تازہ ترین

رزقِ حلال

ایماں کی حلاوت ہے سعادت کی ضمانت

15 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ماسٹر محمد یوسف۔۔۔۔ نٹی پورہ ، سرینگر
 اللہ  تعالیٰ کا بے پایاں فضل و احسان ہے کہ ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اور خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی اُمت میں پیدا فرمایا۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے۔ اس کی تعلیمات بالکل سادہ ، آسان اور فطرت کے عین مطابق ہیں۔ نزولِ کتاب اور قبل از بعثت رسول اکرم ﷺ دوسرے مسائل کی طرح حلال وحرام کا ایک معاملہ بھی تھا جس نے لوگوں کو اُلجھا رکھا تھا۔ کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے ؟ جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ہے؟ اسلام آیا تو یہ تمام گتھیاں سلجھ گئیں۔ حلال و حرام واضح ہوگیا۔ انسانی مداخلت ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جس چیز کو حرام ٹھہرایا وہ قطعی اور دائمی حرام ہے۔ کتاب کی تشریح نبی اکرم ﷺ کی تئیس 33 سالہ حیات نبوی ﷺ ہے۔ 
تحلیل و تحریم کا حق: اسلام نے یہ اصول قائم کیا ہے کہ تحلیل و تحریم کا اختیار کلی صرف اللہ کو حاصل ہے۔ کسی عالم ، راہب، درویش ، حکمران یا عام انسان اور قانون سازیہ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ جو شخص برضا ور غبت اُس کی پیروی کرے ،وہ شرک میں مبتلا ہوگا۔ یہود و نصارٰی اسی جرم میں مبتلا ہوئے تھے کیونکہ انہوں نے تحلیل و تحریم کے اختیار ات اَحبار و رہبان کو دے رکھے تھے جس کی قرآن مجید نے سخت الفاظ میں تردید کی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ انہوں نے (یعنی یہود و نصاریٰ نے) اللہ کو چھوڑا کر اپنے احبار و رہبان کو اپنا رب بنالیا اور مسیح بن مریم کو بھی، حالانکہ انہیں ایک معبود کے سوا کسی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ ان کی ان مشرکانہ باتوں سے پاک ہے۔‘‘[التوبہ: 31]
حاتم طائی کے بیٹے حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے عیسائی ہوگئے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ ﷺ کو سورۃ التوبہ کی مذکورہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: نصرانیوں نے اپنے احبار و رہبان کی عبادت تو نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں ؟ ان لوگوں نے اُن پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرایا تھا اور لوگوں نے اُن کی پیروی کی، یہی اُن لوگوں کی عبادت ہے‘‘[سنن ترمذی ]۔اسلام کے اس اصول کے تحت حتمی طور پر یہ جان لینا چاہیے کہ تحلیل و تحریم کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے او راپنی کتاب قرآن مجید یا اپنے رسول ﷺ کی زبان ِ مقدس سے لوگوں کو حلال و حرام سے آگاہ کیا ہے۔ علماء و فقہا کا کام بس اتنا ہے کہ اس حلت و حرمت کو بیان کریں۔ وہ شریعت نواز ہیں، شریعت ساز نہیں۔ 
حدوداللہ پر قائم رہنا
دوسرے معاملات کی طرح حلال و حرام کے حدود پر قائم رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے محکم آیات نازل فرمائی ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول و ! جب میں گوشت کھاتا ہوں تو نفسانی شہوت کا غلبہ ہوجاتا ہے، اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا ہے۔ [سنن ترمذی ]
اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال کی ہیں اُن کو حرام مت کرو اور حد سے آگے مت نکلو، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ [المائدہ :87، 88 ]دوسری روایات سے بھی ثابت ہے کہ بعض صحابہ ؓ زہد و عبادت کی غرض سے بعض حلال چیزوں سے اجتناب کرنا چاہتے تھے مثلاً نکاح کرنے سے، راتوں کو سونے سے یادِن کے وقت کھانے پینے سے۔ جب نبی اکرم ﷺ کے علم میں یہ بات آئی تو آپ ﷺ نے اُنہیں منع فرمایا۔ کچھ صحابہ ؓ نے ترکِ دنیا کی اجازت طلب کی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’اسلام میں رہبانیت یعنی ترکِ دنیا نہیں۔‘‘ [حدیث] کچھ حضرات نے خصی ہونے کی خواہش کی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان باتوں سے منع فرمایا کیونکہ یہ حدود اللہ کو توڑنے کے مترادف باتیں ہیں۔ 
اَکل حلال
چونکہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کو تمام انسانوں اور تمام زمانوں کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔ لہٰذا بعض قرآنی آیات میں تمام انسانوں سے خطاب کیا گیا ہے تاکہ لوگ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی آفاقیت کو سمجھ سکیں اور اُلجھے ہوئے مشترکہ معاملات سے نجات پانے کی کوشش کریں۔ مثلاً لوگوں کی اکثریت معبود حقیقی سے بغاوت کرکے معبودانِ باطل کی پرستش میں جکڑ گئے ہیں تو رب کریم نے تمام لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:’’اے لوگو!اپنے اُس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوںکو پیدا کیا تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘ [البقرہ] ۔ اسی طرح انسانوں کے درمیان زنگ و نسل اور ذات وغیرہ کی بنیاد پر تمیز کرنا ایک عام انسانی معاملہ ہے، لہٰذا رب کریم نے تمام انسانوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تمہیں جتھوں اور قبائل میں بانٹ دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، تم مین سب سے زیادہ مرکم وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ ‘‘بعینہٖ اسلام کی ابتداء سے پہلے لوگ غذا کے لحاظ سے مخمصے میں تھے کہ کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں تو اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’زمین کی چیزوں میں سے جو حلال اور پاک ہیں اُن کو کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘[البقرہ]
یہ اسلام کی دعوتِ عام ہے کہ لوگ اپنے طور سے حلال و حرام کا فیصلہ کرکے اپنے لئے مشکلات کا جال نہ پھیلائیں۔ اب مومنوں سے خطاب خاص ہورہا ہے:’’اے ایمان والو! کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں اور شکر کرو اللہ کا اگر تم اُس کی بندگی کرنے والے ہو۔‘‘[البقرہ: 172 ]
حلال کی ترغیب
اسلام کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ یہ اپنے پیرو کاروں کو جہاں حلال کی ترغیب دلاتا ہے ، وہاں حرام سے نفرت واجتناب سکھاتا ہے یعنی کھانا پینا حلال، کمائی حلال، خرچہ حلال، لباس حلال، رشتہ حلال، فکر و سوچ حلال وغیرہ ۔ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع و عریض ہے، یہاں حلال ذرائع سے روزی کمانے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ عبادتِ الٰہی سے فراغت لے کر رزق تلاش کرنا بھی عبادت ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: ’’پس جب تم نماز سے فارغ ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل (روزی ) تلاش کرو۔ ‘‘[سورۃ جمعہ]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حلا ل روزی طلب کرنا فرض ہے اللہ کے تئیں ادائیگی ٔ فریضہ کے بعد ‘‘[بیہقی] ۔اپنے ہاتھ سے کمائی سب سے بہتر کمائی ہے۔ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:’’اپنے ہاتھ سے کما کر کھانا سب کھانوں سے بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘[بخاری]
قرآن و حدیث میں حلال خوری کی ترغیبات ہی کا اثر ہے کہ ہمارے اکابر اسلاف حلال کا انتہائی درجہ پراہتمام کرتے تھے۔ سیدنا ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ ) نے اپنی خلافت کے دوران مقررہ مشاہرہ (Honorarium) سے ایک پیسہ بھی بیت المال سے زیادہ حاصل نہ کیا۔ آپ ؓ کی اہلیہ محترمہ نے اسی مشاہرہ سے کچھ پیسے بچا بچاکر ایک بار میٹھا پکوان تیار کرکے پیش کیا تو خلیفہ اول ؓ نے پوچھا کہ یہ کہاں سے آیا ہے؟ انہوں نے جب حقیقت حال بتائی تو خلیفۂ وقت نے اُسی وقت سرکاری خزانے کے میر منشی کو اپنے مقررہ ماہانہ مشاہرہ سے اتنی رقم کم کرنے کا حکم بھیج دیا کہ تھوڑے پر ہی گذارہ ہوتا ہے۔ خلیفۂ دوم سیدنا عمر بن الخطاب ؓ کو طبیب نے شہد کھانے کی صلاح دی۔ بیت المال میں شہد ہے لیکن استعمال کرنے کی اجازت عوام سے حاصل کی۔ غلام نے دودھ پلایا۔ ذائقہ کچھ مختلف لگا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بیت المال کی اونٹنی کا دودھ تھا۔ ہضم ہونے سے پہلے ہی قے کردی۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ بیت المال کی شمع کی روشنی میں سرکاری کاغذات دُرست کررہے ہیں کہ کوئی مہمان داخل ہوا۔ خلیفہؒ نے شمع بجھا کر مہمان سے بات شروع کردی کہ نجی معاملہ ہے سرکاری نہیں ۔ آج کے حکمرانوں کا حال ہمارے سامنے ہے۔ سرکاری خزانے کو اپنے باپ دادا کی وراثت سمجھ کر کس بے دردی سے لوٹا جارہا ہے۔ سرکاری وسائل پر حکمران طبقے، اُن کے اہل وعیال اور رشتے دار مردار پر بھوکے گدھ کی طرح لپکتے ہیں اور اس بندربانٹ پر کبھی کبھار قتل و غارت تک کی نوبت بھی آپہنچتی ہے۔ دنیا کے کتنے بڑے بڑے حکمران اور حکومتوں کے اعلیٰ عہدے دار رشوت اور گھپلا بازی میں ملوث ہونے کی وجہ سے جیلوں میں سڑر رہے ہیں۔ ’’احیاء العلوم ‘‘میں علی بن معبدؒ بزرگ کا واقعہ ہے کہ کرایہ کے مکان میں رہتا تھا۔ سیاہی سے لکھی ہوئی ایک تحریر کو خشک کرنے کے لئے کمرے کی دیوار سے تھوڑی سی مٹی کھر چنے کا ارادہ کیا لیکن ساتھ ہی خیال آیا کہ کمرہ اپنا نہیں، کرایے کا ہے،پھر سو چا کہ تھوڑی سی مٹی کھرچنے سے کیا فرق پڑتا ہے، مٹی کھرچ لی اور تحریر پر ڈال دی ۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ کوئی صاحب کہہ رہا ہے: دوسرے کی دیوار سے مٹی کھرچنے کا فرق قیامت کے دن معلوم ہوجائے گا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے نبی ﷺ سے دعا کرنے کی درخواست کی کہ مستجاب الدعوات بن جائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے سعد! حلال کمائی کھاؤ، تم مستجاب الدعوات بن جاؤ گے۔ ‘‘
أکلِ حرام کی ممانعت
ایمان،اسلام او رتقویٰ وہ تین بنیادی باتیں ہیں جن کی قرآن و حدیث میں زبردست تاکید آئی ہے لیکن جو شخص حرام سے اجتناب نہیں کرتا ہے، وہ ان تین چیزوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ حرام سے نہ بچنے والے کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ہے، وہ صدقہ کرے، نماز پڑھے یا حج کرے، سب عنداللہ قبولت سے محروم ہیں۔ 
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام سے پلاہو۔‘‘[مشکوٰۃ]۔اس حدیث مبارک میں اُن لوگوں کے لئے زبردست انتباہ ہے جو روٹی ، کپڑا او رمکان اپنا مقصد ِ زندگی بناتے ہیں اور پھر اُسے حاصل کرنے میں اس لاپروائی سے کوشاں رہتے ہیں کہ انہیں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں رہتی ، حق و ناحق سے بے بہرہ ہوتے ہیں ، مویشیوں کی طرح دوسروں کی چراگاہوں میں بے پرواہی سے داخل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس حدیث رسول اللہؐ کے مصداق ہوتے ہیں: ’’لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والال ہے کہ آدمی کو اس کی پروا نہیں ہوگی کہ جو کچھ کمایا ہے، حلال ہے یا حرام ‘‘[بخاری]۔
یہ حدیث مبارک آج کے زمانے پر بالکل راست آتی ہے۔ مادہ پرستی(Materialism) کا زمانہ ہے۔ ہر شخص دولت کمانے اور جمع کرنے کی دوڑ میں مگن ہے۔ سود، رشوت، ناجائز، منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، دھوکہ بازی وغیرہ تمام ترشرعی ممانعتوںکے باوجود پروان چڑھائے جارہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ جب ایک نام کے کلمہ خوان کی زبان سے یہ نکلے: یہ زمانے کی ضرورت ہے او راس کے بغیر جینا دشوار ہے۔ پھریہی مسلمان ہاتھ اُٹھا کر اللہ سے دعائیں مانگے تو دعا قبول کیسے ہو؟ ’’رسول اللہ ﷺ نے اُس آدمی کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، پرا گندہ حال ہے، اپنے گرد آلود ہ دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے پکارتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! اُس کی دعا کیسے قبول ہوگئی ؟ اُس کا کھانا حرام، اُس کا پینا حرام اور اُس کا پہننا حرام ہے اور حرام مال سے ہی اُس کی پرورش ہوئی ہے۔‘‘[بخاری]۔یہی حال آج کے مسلمانوں کا ہے۔ کیا ہم دعائیں نہیں مانگ رہے ہیں؟ کیا ہم  دعاؤں میںوہی بول استعمال نہیں کرتے جو قرآن یا حدیث نے سکھائے ہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری دعائیں اور آہ و زاریاں بے اثر ہیں؟ وجہ تلاش کرنی ہوگی۔ 
حرام کاری کی کچھ صورتیں: 
 اسلام میںحرام کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ حرام صرف کھانے پینے تک ہی محدود نہیں ہے، اس کی مختلف اورمتعددصورتیں ہیں ،ان تمام صورتوں میں حرام سے ہمیں اپنے آپ کو بچانا فرض ہے۔ سب سے پہلا اور بڑا گناہ شرک ہے جو قطعی طور فعل ِحرام ہے اور توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوسکتا ۔ شرک کے ساتھ جتنے بھی اُمور وابستہ ہیں، سب کے سب حرام ہیں، یہ چاہے غیر اللہ سے حاجت روائی کا گناہ ہو ، سود، چوری، جوا، بدکاری ، نشہ بازی،اغلام بازی ، نامحرم عورت کے ساتھ مصافحہ کرنا یا خلوت نشینی، عورت کا خوشبو لگاکر غیروں کے پاس سے گذرنا ، بغیر محرم کے عورتوں کا سفر کرنا، فروخت کرنے وا لے سامان کا عیب چھپانا، بھاؤ بڑھانے کے لئے بولی دینا، رشوت لینا یا دینا، لاٹری، شراب نوشی اور کاروبارِ شراب سے منسلک تجارت وغیرہ، جھوٹی گواہی ، جھوٹ بولنا ، غیبتیں کرنا ، ، مردوں کا ریشمی لباس یا سونے کے زیورات پہننا، کسی کو تکلیف دینا، وغیرہ ہو، یہ اپنی ہر شکل میں حرام ہیں ۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں حرام کا ریاں اور فسق وفجور کی صورتیں معمولاتِ زندگی میں داخل ہوچکی ہیں، ہمیں خدا کوحاضرو ناظر سمجھ کر اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور حتی  الامکان دنیا کی تباہی اور آخرت کی ناکامی سے نجات پانے کے لئے ہر حال میں حلال و طیب پرا کتفا کر ناچاہیے۔
اکابر اسلاف سے حلال کی ترغیب
اکابرین ِاُمت اور سلف صالحین نے قرآن و حدیث کی رُو سے حلال شدہ ہرکام کے حوالے سے ہمارے لئے عملاً نشانِ راہ چھوڑ دئے ہیں، جن پر گامزن ہوکر ہم فلاح و کامرانی حاصل کرسکتے ہیں:
۱۔افضل البشر بعد الانبیا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین بننے سے پہلے پارچہ فروشی کی تجارت کرتے تھے۔ 
۲۔خلیفۂ ثانی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غلہ فروشی کے ایک بہت بڑے تاجر تھے اور ( Import and Export )کے بڑے ماہر تھے۔  خلیفۂ ثالث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اتنی دولت کمائی تھی کہ ’’غنی‘‘ لقب پڑگیا۔ 
۴۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تجارت پیشہ تھے۔ 
۵۔سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اپنے مواخاتی ساتھی حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے مال و جائدادکا آدھا حصہ پیش کیا لیکن ابن عوف رضی اللہ عنہ کہا: ’’اللہ آپ کے اہل و مال میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ دکھایئے‘‘بازار جاکر ابن عوف ر ضی اللہ عنہ نے چھوٹے پیمانے پر تجارت شروع کی اور ایک مختصر وقت میں بہت بڑے مال دار تاجر بن گئے۔ اسی طرح اکثر صحابہ ؓ  تجارت پیشہ اور ہنر مند تھے۔ اپنا معاش خود اپنے ہاتھ کماتے تھے۔ خاکم بدہن دوسروں کے ٹکڑوں پر نہیں پلتے تھے۔ 
۶۔ائمہ کرام اور علماء و صلحاء دینی امور، درس و تدریس اور تبلیغ و تعلیم کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ حلال ذرائع معاش بھی اختیار کرتے تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ایک بہت بڑے پارچہ فروش(Cloth Merchant )تھے۔ درجنوں سیلز مین اُن کا کاروبار چلاتے تھے۔ امام مالک ؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد ؒ اصحابِ علم ہونے کے ساتھ ہی زراعت اور مال مویشی وغیرہ کے مالک بھی تھے ۔سیدنا عبدالقادر جیلانی ؒ کے بارے میں کون نہیں جانتا ہے کہ دینی مبلغ ہونے کے علاوہ آپ ایک کامیاب تاجر بھی تھے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم رہنی چاہیے کہ ہمارے اکابراسلاف انتہائی درجے کے حلال پسند تھے۔ وہ مردانِ مجاہد تھے ، مفت خورے نہ تھے، وہ دوسروں کو دینے والے ہوتے تھے۔ وہ متوکل نہیں بلکہ فاقہ مست تھے۔ وہ العیاذ باللہ زرپرست نہیں بلکہ غربیوں اور محتاجوں کے سرپرست تھے، وہ دینے والے تھے لینے والے نہیں ۔
گداگری حلال نہیں
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے لوگوں سے اپنا مال زیادہ کرنے کے لئے مال طلب کیا تو بے شک وہ جہنم کے انگارے طلب کرتا ہے، چاہیے کم طلب کرے یا زیادہ ‘‘[صحیح مسلم ] بلا ضرورت لوگوں سے مانگنا گداگری(Begging) ہے۔ گداگری سے حاصل کیا ہوا مال کسی بھی صورت میں حلال نہیں ہے۔ سیاسی گداگری ہو یا اقتصادی ، ہر حال میں فرد اور اجتماع کے لئے باعث ذلت ہوتی ہے۔ دنیا کے 58 آزاد اور خود مختار مسلمان ممالک اپنی مادی طاقت( Material Power) کے باوجود کسی نہ کسی طرح گداگری کے پھندے میں پھنس کے رہ گئے ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ حلال و حرام میں تمیز نہ کرنا اورعلم و ہنر سے تہی دستی ہے۔ آئے روز نام نہاد غیر سر کاری انجمنوں (N.G.O) اور جھوٹ موٹ کے یتیم خانوں کے نام پر مسجدوں او رگلی کوچوں میں بڑے زور و شور کے ساتھ نقدی اور جنسی بٹورنے کے ماہر ’’باعزت گداگری‘‘ میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ دیکھے جاسکتے ہیں جو جھوٹ بول کر اور نقلی کاغذات؍ ڈاکٹری نسخہ جات بناکر من گھڑت کہانیاں پیش کرتے ہوئے گھروں، مسجدوں اور چوک چوراہوں پر عوام سے چندہ وصولتے ہیں ۔ جینون مستحقین کی امداد شرح صدر کے ساتھ کریں مگر اس دھندے میں ملوث مکار گدا گروں کی ادب اور تمیز کے ساتھ حوصلہ شکنی کر کے اپنے صدقات و خیرات ایسے لوگوں کو ضائع  ہونے سے بچایں اور حقیقی محتاجوں کی دل جوئی کے لئے ان تک براہ راست یا کسی معتمد کے ذریعے رسائی حاصل کریں، خاص کر وہ جو شرم و حیاء کے سبب کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ،جو چمٹ چمٹ کر مانگنے والے نہیں ہیں۔ یہ غیر ت مند محتاج چہروں کی زردیوں سے پہچانے جاسکتے ہیں۔ 
مروجہ ماکولات و مشروبات: 
قارئین کرام ! ہم ایک ایسے ملک میں رہے ہیں جو سور پالتے اور کھاتے ہیں، جہاں کہیں کہیں کتے کو بھی حلال سمجھا جاتا ہے، جہاں گائے کے پیشاب کو پوتر مانا  جاتاہے، جانوروں کے لئے اسلام کاطریقۂ ذبح رائج نہیں بلکہ جھٹکا دے کر جانور کی گردن اُڑادی جاتی ہے، لہٰذا بند ڈبوں کے ماکولات و مشروبات سے اجتناب ہی بہتر اور محتاط  طریقہ ہے۔ مسافروں کے لئے یہ کام انتہائی صبر آزما ہوتا ہے مگر مقیم لوگوں پر لازم ہے کہ تن آسانی چھوڑ کر گھریلو پکوان (Home Prepared Dishes )کو اولین ترجیح دے کر اپنا کھانا پینا غیر مشکوک بنانے کی خُو ڈالیں ۔ مشتبہ (Doubtful) خوردنی چیزوں سے ہر ممکن طریقے سے بچنا ہم پر ہر لازم ہے تاکہ نادانستہ طور حرام میں مبتلا نہ ہوجائیں۔آئیے دعا کریں:’’اے اللہ!تو مجھے کافی ہو جا ،اپنے حلال کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے اور مجھے بے نیاز کر دے اپنے فضل سے اپنے ماسوا ء سے ‘‘۔
رابطہ9419780332