تازہ ترین

بابری مسجد تنازعہ

رام لیلا جنم استھان پر موجود ہیں پھر ثالثی کیوں:وی ایچ پی

15 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 اجودھیا//وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)کے مرکزی وزیر راجیندر پنکج نے متنازعہ جگہ کے مسئلے پر سپریم کورٹ کی پہل سے ہورہی ثالثی بات چیت پر سوال اٹھایا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ جہاں رام لیلا موجود ہیں وہیں ان کی جنم بھومی ہے ۔ایسے میں عدالت کس بات پر ثالثی کرارہی ہے ۔ کاریے سیوک پورم وی ایچ پی ہیڈکوارٹر سے جمعرات کو جاری بیان میں مسٹر پنکج نے کہا کہ سپریم کورٹ آگے آکر اس بات کا اعلان کرے کہ ہائی کورٹ نے زمین کا جو بٹوارہ کیا تھا وہ غلط ہے اورجہاں رام للا موجود ہیں وہیں ان کی جنم بھومی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ثالثی تو لین دین کے لئے ہوتی ہے ۔ہندو سماج سے آخر کیا امید ہے کیونکہ ہندو سماج پانچ سو برس سے اپنے بھگوان کی جنم بھومی پر عالی شان مندر دیکھنے کے لئے ترس رہاہے ۔ مسٹر پنکج نے اپنے بیان میں کہا کہ سبھی فریقوں کے اتفاق کے بعد سپریم کورٹ کی سماعت شروع کی گئی اور ستمبر 2010 میں فیصلہ دیا گیا کہ جہاں رام للا موجود ہیں وہیں ان کی جنم بھومی ہے ۔لیکن اس فیصلے کے ساتھ ہی سنی سینٹرل وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑا کی دلیل کو خارج کرنے کے بعد متنازعہ مقام کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ نرموہی اکھاڑا اور ایک حصہ سنی وقف بورڈ اور درمیانہ حصہ رام للا کو دینے کا فیصلہ دیاگیا۔ وی ایچ پی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ 70سال سے الجھے عدالتی نظام سے ہندو سماج کو نجات ملنی چاہئے ۔بھگوان شری رام آخر کب تک انصاف کے لئے ترستے رہیں گے ۔کروڑوں ہندوؤں کی یہی تمنا ہے کہ جہاں رام للا موجود ہیں وہیں عالی شان مندر کی تعمیر ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اجودھیا کی سرحد میں کسی بھی طرح نئی مسجد کی تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی۔یواین آئی