فلسطینی صدر کی انسانی حقوق کی رپورٹ سے لفظ ’مقبوضہ ‘ ہٹانے پر امریکا پر تنقید

15 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
غزہ// فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے امریکا کی جانب سے انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ میں مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور گولن ہائٹس کو زیر قبضہ علاقے قرار نہ دینے کے اقدام پر تنقید کی ہے۔ خبررساں ادارے کے مطابق نیبل ابو رودینہ نے امریکی انتظامیہ کے اس اقدام کو اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کے برعکس اور فلسطینی شہریوں کے مخالف قرار دیا۔ فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی وفا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق فلسطینی صدر کے ترجمان نے کہا کہ یہ تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطین کے مسئلے کو ختم کرنے کے منصوبہ کا حصہ ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے طویل انتظار کے بعد آئندہ چند ماہ میں اسرائیلی-فلسطینی امن کے لیے منصوبہ پیش کیا جانے کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ فلسطینی قیادت نے 2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد واشنگٹن سے رابطہ منقطع کردیا ہے۔ فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ پیش کیا جانے والا منصوبہ واضح جانبداری کے ساتھ اسرائیل کے حق میں ہوگا۔ انسانی حقوق سے متعلق جاری کی گئی حالیہ رپورٹ میں امریکا نے گولن ہائٹس کو ’ اسرائیل کے زیرِ قبضہ ‘ کے بجائے ’ اسرائیل لے زیرِ کنٹرول‘ میں قراردیا۔ گزشتہ برس جاری کی گئی رپورٹ میں معنی کے اعتبارسے متعلق موجود ایک اور تبدیلی رواں برس کی رپورٹ میں بھی موجود تھی جس میں ایک حصے کا عنوان ’ اسرائیل، گولن ہائٹس،مغربی کنارہ اور غزہ ‘ تھا جبکہ اس سے قبل یہ عنوان ’ اسرائیل اور زیرِقبضہ علاقے ‘ تھا۔ امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اصرار کیا کہ مختلف الفاظ کا مطلب پالیسی کی تبدیلی نہیں ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967 میں 6 روز جنگ کے دوران گولن ہائٹس، مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کیا تھا۔