تازہ ترین

رتنی پورہ پلوامہ میں مسلح تصادم ، فوجی اہلکار اورجنگجوجاں بحق ،2فرار

نوید جٹ کوجیل سے چھڑانے والے جنگجو کے جنازہ میں ہزاروں شریک

13 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سید اعجاز

 پلوامہ اور اسکے بیشتر علاقوں میں ہڑتال،ریل اور انٹرنیٹ خدمات معطل 

 
پلوامہ//پلوامہ کے رتنی پورہ گائوں میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان شدید تصادم آرائی میں ایک مقامی جنگجو اورایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔جھڑپ میں ایک رہائشی مکان  تباہ ہوا جبکہ2مقامی نوجوانوں کو گرفتارکیا گیا۔ھر جاں بحق جنگجو کے جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میںلوگوں نے شرکت کی۔انتظامیہ نے علاقے میں امن و قانون کی صورت حال برقرار رکھنے اور افواہ بازی روکنے کے لئے انٹرنیٹ اور ریل سروس معطل کی۔جاں بحق جنگجو نے نوید جٹ کے سرینگر سینٹرل جیل سے فرار کرانے میں کلیدی رول ادا کیا تھا اور اسی روز ہتھیار بھی اٹھائے تھے۔

تصادم آرائی کیسے ہوئی؟

 ضلع پلوامہ کے رتنی پورہ گائوں میں ایم ای آئی سکول کے نزدیک بستی کو سوموار اور منگل کی رات قریب 12بجے محاصرہ میں لیا گیا۔ پولیس کو بستی میں تین جنگجوئوں کے بارے میں مصدقہ طور پر اطلاع ملی تھی ،جس کے بعد50آر آر،182 اور183بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ پلوامہ نے محاصرے کیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فورسز نے صبح3بجے کے قریب بستی کے چند گھروں میں اہل خانہ کو نیند سے جگا کر تلاشی کارروائی شروع کی۔ اس دوران جب ایک پارٹی محمد یوسف (عرف یوسف مولوی)نامی ایک شہری کے مد مقابل مکانکی تلاشی لے رہے تھے تو اس دوران محمد یوسف کے مکان میں موجود جنگجوئوں نے فورسز پارٹی پر شدید فائرنگ کی اور مکان سے باہر نکل کر فرار ہوئے ۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی فائرنگ میں50آر آرسے وابستہ ایک اہلکار حوالدار بلجیت سنگھ گولی لگنے کے نتیجے میں بری طرح زخمی ہوا جس کو بعد میں فوجی اسپتال منتقل کیا گیا،تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔اس دوران فورسز نے جوابی فائرنگ کر کے گائوں میں مفرور جنگجوئوں کی تلاش شروع کر دی ۔بتایا جاتاجنگجو ابتدائی فائرنگ کے ساتھ ہی جوابی فائرنگ کے دوران تین اطراف میں بکھر گئے اورالگ الگ راستوں سے فرار  ہونے لگے۔ اس دوران ایک جنگجو جائے واردات سے سڑک پار کرنے کے بعد تقریباً3سو میٹر دورنکل گیا تھا تاہم وہ ایک ٹین کی دیوار پار نہ کرسکا جس کے نتیجے میںاہلکاروں کی نظر جنگجو پر پڑی تو انہوں نے فائرنگ شروع کی جس دوران پھر ایک بار طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا۔جس دوران  ایک اور اہلکار زخمی ہوااور مذکورہ جنگجو بھی جاں بحق ہوا ۔تاہم اسکے دیگر 2ساتھی محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔اسکی شناخت بعد میں ہلا ل احمد راتھر ولد غلام محمد راتھر ساکن بیگم باغ کا کاپورہ کے بطور کی گئی۔بعد میں محاصرہ تنگ کیا گیا اور گائوں کا چپہ چپہ چھان مارا گیا تاہم فورسز کو کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔فورسز نے صبح 10بجے محاصرہ ختم کیا۔پولیس نے بعد میں جائے واردات سے ایک مقامی جنگجو کی لاش برآمد کی ہے پولیس نے جاں بحق جنگجوئوں کی شناخت ہلااحمد راتھر ولد غلام محمد راتھر ساکن بیگم باغ کا کاپورہ کے طور کی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے جنگجو فرار ہونے کے بعد محمد یوسف  کے مکان کو بارود سے اڑا دیا۔ فورسزنے علاقے میں جھڑپ کے بعد2مقامی نوجوانوں اعجاز احمد میر اور ظہور احمد میر کو گرفتار کر لیا۔

جنازہ، ہڑتال

 جاں بحق جنگجوکو قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد پولیس نے لواحقین کے حوالے کیا ۔اس سے قبل ہی بیگم باغ کاکہ پورہ میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی اور جب جنگجو کی لاش اسکے گھر پہنچائی گئی تو یہاںاسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کے گئے۔ بعد میں انہیں ایک کھلے میدان میں جلوس کی صورت میں لیا گیا جہاں اسکی دو بار نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں سپرد خاک کیا گیا۔ضلع پلوامہ میں جنگجووں کی یاد میں مکمل ہڑتال رہی ، جس کے دوران مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پلوامہ کے علاوہ نیوہ، کاکہ پورہ، سانبورہ اور دیگر علاقوں میں ہر طرح کی سرگرمیاں بند رہیں۔ انتظامیہ نے جھڑپ شروع ہوتے ہی انٹر نیٹ سروس بند کی جبکہ ریل سروس بھی معطل کی گئی۔

پولیس کا بیان

پولیس کا کہنا ہے کہ جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر رتنی پورہ میں آپریشن کیا گیا جس کے دوران گولیوں کے تبادلے میں ایک جنگجو جاں بحق جبکہ ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا اور ایک اہلکار زخمی ہوا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق جنگجو ہلال احمد نے،سابق لشکر کمانڈر نوید جٹ کو سینٹرل جیل سے چھڑانے میں اہم رول ادا کیا  تھااور وہ 2فروری 2018کو اسی روز جنگجووں کی صف میں شامل ہوا تھا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلال بھی نوید کی طرح کئی محاصروں کو توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو ا تھا اور وہ کئی جنگجویانہ کارروائیوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔
 

جاں بحق جنگجو کو حزب اور لشکر کا خراج عقیدت

سرینگر // حزب کمانڈ کونسل کے ایک اجلاس، جس کی صدارت حزب سربراہ سیدصلاح الدین نے کی میں ہلال احمد کو زبردست خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا گیاکہ اُن کا خون ضائع نہیں ہوگا۔اجلاس میں کہا گیا کہ ایک طرف تحریک آزادی کی کامیابی کیلئے نوجوان کشمیر جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں، دوسری طرف بعض عناصر سرعام اپنا ضمیر بیچ کر میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کرکے وقتی فوائد سمیٹ رہے ہیں۔ادھرلشکر طیبہ سربراہ محمودشاہ نے حزب المجاہدین کے ہلال احمد راتھر ولد غلام محمد راتھر ساکن بیگم باغ  کاکہ پورہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر عوام کے دل خوشیوں سے بھر گئے ہیں ۔گو کہ یہ ہلاکتیں بہت کم ہیں ،لیکن اللہ نے چاہا تو اس سال بھارتی کمانڈوز کی لاشوں کے ڈھیر لگیں گے ۔انہوںنے کہاکہ ہمیں ہلال احمد کی شہادت پر دکھ ضرور ہے لیکن اس سے زیادہ خوشی بھارتی کمانڈوز کے مرنے کی ہے ۔ محمودشاہ نے13۔ 14فروری کو حریت قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی پرزورحمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ہماری بقاء کا مسئلہ ہے ۔
 
 
 
 

اہلکار کو فوج کا خراج عقیدت

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// فوج نے بادامی باغ میں حوالدار بلجیت سنگھ کو ایک تقریب کے دوران خراج پیش کیا، جو کہ پلوامہ آپریشن کے دوران ہلاک ہو۔ تقریب کے دوران چنار کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل، جے، ایس، ڈھلون نے تمام آفیسروں اور جوانوں کے طرف سے خراج عقیدت پیش کیا، اس دوران یکجہتی دکھاتے ہوئے دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ آفیسر بھی آئے ہوئے تھے۔بلجیت سنگھ کی عمر 35سال تھی۔ وہ ہریانہ کے کرنیل ضلع سے تعلق رکھتے تھے ان کے بعد ان کے گھر میں ان کی بیوی کے ساتھ ساتھ ایک لڑکی اور لڑکا موجود ہیں۔ تقریب کے بعدان کی میت کو ان کے آبائی گائوں پہنچائی گئی ۔