تازہ ترین

بیرونِ ریاست کشمیری طلاب کی پریشانیاں۔۔۔ انتظامی تحرّک کی ضرورت!

19 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

لیتہ پورہ سانحہ کے بعد جموں میں پیدا کئے گئے خوف و دہشت کے حالات کے نتیجہ میں جانبدارانہ طرز فکر کے حامل میڈیائی اداروں اور سوشل میڈیا کی مہربانی سے ملک کی کئی ریاستوں میں کشمیری طلاب اور تجار کےخلاف جذبات بھڑکا کر عوام کو مشتعل کرنے کی جو مہم برپا کی گئی، اُس نے سیاسی ونظریاتی صف بندیوں کے آر پار سنجیدہ فکر حلقوں کو حیران و ششدر کرکے رکھ دیا ہے کہ، کیا ایک جمہوری نظام میں مخصوص لیبل چسپان کرکے بے یارومددگار اور بے گناہ شہریوںکو فکری و عملی تشدد کا نشانہ بنایاجاسکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہے تو کیا یہ جمہوری اصولوں کے اقداروا صولوں کا کھو کھلا پن ہےیا پھر انہیں زمینی سطح پر نافذ کرنے والوں، جن میں سیاسی جماعتیں اور انتظامی صیغے شامل ہیں، کی بےبسی اور ناکامی کا مظہر ہے۔ معاملہ کچھ بھی ہو حقیقت یہی ہے کہ متعدد ریاستوں خاص کر اُترا کھنڈ، راجستھان، ہماچل پردیش، ہریانہ اور کرناٹک وغیرہ میں نہ صرف طلبہ و طالبات کو تواتر کے ساتھ ہراسان کرنے کے واقعات پیش آئے بلکہ انہیں مختلف بہانوں سے تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی احتراز نہ کیا گیا۔ نتیجتاً خوف و ہراس میں مبتلا یہ بچے اب اپنے گھروں کو لوٹنے کےلئے بے تاب ہیں۔ا گر چہ سینکڑوں طلاب کو انسانی ہمدردی کے اصولوں پر کام کرنے والے کچھ اداروں نے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں پہل کی ہے اور ہریانہ و پنجاب کے کئی دیہات میں بچوں کے حوصلے برقرار رکھنے کےلئے مقامی لوگوں نے بھر پور تعاون کیا ہے، لیکن کچھ حلقے ، بھلے ہی وہ چھوٹے ہوں، اشتعال انگیزیوں کو ابھی بھی ہوا دینے سے باز نہیں آرہے۔ اگر چہ مرکزی حکومت نے مختلف ریاستوں کو وہاں مقیم کشمیری طلاب، تاجروں اور آجروں کو تنگ طلب کرنے کی کاروائیوں پر نظر رکھنے اور انکی مشکلات کا ازالہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے اور ریاست کی گورنر انتظامیہ نے بھی چھ خطوں کےلئے متعینہ رابطہ افسروں کے ذریعے بیرون ریاست کشمیریوں کو ہراسانی سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کئے ہیں۔ اس کے علاوہ شوشل میڈیا کے توسط سے کشمیریوں کو خوامخواہ بدنام کرکے لوگوں کو انکے خلاف مشتعل کرنے کے پوسٹ اپلوڈ کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، حالانکہ یہ ایک امید افزا ء بات ہے کہ ہریانہ کی پولیس نے دو ایسے معاملوں میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ متعدد ریاستوں میں کئی طلبہ و طالبات کےخلاف معاملے درج کئے گئے ہیں اور کئی ایک کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر اس ساری صورتحال میں دہرے معیار اور امتیازی سلوک کے نقوش صاف دکھائی دیتے ہیں، جن سے صرفِ نظر کرناکسی بھی جمہوری نظام کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ اس طرح متعدد حلقے یہ کہنے میں شاید حق بجانب ہیں کہ ملک کے اندر کچھ سیاسی حلقے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے نوجوان کشمیری نسل کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلنے کے جتن کر رہے ہیں۔ یہ طرز عمل اگر چہ ایسے مخصوص حلقوں کا ماضی میں بھی وطیرہ رہا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ریاستی و مرکزی سطح پر انتظامی ذمہ دار ایسی کوششوں کو روکنے کی کوئی واضح کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے،جموں میں ہی لیتہ پورہ واقعہ سے چند روز قبل جموں سرینگر شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے درماندہ مسافروں کو احتجاج کرنے پر پولیس کاروائی کا نشانہ بنایا گیا، لیکن بعد میں اسی شہر کے اندرمیں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی نظروں کے سامنے گاڑیاں نذر آتش کر دی گئیں، دوکانوں کی توڑ پھوڑ کی گئی اور گھروں پر حملے کرکے فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کی ہمہ تن کوشش کی گئیں اور اس ساری صورتحال کے دوران امن قانون کی بحالی کےلئے ذمہ دار اداروں کا خاموش تماشائی بنے رہنا ان شکوک و شبہات کو تقویت پہنچاتا ہے کہ کہیں موجودہ ریاستی انتظامیہ پر لوگوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرکے باہم متصادم کرنے کے عزائم رکھنے والے مخصوص حلقوں کا اثر و رسوخ تو نہیں؟۔غیر جانبدار حلقے ایک آسان ساسوال یہ پوچھ رہے ہیں کہ اگر ایسے واقعات ریاست کے کسی اور شہر میں پیش آئےہوتے تو کیا انتظامیہ کا یہی ردعمل ہوتا؟۔ اب بہر حال انتظامیہ خواب خرگوش سے بیدار ہو کر صورتحال کو سنبھالنے میں مصروف ہے لیکن سرکار پر یہ اہم ذمہ داری عائید ہوتی ہے کہ وہ بیرون ریاست مقیم کشمیری طلاب، تجار اور آجروں کا تحفظ یقینی بنانے کےلئے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہونے میں کوئی کوتاہی برتنے کی مرتکب نہ ہو اور ان میں سے جو حفظ ماتقدم کے طور پر اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہوں،ا نکی واپسی کو ممکن بنانے کے انتظامات روبہ عمل لائے۔