تازہ ترین

جماعت اسلامی پر پابندی پی ڈی پی کی ہی تجویزتھی

بھاجپا کا انوکھا دعویٰ،سرینگر میں انتخابی مہم کا آغاز

15 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//بی جے پی نے جماعت اسلامی پر پابندی کیلئے سابق حلیف جماعت پی ڈی پی کو ذمہ ار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے ہی پیش کی گئی تھی۔مخلوط سرکار میں شامل دونوں جماعتوں کے درمیان خفیہ شراکت داری کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا ذہنی اختراع قرار دیتے ہوئے پارٹی کے قومی نائب صدر اویناش رائے کھنہ نے کہا کہ جنوبی و شمالی قطبین ملنے کے باوجود پی ڈی پی نے بھاجپا کو حمایت واپس لینے کیلئے مجبور کیا۔سرینگر میں پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں’’شکتی کیندر سمیلن‘‘ کے دوران پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل سریند امبردار نے پی ڈٰ پی صدر محبوبہ مفتی پر جماعت اسلامی کی پابندی کی تجویز حکومت کے دوران پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔اس موقعہ پر قومی نائب صدر اویناش رائے کھنہ نے کہا کہ گزشتہ پارلیمانی انخابات نریندر مودی کے نام پر لڑا گیا تھا،اور اب پارلیمانی الیکشن مودی کے نام اور کام پر لڑا جائے گا۔ تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کھنہ نے وادی سے جو بھی نمائندے پارلیمنٹ میں جاتے ہیں وہ نہ ہی کشمیر کی ترقی اور نا ہی سیاحت اور دیگر چیزوں کی بات کرتے ہیں،تاہم گزشتہ انتخابات میں جموں اور لداخ سے بھاجپا کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے امیدوارں نے اپنے خطوں کی بھر پور ترجمانی کی۔انہوں نے کہا’’ پارلیمنٹ کا ریکاڑ گواہ ہے کہ وادی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان نے کس تعداد میں پارلیمنٹ میں سوالات پوچھے،اس کے برعکس جموں اور لداخ خطوں کے نمائندوں کو جب بھی وقت ملا ا نہوں نے اپنے خطوں کی نمائندگی کی۔‘‘ اویناش رائے کھنہ سے جب سریندر امبردار کی طرف سے جماعت اسلامی پر پابندی کیلئے محبوبہ مفتی کی طرف سے پیش کی گئی تجویزسے متعلق بیان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے سوال پر کوئی رائے زنی نہیں کی،تاہم کہا کہ یہ محبوبہ مفتی سے پوچھا جانا چاہئے۔بی جے پی کے قومی نائب صدر نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے سرجیکل اسٹرائک کے بارے میں دئیے گئے بیان کو’’ ڈاکٹرفاروق عبداللہ پر گندی سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا’’وہ کشمیر میں ایک بات تو جموں میں دوسری اور دہلی میں تیسری بات کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ پی ڈ ی پی اور بھاجپا کے درمیان ما قبل انتخابات کوئی خفیہ سمجھوتہ ہیں۔ انہوں نے کہا’’یہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی ذہنی اختراع ہیں اور وہ گھبرا چکے ہیں۔‘‘ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے درمیان ممکنہ اتحاد پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کھنہ نے کہا کہ انکی جماعت مضبوط ہے اور کسی بھی اتحاد سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’کہیں گھٹ بندھن تو کئی مہا گھٹ بندھن ہو رہا ہے،تاہم بی جے پی مستحکم و مضبوطہے۔ اویناش رائے کھنہ نے پی ڈی پی پر سابق مخلوط سرکار میں بھاجپا کو حمائت واپس لینے پر مجبور کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا’’پولیس افسر کا ہجومی قتل کیا گیا،انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئیں ،جس کے نتیجے میں بی جے پی کے پاس حمائت واپس لینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھاَ‘‘تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ گورنر راج میں بھی لیتہ پورہ جیسا واقعہ پیش آیا ،تو انہوں نے کہا کہ حکومت نے فوج کو اپنے من پسند مقام،جگہ اور وقت پر جوابی کاروائی کرنے کی کھلی چھوٹ دی۔جماعت اسلامی سمیت مذہبی جماعتوں و لیڈروںپر پابندی عائد کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی جے پی فرقہ پرست سیاسیت میں یقین نہیں رکھتی،اور نا ہی مذہب،ذات پات یا لسانیات پر سیاست کرتی ہے۔کھنہ نے تاہم اس سوال کو ٹالا کہ سابق وزیر اعلیٰ نے ہی جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی۔انہوں نے کہا’’یہ محبوبہ مفتی سے پوچھا جائے۔‘‘ اوی ناش رائے کھنہ سے جب پوچھا گیا کہ انکے رکن قانون سازیہ نے انکی ہی موجودگی میں اسی تقریب میں الزام عائد کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسمبلی انتخابات کے موخر کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا’’بی جے پی کی رائے بھی وہی ہے جو عوام کی ہے،تاہم انتخابی کمیشن کا اپنا رول ہے‘‘۔تقریب میں بی جے پی ریاستی جنرل سیکریٹری اشوک کول،ریاستی نائب صدر ڈاکٹر علی محمد میر اور میڈیا سیکریٹری الطاف ٹھاکر کے علاوہ دیگر لیڈراں بھی موجود تھے۔
 
 
 

بس پی ڈی پی ہی درد کا درماں

پارٹی کے روڑ میپ کو عوامی مقبولیت حاصل:محبوبہ

نیوز ڈیسک

سرینگر//پی ڈی پی صدر اور ریاست کی سابق وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ ریاستی عوام کا پارٹی پر اعتبار عوامی بھروسے اور اعتماد کی کھلی دلیل ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ بلالحاظ رنگ و نسل پی ڈی پی پر بھروسہ رکھتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ پی ڈی پی نے کبھی بھی عوامی منڈیٹ اور مفاد کے ساتھ مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ریاست کو موجودہ تذبذب اور غیر یقینی کے دلدل سے باہر نکالنے کی خاطر پی ڈی پی نے جو روڑ میپ پیش کیا ہے اُسے سماج کے ہر طبقہ ہائے فکر نے کھلے دل سے قبول کیا ۔محبوبہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ثابت کردکھایا کہ کس طرح پارٹی قیادت لوگوں کے مکمل تعاون سے عوام کے ساتھ مسائل کے حل سے متعلق کئے گئے وعدوں کو عملاسکتی ہے۔پی ڈی پی صدر کا کہنا تھا کہ پارٹی جب ریاست میں اقتدار پر براجمان تھی تو اس دوران ریاستی کی تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اعلیٰ اور کارگر اقدامات کئے تھے تاہم امن و قانون کی صورتحال میں مسلسل رخنہ اندازی کے سبب ایسے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا گیا لیکن اس کے باوجود پی ڈی پی نے مثالی اقدامات اُٹھائے۔انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی نے اپنے دور اقتدار کے دوران عوامی مفاد سے متعلق اہم اقدامات اُٹھائے جن میں خواتین کو جائیداد سے متعلق رجسٹریشن پر لگنے والی اسٹیمپ ڈیوٹی کی منسوخی، نئی ہارٹی کلچر پالیسی کی شروعات، ہر گھر تک خوراک کی فراہمی، 60ہزار ڈیلی ویجروں کی مستقلی ، میڈیکل کالجوں کا قیام، بہتر سڑکیں وغیرہ شامل ہیں۔تقریب کے دوران سینئر سماجی و سیاسی لیڈر عبدالقیوم بٹ آف شالٹینگ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی موجودگی میں اپنے کارکنان سمیت پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔