تازہ ترین

ہندپاک افہام وتفہیم !

نئی سرکار بننے تک انتظار ناگزیر

14 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سلمان عابد
کیا  بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے کچھ ٹھوس اقدام کر یں گے؟ فی الحال اس سوال کا جواب دینا کافی مشکل ہے۔اس وقت دونوں جانب معاملات اس حد تک پیچیدہ  چل رہے ہیں کہ لگتا ہے کہ اعتماد کے اس بحران میں کوئی بڑا بریک تھرو ہو نا خواب وخیال ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ تعلقات کی بہتری کا جو بھی اچھا موقع پیدا ہوا ، مودی سرکار اُسے پارلیمانی انتخابات کے سود وزیاں کے پیش نظر اسے ناکام بنانے میں ہی اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ حالانکہ جنوبی ایشیا اور اس خطے کی سیاست، معیشت اور سماج کی مجموعی ترقی بہتر دوطرفہ تعلقات، سازگار ماحول اور اشتراک و تعاون کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب دونوں طرف کی ریاستیں، حکومتیں، سیاسی جماعتیں، اہلِ دانش، صائب الرائے رائے عامہ تشکیل دینے والا میڈیا ، اورعوام الناس باہمی اختلافات، تعصبات، نفرتوں اور تلخیوں سمیت ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف کھلے دل کے ساتھ پیش قدمی کرنے کی حامی بھرلیں۔ دنیا بھر میں تمام ہوش مندلوگوں کا اس بات پر کامل اتفاق ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں دیتیں اور باہمی اختلافات کا حل مکالمہ یا بات چیت میں ہی مضمر ہوتاہے۔
فروری کے وسط سے دونوں ملکوں کے درمیان جو تلخیاں اور کدورتیں یکے بعد دیگرے بڑھ گئیں ، اس نے ایک بار پھر دونوں حریف ملکوں میں پہلے سے موجود بداعتمادی اور رقابت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ا سکے پیچھے بہت سارے عوامل کارفرما ہیں ۔نریندر مودی کی حکومت میں خاص کر اس حقیقت کی اَن دیکھی کی جاتی رہی کہ مسلم بیزاری اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست سے صرف پاکستان کا ہی نقصان نہیں ہوتا بلکہ خود بھارت کا داخلی بحران بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس طرز سیاست کو مسترد کرتے ہوئے آج ہندنواز سابق وزیراعلیٰ جموں وکشمیرڈاکٹر فاروق تک اعلاناً کہہ رہے ہیں کہ بالاکوٹ خیبر پختونخواہ میں ائر اسٹرائیک کے پس پشت صرف بھاجپا کی انتخابی جیت کی نیت کارفرما تھی ۔ ایسے میں یہ حقیقت دونوں ملکوں کے محب وطن عناصر کو سمجھنا ہوگی کہ دوطرفہ اختلافات وزنی ہوں یا غیر وزنی، دونوں صورتوں میں ان اختلافات کو کم کرنے کی واحد کنجی مذاکرات میں مخفی ہے۔ بہرحال مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت بھارت کا داخلی نظام انتخابی سیاست کے مراحل میں گزر رہا ہے، اس لئے برصغیر میں امن اور مفاہمت کی پروائیاں چلنا قدرے مشکل ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بھاجپا کی انتخابی تاریخ میں پاکستان دشمنی کا ایجنڈا ہمیشہ سے سرفہرست رہا ہے۔ اس لئے فوری طور بھارت کی قومی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ بایں ہمہ دونوں ملکوں کے وہ عناصر جو ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرکے عملاً مذاکرات اور معاملہ فہمی کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں، انہیںاپنی منفی روش سے باہر نکلناہوگا۔ ا س وقت مسئلہ یہ نہیں کہ آیا پاکستان مکمل دُرست ہے اور بھارت مکمل نادُرست ،بھارت دُرست ہےاور پاکستان نادُرست ہےبلکہ دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ملک اگر جنگ وجدل کی بھٹی میں مسلسل جلتے رہیں تو برصغیر بھسم ہوگا ، پھر دونوں ملک خاک مَلتے رہیں گے ۔ بے شک دونوں جانب سے حال میں بھی اورماضی میں بھی فاش غلطیاں ہوئی ہیں اور اب تک بہت سارے ٹیڑھے میڑھےمسائل کی دیوارِ چین ان کے درمیان حائل ہے۔ اس معتدل کا حل یہی ہے کہ ہم ماضی میں رہنے کے بجائے مستقبل کا نقشہ دل اور دماغ کے دروازے کھول کر کھینچیں۔ ا س حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان بالکل صحیح کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کا مفاد خطے میں امن کی سیاست سے جڑا ہے، اور یہ کام دونوں ممالک میں بہتر تعلقات پیدا کئے بغیر ممکن نہیں، اور اس میں بھار ت کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
بھارت اور پاکستان کو اپنی دوریاںختم کر کے تعلیم، صحت، پانی، روزگار، پسماندگی جیسے سنگین مسائل پر توجہ مبذول کر نی چاہیے۔ جنگوں پر بھاری سرمایہ کاری کرنے کے بجائے انہیں انسانوں پر بڑی سرمایہ کاری کی فوری ضرورت درپیش ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب تمام دو طرفہ تنازعات کے منصفانہ حل امن اور افہام وتفہیم سے تلاش کئے جائیں۔ ملکی سطح پر بداعتمادی کی جو دھند دونوں طرف پائی جاتی ہے ہے، اُس کو صاف کر نے کے لئے سیاسی، سماجی، ثقافتی سطح پر تعاون اور دوطرفہ مفاد پر مرزکوز مشترکہ فورمز کی تشکیل، ایک دوسرے کی نفسیات سمجھنے کے لیے باہمی رشتوں رابطوں کا بڑھاوا اور بہتر اور بروقت تال میل میں آسانیاں پیدا کرنا لازم وملزوم ہے۔یہ کام ریاستی اور حکومتی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ ا س ضمن میںبھارت اور پاکستان کو عالمی برادری کی جانب سے صلح سمجھوتے کی متواترفہمائشوں کا نوٹس لے کر دوستانہ تعلقات اور مفاہمتی تدابیراختیارکرنے چاہیے۔ اگر ان دونوں نے یا ان میں سے ایک نے یہ فہمائشیں  نظرانداز کیں تو اس سے خود عالمی برادری کو میں پیغام جائے گا کہ بر صغیر کے دوہمسایہ جوہری ممالک کسی بھی وقت اُسی برے انجام سے خدانہ خواستہ دوچار ہوں گے جو ماضی ٔ بعید میں ہیروشیمااور ناگاساکی کا ہوا۔اس لیے اگر بھارت اور پاکستان بہتر تعلقات پیدا کرنے کی کوشش میں آگے بڑھتے ہیں تو یہ اس خطے کی سیاست کے لئے ہی بڑی کارآمد تبدیلی کی موجب نہیںہوسکتی بلکہ ہندوستان ا ور پاکستان کے عوام قیامت سے پہلے قیامت کا منہ دیکھنے سے بچ جائیں گے۔
اب وقت آگیا ہے کہ بھارت بالخصوص سارک کو فعال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرکے برصغیر کی سُکھ شانتی، تعمیر وترقی ، نیک ہمسائیگی  اورایک بہتر مستقبل کی طرف پیش قدمی کرے۔ جنوبی ایشیا اور سارک ممالک کا ایجنڈا ہی فورم کے ساتھ منسلک ملکوں کو مل جل کر رہنے اور انہیں باہمی تنازعات، اختلافات اور مسائل کے دلدل سے نکال باہر کر نا ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے آج تک ا س فورم نے بھی ایسے تمام مواقع کو پس پشت ڈالا جو دوطرفہ اعتماد سازی کو ممکن بناسکتے ۔ وجہ ظاہر ہے کہ اس کے چارٹر میں رُکن ممالک کے درمیان ودطرفہ مسائل کو چھیڑنے کی ممانعت ہے، باوجودیکہ ان مسائل سے پورا خطہ بری طرح متاثر ہوتا ہو ۔ وقت کی پکار یہ ہے کہ اس چارٹر کو وسیع البنیاد بنایا جائے ۔ اگر آج سارک فورم جنوبی ایشیا کو لاحق انتہا پسندی، دہشت گردی، کشمیر اور پانی کے تنازعات جیسے مسائل کا حل مل جل  نکال کر آگے بڑھے تو یہ مسائل بھی حل ہوں گے اور تعلقات میں بھی بہتری ایک زندہ حقیقت بن سکے گی ۔ اس کے لیے بھارت جو ایک بڑا ملک بھی ہے، کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ پاکستا ن کے ساتھ حل طلب مسائل کا نپٹارا کرنے میں پیش قدمی کرے، اور دوطرفہ معاملات کو رقابت وعداوت سے ڈیل کر نے کے بجائے غیر روایتی انداز میں منصفانہ حلوں کا نقش راہ لے کر آگے بڑھے تاکہ دنیا کے اس حصے میںترقی وخوشحالی کی جنگ جیت لی جائے۔ پسماندگی اور غربت کے خلاف یہ مشتر کہ جنگ کسی تعصب، جنون ِبالادستی، دشمنی یانفرت کے ہتھیاروں سے جیتی نہیں جاسکتی بلکہ یہ جنگ خلوص ومروت کے اسلحہ سے لیس ہوکرغریب وبے نوا لوگوں کے روز مرہ زندگی کےمسائل حل کے لئے لڑی جانی چاہیے۔ ا س سلسلے میں سارک فورم ایک کلیدی کردار ادا کرسکتاہے۔
 اس وقت بھارت میں انتخابی کشمکش جاری ہے ۔ لہٰذااس بات کے امکانات روشن نہیں ہوسکتے ہیں کہ جنگی جنون سے کام چلانے والے سیاسی نیتا اپنے مائنڈ سیٹ سے نکل باہرآ کر امن کی پٹری اختیار کرنے پر راغب ہوں۔ فی ا لوقت ملک میں سیاسی منظرنامہ دیدہ ودانستہ ایسا بنایا جاچکاہے کہ پاکستان کے ساتھ افہام وتفہیم کی وکالت کو دیش بھگتی کے منافی سمجھا جائے گا ۔ اگر چہ بہت سارے نیتا لوگ کہیں دبی اور کہیں کھلی زبان میں مودی سرکار پر الزام عائد کر ر ہے ہیں کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی اس کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ تھی، کیونکہ پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں پاکستان سے کشیدگی مودی حکومت کے لئے  امکانات روشن کر تی ہے۔ متعصب و تنگ نظر میڈیا کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ یہ بلا روک ٹوک جس پیمانے پر ملک میںجنگی جنون پروان چڑھا تا جارہاہے وہ بھاجپا کی سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ سب کچھ اچھا نہیں لیکن اس کے باوجود امن پسندوں اور دوستی ومفاہمت کے پروانوں کو مایوسی کی قطعی ضرورت نہیں کیونکہ آثار وقرائین بتارہے ہیں جیسے ہی بھارت میں انتخابات اور حکومت سازی کا مرحلہ طے ہوگا، اس کے بعد ہند پاک تعلقات کی بہتری کا نیا ماحول بننے کی پوری پوری آشا ہے  مختصراًبھارت کے انتخابی نتائج ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آنے والے ماہ وسال میں بھارت پاک تعلقات میں بہتری کی نہج کیا ہوگی ۔ ابھی ہمیں ۲۳مئی کی ووٹ شماری تک انتظار کر ناہوگا۔    