نئے خواب نگاہوں کے نگر میں ٹوٹے 
حوصلے پھر مرے تعبیر بتانے آئے 
تیری پلکوں پہ کبھی اشک نہ دیتے دستک  
تیری آنکھوں سے فقط سرمہ چرانے آئے 
استعاروں کے شوالے میں عقیدت سے اب 
چند بیتابِ سخن دیپ جلانے آئے 
اس کی آنکھوں میں مرے اشک سماتے کیسے 
میرے آنسو تو یہاں عید منانے آئے 
ہم نے آواز تو پھولوں کو فقط دی عادل ؔ
خار ہی ہم سے مگر ہاتھ ملانے آئے 
 
اشرف عادل ؔ
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر 
موبائل نمبر؛9906540315
 
 
طبعیت کو تمہاری کیا ہوا ہے
مجھے بتلاؤ آخر کیا ہوا ہے
علاجِ مرض خود ہی مرض ٹھہرا
میں آخر کیا کہوں کہ کیا ہوا ہے
 کلامِ  زیست کا یہ شعر آخر
بھلا کس بحر میں لکھا ہوا ہے
پریشانی کا باعث بس وہی ہے
کہ جس ہاتف نے دل رکھا ہوا ہے
اسے میں کس زباں سے کیا کہوں جو
دلِ بے چین کو پرکھا ہوا ہے
 کہانی یوں الجھتی جارہی ہے
کہ ہر کردار ہی الجھا ہوا ہے
 
ڈاکٹر ظفر اقبال
موبائل نمبر؛+966538559811
بلجرشی الباحہ سعودی عرب
 
 
بغض و کینہ کو دل سے مٹایا کرو
پیار کا دیپ دل میں جلایا کرو
بات دل کی زباں پر سجایا کرو
دل بہل جائے گا مسکرایا کرو
اپنے چہرے سے پردہ اٹھایا کرو
حسن کی بجلیاں تم گرایا کرو
اک زمانے سے پیاسا ہوں دیدار کا
 میں تڑپتا ہوں جلوہ دکھایا کرو
نیند آتی نہیں ہے مجھے اے صنم
اپنی بانہوں میں مجھ کو سلایا کرو
تشنگی میری باقی رہے کیوں بھلا
ان نگاہوں سے مجھ کو پلایا کرو
 میرے رونے پہ ہنسنا مناسب نہیں
آگ پانی میں یوں مت لگایا کرو
غم کا چارہ نہیں اور اس کے سوا
چین آجائے ان کو بلایا کرو
آج بسملؔ نہیں ہے تجھے کیوں سکوں
 مجھ کو میرے صنم سے ملایا کرو
 
 پریم ناتھ بسملؔ
مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار
موبائل نمبر؛8340505230
 
 
میری پلکوں پہ نئے دیپ جلانے آئے 
میرے آنسو ہی مرا ساتھ نبھانے آئے
ہم تو جسموں کی کبھی کرتے نہیں ہیں پوجا 
دل کے قدموں پہ  فقط پھول چڑھانے آ ئے 
کچھ نئے خواب نگاہوں کے نگر میں ٹوٹے 
حوصلے پھر مرے تعبیر بتانے آئے 
تیری پلکوں پہ کبھی اشک نہ دیتے دستک  
تیری آنکھوں سے فقط سرمہ چرانے آئے 
استعاروں کے شوالے میں عقیدت سے اب 
چند بیتابِ سخن دیپ جلانے آئے 
اس کی آنکھوں میں مرے اشک سماتے کیسے 
میرے آنسو تو یہاں عید منانے آئے 
ہم نے آواز تو پھولوں کو فقط دی عادل ؔ
خار ہی ہم سے مگر ہاتھ ملانے آئے 
 
اشرف عادل ؔ
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر 
موبائل نمبر؛9906540315
 
 
طبعیت کو تمہاری کیا ہوا ہے
مجھے بتلاؤ آخر کیا ہوا ہے
علاجِ مرض خود ہی مرض ٹھہرا
میں آخر کیا کہوں کہ کیا ہوا ہے
 کلامِ  زیست کا یہ شعر آخر
بھلا کس بحر میں لکھا ہوا ہے
پریشانی کا باعث بس وہی ہے
کہ جس ہاتف نے دل رکھا ہوا ہے
اسے میں کس زباں سے کیا کہوں جو
دلِ بے چین کو پرکھا ہوا ہے
 کہانی یوں الجھتی جارہی ہے
کہ ہر کردار ہی الجھا ہوا ہے
 
ڈاکٹر ظفر اقبال
موبائل نمبر؛+966538559811
بلجرشی الباحہ سعودی عرب
 
 
بغض و کینہ کو دل سے مٹایا کرو
پیار کا دیپ دل میں جلایا کرو
بات دل کی زباں پر سجایا کرو
دل بہل جائے گا مسکرایا کرو
اپنے چہرے سے پردہ اٹھایا کرو
حسن کی بجلیاں تم گرایا کرو
اک زمانے سے پیاسا ہوں دیدار کا
 میں تڑپتا ہوں جلوہ دکھایا کرو
نیند آتی نہیں ہے مجھے اے صنم
اپنی بانہوں میں مجھ کو سلایا کرو
تشنگی میری باقی رہے کیوں بھلا
ان نگاہوں سے مجھ کو پلایا کرو
 میرے رونے پہ ہنسنا مناسب نہیں
آگ پانی میں یوں مت لگایا کرو
غم کا چارہ نہیں اور اس کے سوا
چین آجائے ان کو بلایا کرو
آج بسملؔ نہیں ہے تجھے کیوں سکوں
 مجھ کو میرے صنم سے ملایا کرو
 
 پریم ناتھ بسملؔ
مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار
موبائل نمبر؛8340505230
 
 
اُجڑی دنیا کو بسانا ہے مُجھے 
ہرطرح اسکو سجانا ہے مُجھے 
دیش کا جس سے بلند ہوگا وقار
کام وہ کرکے دِکھاناہے مُجھے 
جسکوسب رکھتے ہیں خودسے دُوردُور
اُس کوسینے سے لگاناہے مُجھے
خودکوبھی پہچانتاکوئی نہیں 
نیندسے سب کوجگاناہے مُجھے 
ہیں کہاں نزدیک میری منزلیں 
اوربھی کُچھ دُورجاناہے مُجھے 
جورواں ہے راہِ باطل پراُسے 
نیک رستے پرچلاناہے مُجھے 
میرا مقصد تو یہی ہتاشؔ ہے
اِنس کو انساں بنانا ہے مجھے 
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن لین جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
 کون کرتا رہے انتظار آپ کا
''آپ کی بات پر اعتبار آپ کا'' 
جانے کس بے دلی میں ہے وہ مبتلا 
جانے کس نے ہے چھینا قرار آپ کا
اب جگر میں نظر میں ہو بس آپ ہی
اب تو آنکھوں میں بھی ہے خمار آپ کا
ہے زمان و مکاں آپ کے دم سے ہی 
زندگی ہے میری اختیار آپ کا
یعنی اب آپ کے بس میں ہر ایک شہ
یعنی اب یہ گلی یہ دیار آپ کا
ہوں میں بے بس بہت، دو سہارا مجھے 
مر نہ جائے کہیں بے قرار آپ کا
آپ کہتے تھے غم دور ہو جائیں گے
غم ہی آخر ہوا غمگسار آپ کا
ہے مناسب نہیں اتنا سود و زیاں 
کیا محبت کا ہے کاروبار آپ کا؟ 
اے عقیل اپنی دھن میں ہی جیتے رہو
مار ڈالے نہ ہم کو یہ پیار آپ کا
 
عقیل فاروق
طالب علم شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی
شوپیان،موبائل نمبر؛8491994633
 
کیا روکے رُکا ہے وقت کبھی 
دریا ہے یہ بہتا رہتا ہے
سچے کو چڑھائو صولی پر
حق بات وہ کہتا رہتا ہے
جو کام بدی کا کرتا جائے
خمیازہ بھگتتا رہتا ہے 
مظلوم کی ہے تصویر یہی
وہ ظلم کو سہتا رہتا ہے
غم ہویا خوشی ہو اے صورتؔ
دِل ہے یہ دھڑکتارہتاہے 
 
صورت سنگھ 
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9419364549
 
اِدھر نا ہی اُدھر اچھا لگے ہے 
مجھے تو تیرا در اچھا لگے ہے 
تری یادیں بسی ہیں اِس میں ورنہ 
مجھے یہ دل کدھر اچھا لگے ہے 
کبھی اس پہ عمل کر کےبھی دیکھو 
مِرا کہنا اگر اچھا لگے ہے 
ہمارا حال کچھ ایسا ہوا ہے 
کہ صحرا ہی نہ گھر اچھا لگے ہے 
پرندوں سے ہی رونق ہے وگرنہ 
بن اِن کے کب شجر اچھا لگے ہے 
ہمیں معلوم ہے انجامِ اُلفت 
مگر پھر بھی یہ ڈر اچھا لگے ہے 
یہ اِندرؔ ہی توہو سکتا جسے، دل 
وفا، زلفیں، جگر اچھا لگے  ہے 
 
اِندرؔ سرازی
پریم نگر،ضلع ڈوڈہ، جموں 
موبائل نمبر؛ 7006658731 
 
جھوٹ پر جھوٹ  بولے جا رہے ہو
بے تحاشہ مجھے رُلا رہے ہو
چہرہ اوروں سے تو چھپا رہے ہو
پر مجھے روز ہی دُکھا رہے ہو
آسرا تھا مجھے بہت ہی مگر
روز ہی دل مرا دکھا رہے ہو
کون سی بات اب ستا رہی ہے
قہقہے زور سے لگا رہے ہو
میری فریاد بھی خدا سن لے
کب مجھے اپنا اب بنا رہے ہو
آپ نے جو کیا تھا مجھ سے کبھی
اب وہ وعدہ کب نبھا رہے ہو
دور بسملؔ سے کب تلک رہو گے
کیوں میاں خط مرے جلا رہے ہو
 
سید مرتضیٰ بسمل
طالب علم:شعبہ اردو،ساؤتھ کیمپس،کشمیر یونیورسٹی
موبائل نمبر؛9596411285