تازہ ترین

رافیل سودا

اپوزیشن متحدہ ہے؟

19 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
رافیل   معاملت پر ایوان پارلیمٹن میں کامپٹرولر اینڈ آڈٹر جنرل آف انڈیا CAGکی رپورٹ کی پیش کر نے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ  ابھی کسی منطقی انجام پر نہیں پہنچی۔ رپورٹ میں این ڈی اے حکومت کے موقف کی حمایت کی گئی اور یہ انکشاف کیا گیا کہ این ڈی اے حکومت نے رافیل معاملت سے 335ملین یورو کی بچت کی ہے۔ یہ یوپی اے حکومت سے کئے گئے سودے کے مقابلہ میں 17.08% سستا ہے اور رافیل لڑاکا جیٹ طیارے یو پی اے حکومت کی مقررہ قیمتوں کے مقابلہ میں 2.86% کم ہیں۔
  وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے دعویٰ کیا ہے کہ CAG کی رپورٹ سے مہاگٹھ بندھن مہا جھوٹ بندھن ثابت ہوا۔ دوسری طرف اپوزیشن نے CAG کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا مسٹر راجیو مہہ رشی پر ہی کئی سوالات کھڑے کردئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر راجیو رافیل معاملت کے وقت فائنانس سکریٹری رہے اور وہ اس سودا کا جز ہیں۔ اس لئے وہ یہ رپورٹ پیش نہیں کرسکتے۔جیسا کہ قارئین جانتے ہیں کہ رافیل فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی DASSAULT نے تیار کیا ہے۔ یہ انتہائی طاقت ور، برق رفتار، دور تک نشانہ لگانے والا ڈبل انجن جیٹ لڑاکا طیارہ ہے۔ ہندوستان نے Dassault سے ستمبر 2016ء میں 7.81بلین یورو کی لاگت سے 33؍رافیل طیاروں کی خریدی کا معاہدہ طے کیا تھا۔ پہلے HAL یہ ذمہ داری دی جانے والی تھی تاہم DASSAULT سے معاہدہ طے کیاگیا۔ نومبر 2017ء میں کانگریس نے اسے سب سے بڑا گھپلا قرار دیا تھا۔ یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ مسٹر نریندر مودی نے انیل امبانی کو 30ہزار کروڑ روپے فائدہ پہنچایا ہے۔ رافیل کے معاملہ ہی میں ’’چوکیدار ہی چور ہے‘‘ کی اصطلاح ایجاد ہوئی اور آج صرف راہول گاندھی ہی نہیں بلکہ سبھی اپوزیشن چوکیدار کو تبدیل کرنے کی بات کرنے لگے ہیں۔ سی اے جی کی رپورٹ کو اس پس منظر میں زبردست اہمیت حاصل ہے کیوں کہ CAG دراصل حکومت ہند اور تمام ریاستی حکومتوں کا چارٹرڈ اکائوٹنٹ ہے۔ یہ 4400؍ اداروں کے مالیاتی امور کا نگران ہے۔ ان کے مصارف پر کنٹرول بھی کرتا ہے اور ان کی آڈٹ بھی کرتا ہے۔
CAG‘ سپریم کورٹ کے جج کے عہدہ کے مماثل ہوتا ہے، جس کا تقرر صدر جمہوریہ کرتے ہیں ۔اس کی میعاد 6سال یا عمر کی حد 65سال تک کی عمر ہوتی ہے۔ یہ آڈٹ رپورٹ اور ڈاٹا صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کو پیش کرتا ہے۔ اس کی رپورٹ تحقیقات پر مبنی ہوتی ہے۔ سابق CAG مسٹر ونود رائے کی رپورٹ کی بدولت کامن ویلتھ گیمس اسکام، کوئلہ اسکام منظر عام پر آئے تھے۔ اس سے پہلے ان کے پیش رو نے شاردا ہائوزنگ سوسائٹی اسکام کا پردہ فاش کیا تھا۔ CAG کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی بی سی سی آئی جیسے ادارے کا وقار دائو پر لگ گیا تھا۔ اس مرتبہ بھی یہی سمجھا جارہا تھا کہ موجودہ CAG کی رپورٹ سے حقائق منظر عام پر آئیںگے۔ تاہم کانگریس نے مسٹر راجیو مہہ رشی ہی یہ سوالات کرکے CAG کے وقار کو دائو پر لگا دیا ہے۔CAG ہندوستان میں برطانوی سامراجی نظام کی یاد گار ہے۔ 1858ء میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کا عنان اقتدار حاصل کرلیا تھا تب 1860 میں پہلے آڈیٹر جنرل کا تقرر عمل میں آیا تھا۔ اسے ابتداء ہی سے ایک ا ٓزادانہ اور خود مختار ادارہ تسلیم کیا گیا۔ 1930ء میں قانون سازی کے تحت اس ادارہ اور عہدہ کو مزید اختیارات عطا کئے گئے۔ گورنر جنرل آف انڈیا کی جانب سے تقرر اور ان ہی کی جانب سے برخواستگی کا آغاز ہوا۔ اب وزیر اعظم کی جانب سے نامزدگی پر صدر جمہوریہ ا س کا تقرر کرتے ہیں اور انہی کو عہدہ سے برخواست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
1976ء سے ریاستی حکومت کے اکائونٹس کی تیاری ریاستوں کے اکائوٹنٹ جنرل کرتے ہیں جس کی نگرانی CAG کرتا ہے۔بہرکیف رافیل معاملت پر سی اے جی رپورٹ کو اس لئے اپوزیشن نے تسلیم نہیں کیا کہ اس رپورٹ میں رافیل طیاروںکی قیمت کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ جہاں تک گھپلے بازی کے الزامات کا تعلق ہے‘ یہ کوئی تعجب یا حیرت کی بات نہیں۔ ہندوستان جب سے آزاد ہوا ،تب سے لے کر آج تک ہم نے ہر شعبہ ٔحیات میں گھپلوں میں مسابقت کی ہے۔ یہ ایک شرم ناک حقیقت ہے کہ حکومتیں چاہے کسی بھی سیاسی جماعت کی رہی ہوں‘ انہوں نے اپنے اپنے دور میں اپنے مفادات کے لئے اپنے ملک وقوم کے مفادات کا سودا کیا۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ IMFکی ایک رپورٹ کے مطابق دو کھرب ڈالرس تو صرف رشوت میں چلے جاتے ہیں اور ایشیا پیسیفک خطہ میں ہندوستان سب سے زیادہ کرپٹ ملک ہے۔اگر وکی پیڈیا کے ڈاٹا پر یقین کیا جائے تو پتہ چلتاہے کہ 1940ء کے دہے میں سب سے بڑا گھپلاآزاد ہند فوج نے کیا۔ سبھاش چندر بوش کی تشکیل دی گئی فوج کے ارکان نے نیتاجی کے سونے کے خزانے کو غائب کردیا تھا۔ اگرچہ کہ اس شک کو پنڈت نہرو نے مسترد کردیا تھا۔ 1948ء میں برطانیہ میں ہندوستانی ہائی کمشنر وی کے کرشنا مینن نے اپنے مراتب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک غیر ملکی فرم سے جیپ کی خریدی کا 80لاکھ روپے کا معاہدہ کیا تھا جس پر کئی انگلیاں اٹھائی گئیں۔
بوفورس سوداہو یا نیلگی اسکام ان سب نے ہندوستان کی معیشت کو کھوکھلا کردیا تھااور اب بھی اس کے اثرات باقی ہیں۔ بنکوں سے قرض لے کر فرار ہونے والے سرمایہ دار جو ارباب اقتدار کے فیا ئنانسر رہے ہیں، انہوں نے ملک کو تباہ کردیا اور خود کو دیوالیہ قرار دیا۔ان کے ساتھ ساتھ بنک دیوالیہ ہوگیا جنہیں چلانے کے لئے نوٹ بندی کی گئی اور غریب عوام کو کنگال کردیا گیا۔ یہ ایسے حقائق ہیں جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ تاہم اس کا اثر موجودہ حکومت پر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
اپوزیشن اتحاد میں کتنا دم
رابرڈ واڈرا سے افورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ میں سوالات پوچھے جاتے رہے اور دوسری طرف پرینکا گاندھی کا اترپردیش میں روڈ شو جاری تھا ۔کانگریس نے طاقت کا زبردست مظاہرہ کیا ۔ ایک رپورٹ کے مطابق پرینکا گاندھی نے اترپردیش میں کانگریس قائدین اور کارکنوں میں زبردست تال میل پیدا کیا ہے۔ کانگریس میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہوا ہے۔ اس پس منظر میں اپوزیشن نے مودی حکومت کے خلاف جنترمنتر پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور جس کی قیادت دہلی کے چیف منسٹر اروند کیجریوال نے کی اور جس میں کانگریس، این سی پی،ترنمول کانگریس، تلگودیشم پارٹی اور کئی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس میں شریک رہے، پھر شرد پوار کی قیام گاہ پر مہاگٹھ بندھن میں شامل قائدین کا اجلاس جاری رہا۔ الیکشن 2019ء میں مودی کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہاہے مگر اپوزیشن اب بھی صحیح معنوں میں متحد نہیں ۔ کیوں کہ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی میں اتحاد ہوا‘ کانگریس علیحدہ ہے اور 13؍فروری کو ایوان پارلیمنٹ میں سماج وادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو نے نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے ان کے دوبارہ اقتدار اور وزارتِ عظمی پر فائز ہونے کے لئے ’’نیک تمنائوں‘‘ کا اظہار کیا۔ ایک ایسے وقت جب ملائم سنگھ کے بیٹے اکھیلیش یادو اُترپردیش میں کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کررہے ہیں‘ ملائم سنگھ کے الفاظ نے کچھ اور پیام دے دیا۔ میڈیا نے اُسے زبردست اُچھالا اور اسے ایس پی بی ایس پی اتحاد پر کاری ضرب قرار دیا۔ لگتا ہے کہ اب بھی باپ بیٹے کے درمیان سرد جنگ جاری ہے۔ سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے ہی ملک کی تاریخ دیکھیں تو کئی تلخ حقائق سامنے آتے ہیں کہ مسند اقتدار کے لئے کبھی کسی بیٹے نے اپنے باپ کو قید کیا تو کسی باپ نے بیٹے کو قتل کروادیا، بھائی نے بھائی کو راستہ سے ہٹادیا۔ یہ سلسلہ شاہی حکومتوں میں بھی جاری رہا اور جمہوریت میں بھی۔ 2019ء کے الیکشن کے لئے دو مہینوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ بی جے پی پر بظاہر تنقید یں تو ہورہی ہیں مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ مجموعی طور پر وہ ابھی سیاسی طور مستحکم ہے، جب کہ اپوزیشن کی گروپ بندیاں نریندر مودی کو بڑی آسانی کے ساتھ دوبارہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر لابٹھاسکتی ہے۔ ایک بات ضرور سامنے آئی کہ قومی سطح پر چندرا بابو نائیڈو نے اپنا اثر پیدا کیا اچھا ہوتا اگر تلنگانہ کی قیادت اور کانگریس بھی ایک متحدہ پلیٹ فارم سے مقابلہ کرتی اور تاریخ کو بدل کر رکھ دیتی مگر اس کے ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے!!!
رابطہ :ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد۔ فون:9395381226