تازہ ترین

کشمیریوں کی معصومیت کا استحصال کب تک؟

سوزِ دروں

19 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

منظور انجم
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹا سا واقعہ پنے وقت کے  انسانوںکو جھنجھوڑ کران کے سامنے ماضی کے بڑے بڑے سانحوں کے وہ باب کھول کے رکھ دیتا ہے جنہیں وقت کی گردشیں یاداشت کے پردوں میں کہیں گم کرچکی ہوتی ہیں ۔ شاید فطرت اسی طرح سے ہر دور کے انسانوں کو ان فاش غلطیوں کا احساس دلاتی ہے جنہیں ان کی پچھلی نسلیں یکے بعد دیگرے دہراتی رہتی ہیں ۔ ہر نسل تباہی کی درد ناک داستان آنے والی نسل کے لئے تازیانہ عبرت کے طور پر چھوڑ جاتی ہے لیکن آنے والی ہر نسل پچھلی غلطیوں کو سدھانے کے نام پر پہلے سے بھی بڑی غلطیوں کا ارتکاب کرکے اگلی نسل کی وراثت میںدرد و کرب کی سوغا ت چھوڑ جاتی ہے ۔اکثر کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن یہ سوال کوئی کسی سے نہیں پوچھتا کہ کیوں دہراتی ہے ؟۔ تاریخ اپنے آپ کو اسی لئے دہراتی ہے کہ اپنی غلطیوں کو دہرانا انسان کے خمیر میں ہے اور اس کی ہر غلطی پہلے سے زیادہ بدتر نتائج پیدا کرتی ہے ۔برصغیر کے ڈیڑھ ارب انسانوں کی آبادی پچھلے ستر سال سے بہت اچھی طرح سے جانتی ہے کہ کشمیر جس آگ میں جھلس رہا ہے ،اس میں دنیا کی اس وسیع آبادی کی تقدیر بھی جل رہی ہے لیکن اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کی آواز اگر کہیں سے اٹھتی ہے تو اس کا گلا گھونٹ دینے کے لئے بیک وقت سب کے سب اٹھ کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
برصغیر کی تقسیم انسانی تاریخ کا وہ خونین باب ہے جس نے دس لاکھ سے زیادہ انسانوں کو خون میں نہلایا ۔ لاکھوں خاندانوں کو اجاڑ دیا۔لاکھوں عصمتوں کے آبگینے تار تار کردئیے اور کروڑوں انسانوں کے خون میں نفرتوں کا زہر بھر دیا جو نسل در نسل منتقل ہوتا چلا جارہا ہے۔اسی المیے کی کوکھ سے مسئلہ کشمیر نے جنم لیا ۔دو آزاد ملکوں کا کشمیر پر یکساں دعویٰ تھا ۔ دونوں نے جنگ لڑی اور اس ریاست کو جس کا نام ریاست جموں و کشمیر لداخ و شمالی علاقہ جات تھا ،تقسیم کردیا ۔آدھا حصہ پاکستان نے حاصل کیا اور آدھا ہندوستان نے، لیکن پورے کے پورے حصے پر دونوں کا دعویٰ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ۔ونوں کی لڑائی کا میدان وہ حصہ بنا جو ہندوستان کے زیر انتظام ہے ۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان میںآزادی کے بعد جمہوری نظام قائم ہوا اور پاکستان میں قریباً پچاس سال تک فوجی مطلق العنانیت قائم رہی ۔مطلق العنایت میں خود پاکستان کے عوام بھی حقوق کی بات زبانوں پر نہیں لاسکتے تھے تو ریاست کے اس حصے کی اوقات ہی کیا تھی کہ جس پر قبضہ کیا گیا تھا ۔ہندوستان کے زیر انتظام حصے میں جمہوری نظام رائج ہوا مگر مطلق العنانیت میںبھی جو نہیں ہوسکتا تھا، وہ بھی اس نظام کی آڑ میں ہوا۔منتخب وزیر اعظم کو کرسی سے اتار کر جیل بھیج دیا گیا ۔ انتخابات کے نام پر شرمناک ڈرامے ہوئے ۔وعدہ خلافیاں ، بے وفائیاں ، دغابازیاں ، فریب کاریاں ، سازشیں اور قتل وغارت گری کام گھنائونا کھیل چلتا رہا ۔اس کا انجام یہی ہونا تھا کہ نفرت کا وہ زہر جو ان قوموں کی رگ رگ میں سرایت کرگیا تھا ،اس قوم کی نسوں میں بھی اتر گیا جس کی تہذیب ان دونوں قوموں سے الگ تھی۔صبر کا باندھ ٹوٹ گیا تو نتیجہ اس بلا کی صورت میں سامنے آیا جسے بندوق کہا کرتے ہیں ۔جس کشمیری کے ہاتھ میں یہ بندوق آئی، اس سے بڑا امن پسند پوری دنیا میں کوئی نہیں تھا ۔ اس سے بڑا روا دار اور اس سے بہتر انسان نواز انسانی تاریخ نے شاید ہی کسی قوم کو دیکھا ہو ۔ گاندھی بڑا صاحب نظر تھا اسے کشمیر میںہی روشنی کی کرن نظر آئی تھی ۔اگر وہ اور کچھ عرصہ زندہ رہتا تو کشمیر میں جو کچھ اس ملک نے کیا ،جسے اس نے انگریزوں سے آزادی دلائی ،اسے دیکھ کر خود کشی کرلیتا ۔ہندو ستان کے باپو موہن داس کرم چند گاندھی کو ناتھو رام گوڈسے نے گولی ماردی ۔ لیکن ہندوستان کا اقتدار اسے مرنے کے بعد بھی بار بار گولیاں مارتا رہا ۔ کشمیر کی سرزمین پر گاندھی کا نحیف بدن بار بار چھلنی ہوا ۔گاندھی کے نظریات کی اصل موت کشمیر میں ہوئی اور اس کی سزا ہندوستان کو یہ ملی کہ اس پر گوڈسے مسلط ہوا۔شاید یہ بات کچھ عجیب سی لگے لیکن حقیقت یہی ہے ۔ اگر کشمیر میں وہ سب کچھ نہیں کیا جاتا جو کیا گیا اور ایسے حالات پیدا نہیں ہوتے جو ہوئے تو بہت مشکل تھا کہ ہندوستان جیسے ملک میںآر ایس ایس کا نظریہ برسر اقتدار آجاتا ۔یہ اس ہندوستان کی شکست ہے جو دنیا کی عظیم جمہوریت کہلاتا ہے ۔ جو سیکولر نظرئیے پر وجود میں آیا تھا اور انسانی قدروں کی علمبرداری جس کانعرہ تھا ۔
یہ تمہید اس جملے کی وضاحت کے لئے ضروری تھی جو اس کالم کا پہلا جملہ تھا کہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹا سا واقعہ اپنے وقت کے انسانوں کو جھنجھوڑ کر ان کے سامنے بڑے بڑے سانحوں کے وہ باب کھول کے رکھ دیتا ہے جنہیں وقت کی گردشیں یاداشت کے پرودوں میں کہیں گم کرچکی ہوتی ہیں ۔یہ چھوٹا سا واقعہ جموں میں گزشتہ دنوں اس وقت رونما ہوا جب جموں سرینگر شاہراہ بند ہونے کے سبب جموں میں انتہائی بے بسی اور بے کسی کی حالت میں درماندہ کشمیریوں نے حکومت کیخلاف مظاہرے کئے ۔ وہ گھر جانا چاہتے تھے اور حکومت کی مدد کے طلب گار تھے ۔ وہ حکومت کو جگانے کے لئے سڑکوں پر آئے تھے کہ جموں میں سائنس کالج کے طلباء نے باہر آکر ان پر پتھرائو کیا۔انہیں ملک دشمن اور دہشت گرد کہہ کر پکارا اور ان پر حملہ آور ہوئے ۔بے بس کشمیریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو انہوں نے جواب میں آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ اس پر دونوں گروہوں کے درمیان ٹکرائو ہوا ۔ خیر ہوئی کہ پولیس نے بروقت مداخلت کرکے حالات پر قابو پایا ۔اس واقعہ نے یہ ظاہر کردیاکہ نفرت کا زہر اب کہاں کہاں تک اور کس گہرائی تک پیدا ہوا ہے ۔کشمیری جموں اس لئے نہیں گئے تھے کہ وہ وہاں جاکر آزادی کا مطالبہ کریں ۔ وہ ہندوستان کے خلاف نعرے لگانے کے لئے بھی نہیں گئے تھے ۔وہ صرف اپنی مجبوری کا رونا رورہے تھے لیکن انہیں آزادی کا مطالبہ کرنے پر اکسایا گیا اور ہندوستان کے خلاف نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا ۔آج یہ کام جموں کے وہ طلباء کررہے ہیں جو آر ایس ایس کے ہندو وادی نظرئیے کے ریکروٹ ہیں۔ستر سال پہلے یہ کام ہندوستان کا اقتدار کررہا تھا اور چالیس سال پہلے فوج نے یہ کا م شروع کیا جب بادامی باغ کنٹونمنٹ سے فوج کے جوانوں نے نکل کر کے ایم ڈی اڈے میں ڈرائیوں ، کلینروں اور راہ چلتے لوگوں کو بندوقوں کے بٹھوں سے پیٹا ۔کشمیر کے نوجوانوں نے بندوق ہاتھ میں اٹھائی اور آزادی کا نعرہ بلند کردیا ۔اُس وقت تک کشمیر یوں کے اندر ایسا جنون پیدا کیا گیا تھا جو بے خطر آگ میں کودنے سے بھی دریغ نہیں کرتا ۔اس لئے دنیا نے دیکھا کہ پوری آبادی اس بندوق کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔بندوق کشمیریوں کا عشق نہیں تھا ۔ انہیں اس کا عاشق بنادیا گیا اور جب کشمیر میں بندوق داخل ہوئی تو فوج بیرکوں سے نکل کر بستیوں میں آگئی۔کریک ڈائون ہوئے ۔ خانہ تلاشیاں ہوئیں ۔ گائو کدل سانحہ ہوا ۔ حول کا المیہ ہوا ۔ کنن پوشہ پورہ ہوا ۔ سوپور ۔ ہندوارہ جیسے بے شمار سانحے ہوئے ۔ ہر سانحے نے آتش انتقام کو اور زیادہ بھڑکا دیا ۔ آزادی کی تڑپ کو اور زیادہ بڑھا دیا ۔آج بھی یہی کام ہورہا ہے ۔ اننت ناگ میںمبینہ طور فوج لڑکوں کو پکڑ کر لے جاتی ہے اور فوج کے افسر ان سے کہتے ہیں کہ وہ بندوق اٹھا کر جنگجو بن جائیں اوراگر وہ ایسا نہیں کریں گے تب بھی مارے جائیں گے ۔یہ اس لئے ہورہا ہے کہ اب یہ ایک بہت بڑا کاروبار بن چکا ہے ۔ ترقیوں ، میڈلوں ، اور بے پناہ سرمائے کے حصول کے لئے بھی جنگجو پیدا کئے جارہے ہیں اور پھر انہیں قتل بھی کیا جارہا ہے ۔ مخبری کے نام پر بھی قتل کرائے جارہے ہیں اور اختلاف کے نام پر بھی ۔ ہر قتل کے پیچھے کسی کی غرض اور کسی کا ہاتھ ہوتا ہے ۔
بندوق کشمیر کی نہ اپنی بنائی ہوئی ہے اور نہ اپنی خریدی ہوئی ہے ۔یہ وہی ملک فراہم کررہا ہے جو ہندوستان کے زیر انتظام حصے کا بھی دعوے دار ہے۔وہ ہندوستان سے نفرت بھی کرتا ہے اور اس سے انتقام بھی لینا چاہتا ہے ۔ اسے جب انتقام لینے کا موقعہ ہاتھ آیا تو اس نے کشمیر ی کو نہیں چنا کیونکہ اس کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ کشمیری بندوق بھی اٹھاسکتا ہے اور لڑبھی سکتا ہے ۔ اس نے پنجاب کو چنا ۔ خالصتان کی تحریک کیلئے اس نے وہ رائفلیں، جو افغان جنگ سے اسے فراوانی سے میسر ہوئی تھیں، سکھوں کو وقف کردیں ۔سکھ ازل سے ہی ایک جنگجو قوم رہی ہے ۔پاکستان ہندوستان کے سینے میں چھید کرنے میں کامیاب ہوا ۔ خالصتان کی تحریک عروج پر تھی کہ ایک خیال آیا کہ کشمیر میں بھی محدود پیمانے پر جنگجویانہ سرگرمیاں شروع کی جائیں تاکہ ہندوستان کی توجہ بٹ جائے اور اس کی اقتصادی حالت اسی طرح بگڑ جائے کہ اس کا انجام بھی سوویت یونین جیسا ہو لیکن جب عسکری تربیت کے دروازے کھلے تو ایک سیلاب آگیا ۔ پچاس سال کے غصے اور اشتعال کو ایک راستہ ملا ۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان عسکری تربیت کیلئے کنٹرول لائن پار کرگئے ۔ خالصتان تحریک دم توڑ چکی تھی، اس لئے ساری توجہ کشمیر پر مرکوز ہوئی ۔ پہلا کام یہ کیا گیا کہ عسکری قیادت بھی کسی ایک کے ہاتھ میں رہنے نہیں دی گئی اور سیاسی قیادت بھی کسی ایک فرد تک محدو د نہ رہنے دی گئی ۔سارا کنٹرول اپنے ہی ہاتھوں میں رکھا گیا ۔پڑھے لکھے نوجوانوں کی بہت بڑی تعدا د عسکری تربیت حاصل کرچکی تھی لیکن چھوٹی چھوٹی تنظیموں میں عسکری تحریک کو بانٹا گیا اور علم سے محروم افراد کو ہی ان کی قیادت دی گئی لیکن جب پڑھے لکھے لوگ بھی تابعداری میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے لگے تو انہیں بھی سامنے لایا گیا ۔اب کشمیر کا نوجوان لڑبھی رہا ہے اور مربھی رہا ہے لیکن اس کے اپنے اختیار میں نہ لڑنا ہے اور نہ ہی مرنا ہے ۔منصوبے جو بھی بنتے ہیں اورجہاں بھی بنتے ہیں، کشمیر ی اسے پورا کرتے ہیں ۔ عسکری نوجوانوں کے ہاتھوں ۔ مین سٹریم لیڈروں کے ہاتھوں ۔ مزاحمتی قیادت کے ہاتھوں وہ منصوبے پورے ہوتے ہیں جن کے مقاصد تک کا بھی کسی کو کوئی پتا نہیں ہوتا۔غلامی کی یہ ایک نئی صورت ہے بلکہ یہ ہر غلامی سے بدتر صورتحال ہے ۔ہر حساس انسان کا جگر پارہ پارہ ہوجاتا ہے جب معصوم بچے بے بسی کے ساتھ مارے جاتے ہیں ۔وہ گولیاں ضرور چلاتے ہیں مگر جب بھی انکاونٹر ہوتا ہے، مرنا انہی کا مقدر ہوتا ہے ۔یہ کونسی جنگ ہے اور کیسی لڑائی ہے جس میں ایک فریق ہی موت کا ایندھن ہے ۔ کشمیر کی آج کی حقیقت بس یہی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کشمیریوں کی معصومیت کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔ آزادی پسند لیڈر ہماری معصومیت سے کھیل رہے ۔ مین سٹریم لیڈر ہماری معصومیت سے کھیل رہے ہیں اور بہت بے دردی کے ساتھ کھیل رہے ہیں لیکن جب ہمارے جنون کا پارہ اتر جائے گا تو ایک انقلاب بپا ہوجائے گا اور اس انقلاب میں ہمارے ساتھ ساتھ ایک دنیا برباد ہوکر رہ جائے گی ۔
 بشکر یہ ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر