تازہ ترین

!کہیں بوسیدہ لائنیں،کہیں جوڑ کھلے تو کہیں پائپیں ہی چوری، تھنہ منڈی میں آب رسانی نظام کا حال بے حال

محکمہ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں،حکام کا دعویٰ ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے

15 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شال
راجوری// ضلع راجوری میں پانی سپلائی اورمحکمہ پی ایچ ای کاڈھانچہ زبوں حالی کاشکارہے جس کی وجہ سے لوگوں کوشدیدمشکلات سے دوچارہوناپڑرہاہے۔تھنہ منڈی علاقہ کی پنچائت کھنیالکوٹ کے نجار محلہ کیلئے محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے بچھائی گئی پائپ لائنوں کے جوڑکھلے پائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کے گھروں میں گندہ پانی سپلائی ہونے پرلوگوں نے سوال اٹھائے ہیں اورمحکمہ پی ایچ ای کے ملازمین پرغفلت برتنے کاالزام عائد کیاہے۔بتایاجاتاہے پائپوں کے قریب غلاظت کے ڈھیر ہوتے ہیں اورپائپوں کے جوڑکھلے ہونے کی وجہ سے سپلائی کے دوران گندگی ان میں چلی جاتی ہے اوریہ بات محکمہ کے ملازمین کے نوٹس میں متعددبارلوگوں نے لائی لیکن محکمہ کے ملازمین یہ بات تسلیم ہی نہیں کرتے ہیں کہ جہاں پائپوں کے جوڑکھلے ہوئے ہیں وہاں گندگی کے ڈھیرہیں۔اسی طرح تھنہ منڈی کے علاقہ منگوٹہ پنچائت اے میں محکمہ کی طرف سے لگائی گئی پائپئں اچانک چوری ہو گئی ہیں جس پرمحکمہ خاموش تماشائی بناہواہے ۔ایک طرف پائپوں کی کمی کے سبب پانی سپلائی متاثرہورہی ہے اوردوسری طرف محکمہ پائپوں کی چوری پرخاموش ہے ،اسی طرح اٹر سپلائی اسکیم۔ڈھو ک۔پٹیلی جوابھی زیرتعمیرہے جس کی تکمیل کیلئے کوئی خاطرخواہ اقدام نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔تھنہ منڈی میں پانی سپلائی کے ناقص نظام سے متعلق لوگوں کاکہناہے حکومت ہرسال دیہی علاقوں میں بہترسپلائی کے نام پرلاکھوں روپے صرف کرنے کے دعوے کرتی ہے لیکن اس کے باوجود تھنہ منڈی علاقے میں پانی کی معقول سپلائی نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے پانی کی قلت سے پریشان ہیں۔ نجار محلہ کھنیالکوٹ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ ہمارے محلہ میں 30 سال پہلے پائپیں لگا ئی تھیں جو زنگ لگنے سے بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ محکمہ پی ایچ ای راجوری سے کئی بار یہ پائپیں تبدیل کرنے کے با رے میں اپیل کی تاہم محکمہ پی ایچ ای کے اہلکار ان پائپوں کوتبدیل کرنے میں غیر سنجیدہ ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ نجار محلے کی پائپیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور ان میں گندگی چلی جاتی ہے جوپانی کے ساتھ لوگوں کے گھروں تک پہونچ رہی ہے ۔تھنہ منڈی کی پنچائت منگوٹہ اے کے موہڑہ ٹکی میں پائپیں چوری ہونے سے علاقہ کے عام لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے اورگائوں کی خواتین کو آدھا کلو میٹر کی دوری سے پانی لانے پرمجبورہیں۔ منگوٹہ سے تعلق رکھنے والی پھلاں نامی عورت کا کہنا ہے کہ پنچائتی انتخابات میں ووٹ پررنجش کی وجہ سے کچھ لوگوں نے پائپیں شرارتاًچوری کرلی گئی ہیں جنکو برآمد کرنے کے لئے محکمہ پی ایچ۔ای نے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی ،کھنیال کوٹ اور منگوٹہ کے لوگوں نے ایگزیکیٹیو انجینئر پی ایچ ای راجوری اور ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے ان دو واقعات کی تحقیقا ت اورعلاقہ میں پانی کی سپلائی بہتربنانے کامطالبہ کیاہے۔ اس ضمن میں اے ای ای ہیڈ کوارٹر مصطفیٰ میر نے کہا کہ ایک سازش کے تحت محکمہ پی ایچ ای کو بدنام کرنے کے لئے پائپوں کے قریب گندگی رکھی گئی تھی ۔انہوں نے کہاکہ نجار محلہ کی لائن کو ٹھیک کردیا ہے جبکہ منگوٹہ لائن کو پرسوں یعنی سنیچر تک مرمت کر کے علاقہ میںپانی سپلائی بحال کی جائے گی۔