تازہ ترین

تم میرے پاس رہو

کہانی

10 مارچ 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

رحیم رہبر
پھولوں کی پنکھڑیوں پر اوس کے قطرے موجود تھے۔ اُجالا داغ داغ تھا! آکاش کو جیسے سیاہ پینٹ سے رنگا گیا تھا!
’’یہ کیا حادثہ ہوا!؟‘‘ میں چونک اُٹھا۔ میں زور سے چلایا۔ میری آواز سن کر اماں اور ابو دونوں کچن سے باہر برآمدے میں آگئے۔
’’کیا۔۔۔ کیا ہوا بیٹے!؟‘‘ امی نے تعجب سے پوچھا۔
’’امی جان۔۔۔ دیکھ۔۔۔ دیکھ ذرا۔۔۔ اُوپر دیکھ‘‘ میں نے سہمی ہوئی آواز میں کہا۔
’’کیا ۔۔۔ کیا دیکھوں۔۔۔ کہاں دیکھوں؟‘‘ امی جان بولی۔
’’یہ ۔۔۔ یہ دیکھ‘‘۔ میں نے گملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’اُف عیسیٰ! تم بھی صبح سویرے کیا اناپ شناپ بولنے لگے ہو؟‘‘۔ ابو غصے میں بولا۔
’’ذرا دیکھ۔۔۔ اوپر آسمان کی طرف دیکھ۔۔۔ دیکھ آکاش پر کیا ہورہا ہے!؟ تاروں کو لوٹنے کی بڑی سازش ہورہی ہے!‘‘۔
’’استغفراللہ! آکاش پہ یہ کالا رنگ کس نے چڑھایا! پھولوں پر یہ سیاہی کیسے چھاگئی!‘‘ امی کے ہونٹوں پہ خوف رقصاں تھا۔ 
’’آس پاس کا سارا ماحول دُھندلا دُھندلا سا ہوگیا!یہ ۔۔۔ یہ کیسے ہوا۔۔۔ کس نے کیا۔۔۔ کیوں کیا!؟‘‘ ابو حیرانگی میں بولے۔
’’ابو! پڑوسی کی چھت کی طرف بھی دیکھ۔ مینا بھی ڈر کے مارے گھونسلے سے باہر نہیں آرہی ہے!‘‘۔
’’ہاں ۔۔۔ ہاں بیٹے پرندے خوف کے مارے گھونسلوں سے باہر نہیں آرہے ہیں!‘‘ امی جان کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں تھے۔
’’خدا خیر کرے۔۔۔ کہیں قیامت کا بگل تو نہیں بجا!؟ کہیں کچھ نظر نہیں آرہا ہے! سیاہ نمی سے صبح وضو کررہی ہے! راہوں پہ کچھ سیاہی پُت چکی ہے! آنگن آنگن سُنسان ہیں! کالے دھویں نے ساری بستی کو گھیرے میںلے رکھا ہے!‘‘ امی جان اور ابو آپس میں باتیں کررہے تھے۔
نیم شب کو مجھے لگا تھا کہ آکاش کو کسی نے زخمی کردیا ہے!سرخ گھائو آکاش پہ صاف دکھائی دیتے تھے۔یہ ڈراونا اور ہیبت ناک منظر دیکھ کر میں جلدی سے اندر اپنے بیڈروم میں گھس گیا۔ مجھ پر نیند جلدہی حاوی ہوگئی اور میں گہری نیند سوگیا۔
’’کچھ تو گڑبڑ ہے!‘‘ امی جان ابو سے بولی۔
’’ہاں۔۔۔ کچھ نہ کچھ ضرور ہواہے! جبھی تو لوگ گھروں میں محصور ہیں۔‘‘ ابو نے امی جان کو جواب دیا۔
ہم تینوں بے قراری کے عالم میں برآمدے سے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔۔۔ ایک عجیب سا سناٹا چھایا ہو اتھا۔ میں نے موبائل آن کیا۔۔۔ لیکن نیٹ بند آرہا تھا۔
’’بیٹے! خاور سے ذرا پوچھ کیا آفت آن پڑی ہے۔‘‘ ابو کے کہنے پر میں نے موبائل پر خاور سے بات کی۔
’’ہیلو۔۔۔ ہیلو ۔۔۔ خاور‘‘۔
’’ہیلو۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں عیسیٰ‘‘۔ خاور بولے
’’یار! آکاش پر کسی نے سیاہ پینٹ کیا ہے!‘‘
’’کیا۔۔۔!؟‘‘ خاور تعجب سے بولے۔
’’ہاں۔۔۔ ہاں خاور اپنےکمرے کی کھڑکی کھول کر دیکھ۔‘‘
امی جان اور ابو فون پر ہماری گفتگو سن رہے تھے۔ وہ دونوں تذبذب میں تھے۔
’’ہیلو۔۔۔ہیلوعیسیٰ۔‘‘
’’ہیلو۔۔۔۔ہاں خاور سُن رہا ہوں۔‘‘
’’ابھی کچھ دیر قبل بغیر آواز کے جہاز آسمان پر پرواز کررہے تھے‘‘۔ خاور بولا
جہاز کا نام سن کر امی جان نے زور سے میرا دائیاں ہاتھ تھام لیا اور وہ مجھے برآمدے سے اندر کچن میںلے گئی۔
’’اُس دن بھی اسی طرح بغیر آواز کے جہاز ہمارے آنگن کے اوپر سے پرواز کرگئے تھے۔ احمدتمہارا بڑا بھائی تب بیس برس کا ایک خوبصورت جوان تھا۔ دھویں سے سارا آکاش سیاہ پڑ گیا تھا! ہر گھر کے آنگن میں دہشت پہرہ دے رہی تھی۔ ذہریلے دھویں سے احمد کی بینائی چلی گئی۔ احمد کو اپنی بینائی کھونے کا غم کالے ناگ کی طرح اندر ہی اندر ڈسنے لگا! یہاں تک کہ وہ ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’پھر۔۔۔ پھر کیا ہوا امی جان!؟‘‘
’’بیٹا! وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا! احمد کی بے وقت موت نے تیرے ابو کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ بستی کا ہر گھر ماتم سرا بن گیا۔‘‘
’’امی! اُس دن بھی ۔۔۔۔!؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ ہاں بیٹے جنگی جہازوں کے زہریلے دھویں سے ہیروشیما اور ناگاساکی کی یاد پھر ایک بار ادراک کے دریچے پر دستک دینے لگی۔ لوگ ذہنی تنائو (Mental Depression)کا شکار ہونے لگے۔جنگی جنون آشائوں کے محل خانوں کو راکھ کرکے چھوڑتا ہے۔ پھر بے بس اور مجبور انسان سب کچھ بھول جاتا ہے۔خواب بھی اور آزادی بھی!‘‘
امی جان نے مجھے بچے کی طرح گود میں چھپایا۔ وہ بلک بلک روتے ہوئے مجھ سے کہہ رہی تھی۔ 
’’میں تمہیں ہرگز درد کی انجمن کے حوالے نہیں کروں گی۔ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی ہوں۔ تم میرے پاس رہو۔‘‘
رابطہ: آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ
موبائل نمبر  ؛9906534724