ساتویں روز شاہراہ جزوی طور بحال، آپریٹر زخمی

جموں میں درماندہ مسافر اب ادھمپور میں پھنس گئے، وادی میں ہلکی برفباری اور بارشیں

13 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد تسکین
 
بانہال // جموں سرینگر شاہراہ کو 7ویں روزمنگل کی دوپہر بعد تین بجے کے قریب ٹریفک کی آمد ورفت کیلئے بحال کیا گیا تاہم شیطانی نالہ اور ٹنل کے آر پار نئے سرے سے برفباری شروع ہوتے ہی جموں سے سرینگر آنے والی گاڑیوں کو ادہم پور میں روک دیا گیا۔اس دوران ماروگ میں مشین آپریٹر محمد اسلم پتھر لگنے سے شدید زخمی ہوا۔ شاہراہ کی بحالی کے بعد رامسو اور رام بن کے درمیان گر آئی پسیوں کے درمیان میں پھنسی تین سو سے زائد درماندہ مسافر گاڑیوں اور ایک سو سے زائد ایندھن اور سامان سے لدھے ٹینکروں اور ٹرکوں کو ترجیحی بنیادوں پر چلنے کی اجازت دی گئی۔اس دوران جموں بس سٹینڈ میں شاہراہ کی بحالی کے اعلان کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں مسافر گاڑیاں اور درماندہ مال بردار ٹریفک بھی منگل کی شام  وادی کشمیر کیلئے چھوڑ دیئے گئے تاہم انہیں ادہم پور سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ڈی ایس پی ٹریفک نیشنل رام بن سریش شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتاتا کہ پیر کی رات اور منگل کی صبح سے شاہراہ پر گر آئی مزید پسیوں کے علاوہ ماروگ اور پنتھیال کی پسی کو تعمیراتی کمپنی ایچ سی سی کی مشینری اور افرادی قوت کی مدد سے صاف کیا گیا اور شاہراہ چھ روز تک مسلسل بند رہنے کے بعد ساتویں روز یکطرفہ ٹریفک کے قابل بنا ئی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہ کی بحالی کے بعد رام بن اور پنتھیال کی پسیوں کے درمیان درماندہ  260ٹینکروں اور ٹرکوں اور 450مسافر گاڑیوں کو وادی کشمیر کی طرف جانے کی اجازت دی گئی ، اور انہوں نے شام تک ٹنل پار کی تھی۔انکا کہنا تھا کہ ماروگ اور پنتھیال کے مقام پر گرتے پتھروں کی وجہ سے گاڑیوں کو ایک ایک کرکے نکالنے کا عمل جاری ہے۔ جواہر ٹنل پر تعینات ڈی ایس پی ٹریفک پردیپ سنگھ سین نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ منگل کی شام تک چار سو سے زائد درماندہ گاڑیاں جواہر ٹنل پار کرچکی تھیں جبکہ رام بن ، ادہمپور اور جموں سے بھی یکطرفہ طور بھاری ٹریفک بحال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ اور موسم کی بہتری کی صورت میں چندرکوٹ اور ادہمپور کے درمیان سات روز سے درماندہ پڑے ٹریفک کو ترجیح دی جائے گی جبکہ جموں سے مسافر گاڑیوں کو بھی چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس دوران بانہال اور رام بن کے سیکٹر میں تازہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔جموں سے کشمیر کیلئے چھوڑا گیا سینکڑوں مسافر گاڑیوں پر مشتمل ٹریفک ادہمپور کے مقام پر روک دیا گیا ہے اور اس کیلئے مسافروں کو شاہراہ کی مسلسل خرابی ، بارش اور گرتے پتھروں کی وجوہات بتائی جارہی ہیں اور سینکڑوں گاڑیوں کے مسافر پھر سے درماندہ ہوگئے ہیں۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر عبدالحمید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ دو گھنٹے تک ادہمپور میں روکے رکھنے کے بعد وہ اور دوسری درجنوں گاڑیاں واپس جموں کیلئے روانہ ہوئی ہیں کیونکہ رات کے اوقات میں آگے چھوڑنے کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شاہراہ کی خراب حالت اور رام بن بانہال سیکٹر میں تازہ بارشوں کے باوجود جموں انتظامیہ نے اپنا بوجھ کم کرنے اور درماندہ مسافروں سے جان چھڑانے کیلئے بلا وجہ مسافروں کو جموں سے چھوڑ دیا  اور وہ اب منگل کی رات آٹھ بجے بھی ادہمپور میں پھر درماندہ ہو کر رہ گئے ہیں۔  

ہلکی برفباری و بارشیں

 وادی میںموسم نے ایک بار پھر کروٹ لی اور وادی کے بالائی علاقوں میں برف باری اور میدانی علاقوں میں تازہ بارشوں کا آغاز ہوگیا ہے۔محکمہ موسمیات نے 13اور 14فروری کو وادی کے بالائی علاقوں میں برفباری کا امکان ظاہر کیا تھا۔شمالی اور جنوبی کشمیر کے علاوہ پہاڑی علاقوں میں ہلکی برفباری اور میدانی علاقوں میں بارشیں ہوئیں۔کرناہ کے قریب 300، کیرن کے 100، گریز کے 250سے زیادہ مسافردرماندہ ہیں ۔
 

جموں میںہندو ،مسلم، سکھ اتحاد کا مظاہرہ

مسافروں کیلئے لنگر اور رہائش کا انتظام

جموں/یوگیش سگوترہ /کشمیر کے جموں میں درماندہ سینکڑوں مسافروں نے منگل کے روز ہوائی اڈہ کے باہر زور دار مظاہرہ کیا، وہ تمام مسافروں کو ائر لفٹ کئے جانے کی مانگ کر رہے تھے۔ہوائی اڈہ کے ترجمان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 500کے قریب مسافروں نے ہوائی اڈہ میں داخل ہونے کی کوشش کی، فورس کو انہیں روکنے میں کڑی مشقت کرنا پڑی اور قریب دو گھنٹے تک یہ سلسلہ چلتا رہا، تاہم متعدد مسافر شام دیر گئے تک ہوائی اڈہ کے باہر ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران ریاستی پولیس نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ رجسٹریشن کے حوالہ سے افواہوں پر کان نہ دھریں ۔ادھر جموں سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کی طرف سے درماندہ کشمیری مسافروں کیلئے جموں میں قائم سبھی گردواروں کے دروازے کھول دیئے گئے جہاں انکے لئے مفت لنگر کا انتظام کیا گیا۔ اس دوران مکہ مسجد بٹھنڈی انتظامیہ نے بھی مسجد کے ساتھ عمارتوں کو مسافروں کیلئے کھولا دیا جہاں انکے رہنے اور کھانے پینے کا انتظام کیا گیا۔کنول مصالحہ جات بنانے والوں نے بس سٹینڈ اور دیگر مقامات پر مسافروں میں پیکڈ فوڈ تقسیم کیا۔ اس دوران شیو شکتی مندر کمیٹی نے بھی مسافروں کیلئے لنگر کا انتظام کیا اور کئی جگہوں پر اسے تقسیم کیا گیا۔نیشنل کانفرنس نے شیر کشمیر بھون بھی مسافروں کیلئے کھول دیا۔ایس ایس پی جموں تیجندر سنگھ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مسافر جہاں قیام پذیر ہیں وہیں رکے رہیں کسی بھی دوسرے مقام پر رجسٹریشن نہیں ہو رہی ہے ۔ 
 

مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

 جنونی انتہا پسندوں کی کارروائی قابل نفرت:گیلانی

سرینگر// حریت(گ) چیئر مین سید علی گیلانی نے ریاست میں موسم کی خرابی اور لگاتار بارش اور برفباری سے جموں سرینگر شاہراہ کے مسلسل بند رہنے کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس غیر فطری اور قدرت کے عتاب میں رہنے والے اس راستے نے ریاست جموں کشمیر کے لاکھوں نفوس کو نگل لیا ہے۔ حکام کی لاپرواہی اور اُن کے بروقت اقدام نہ کرنے کی وجہ سے بھی مسافروں کے مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ جموں میں رُکے پڑے مسافروں پر جنونی انتہا پسندوں کے پتھراؤ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حریت رہنما نے کہا کہ مصیبت زدہ لوگوں کو کوئی راحت پہنچانے کے بجائے الٹا انہیں زدوکوب کرنا حیوانیت اور بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ انتظامیہ کو ان بے سروسامان مسافروں کی مشکلات کا احساس کرکے انہیں حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہیے تھے۔اس کے برعکس ان ستم رسیدہ لوگوں کو ان انتہا پسند جنونیوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنی گندی ذہنیت اور تعصب کے جذبات کی تسکین کرسکیں۔
 

تازہ ترین