اندھ میں ریلوے سے منسلک نجی کمپنیوں کی من مانیاں عروج پر،مقامی آبادی پابہ شعلہ

جائز حق مانگنے کی پاداش میںانتظامیہ اور پولیس کے ذریعے عوام پر دبائو بنانے کا الزام

15 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

زاہد بشیر
گول//کٹرہ بانہال ریلوے لائن سب ڈویژن گول کے کئی مقامات پر قومی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں گیمون ، پٹیل ایج، افکان ،ارکان وغیرہ شامل ہیں اوریہاں اندھ، سنگلدان ، دلواہ، داڑم وغیرہ مقامات پر یہ کمپنیاں کام کر رہی ہیں ہر جگہ سے کمپنیوں کی جانب سے عوام کے استحصال کی خبریں ہی موصول ہو رہی ہیں اور کمپنیوں کی جانب سے بستیوں اور دیگر جگہوں پر کوئی بھی سہولیات میسر نہیں ہیں جس وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں ، وہیں دوسری جانب جن لوگوں کی اراضی اس ریلوے ٹریک میں آئی ہے اور جن لوگوں کے رہائشی مکانات کو نقصان ہو رہا ہے انہیں بھی کوئی مدد نہیں دی جا رہی ہے اس کے بر عکس ان لوگوں کے بیروزگارنوجوانوں کو بھرتی کرنے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے اور بیرون ریاست و مقام سے لوگوں کو لایا جا رہا ہے ۔ اس طرح جمعرات کو ساتویں دن بھی اندھ میں لوگوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا ۔ مقامی لوگوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کمپنی پولیس اور انتظامیہ کو ساتھ ملا کر لوگوں پر دھونس دبائو ڈالا جا رہا ہے اور گزشتہ روز یہاں پر پولیس نے ایک نوجوان پر لاٹھیاں برسائیں جس وجہ سے وہ کافی زخمی ہوا ۔ یہاں احتجاج پر بیٹھے مقامی لوگوں نے کہا کہ یہاں بیروزگار نوجوانوں کو بھرتی نہیں کیا جاتا ہے اور زبردست دھماکوں کی وجہ سے رہائشی مکانات اور اراضی کو کافی نقصان پہنچا ہے اور مکانات نا قابل استعمال ہیں ۔ مقامی لوگوں قمرالدین ،حاکم الدین ، منظور احمد ، جمال الدین اور راج کمار کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پولیس نے یہاں دھرنے پر بیٹھے لوگوں کے ساتھ زیادتی کی اور اس دوران پولیس نے یہاں لاٹھی چارج کیا جس وجہ سے ایک نوجوان اسحاق احمد شدید زخمی ہوا جسے فوری طورجموں میڈیکل کالج منتقل کیا گیا ۔ مقامی لوگوں نے سخت تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ اگر کمپنیاں باہر کی تھیں وہ عوام کے ساتھ استحصال کرتی ہیں لیکن مقامی انتظامیہ اور پولیس پر عوام کا بھروسہ اس رویے سے اُٹھتا جا رہا ہے اور اگر ہمارے مسائل کی طرف دھیان نہیں دیا تو ہم عدالت کا رُخ کریں گے اور سڑکوں پر نکل کر احتجاج بلند کریں گے ۔