گمشدہ ستارہ

ڈاکٹر قاضی معراج الدین منشی

13 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ظہیرالدین
ڈاکٹر قاضی معرا ج ا لدین منشی1940ء میں ڈبتل شہر خاص سرینگر کے قاضی جلال الدین کے ہاں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم تاریخی اسلامیہ اسکول راجویری کدل میں پائی جہا ں اُن کے والد مدرس تھے۔ اس سے پہلے اُن کے دادا بھی وہاں مدرس رہ چکے تھے۔ یہ دونوں حضرات انجمن نصرت الاسلام میں اعزازی منشی تھے، اس لئے منشی  لفظ ان کے خاندان کے ساتھ جڑ گیا۔ اسلامیہ ہائی اسکول سے فارغ ہوکر ڈاکٹر صاحب ایس پی کالج گئے جہاں انہوں نے طلبہ تحریک میں حصہ لیا اور گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اسی دوران اُن کا تعارف فضل الحق قریشی ، عبدالمجید پٹھان اور نذیر احمد وانی و غیرہ سے ہوا۔ یہ سب لوگ ہمیشہ تحریک کی بات کرتے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایم آر سی پی لندن سے کیا، وہاں بھی وہ تحریک سے دور نہ رہ پائے۔ وہ کے ایل او کے ممبر بنے اور مسلٔہ کشمیر کے حل کے لئے کوشاں رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مرحوم مقبول بٹ کے ساتھ بھی تعلقات تھے ۔ وہ اُن سے ملنے تہار جیل جاتے اور تحریکی معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ۔ اپنے ساتھی فضل الحق قریشی اور عبدالمجید پٹھان کے برعکس وہ خود مختار کشمیر کے حامی تھے اور جب مسلح جدوجہد شروع ہوئی تو وہ جے کے ایل ایف سے دور نہ رہ پائے۔ ان کو جے کے ایل ایف کا نظریہ ساز بھی مانا جاتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کو  تحریک پرستی کی قیمت چکانا پڑی۔ انہیں ہراساں بھی کیا گیا اور کئی برس تک جلائے وطنی کی زندگی بھی گزارنی پڑی۔ لیکن اس مشکل وقت کے دوران بھی وہ اپنے موقف پر برابر قایم رہے اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرتے رہے لیکن وطن کی محبت نے  انہیں واپسی پر مجبور کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے جہلم ویلی کالج اور حمید بلڈبینک کے قیام کے لئے کلیدی رول ادا کیا۔ تحریک نوازی اور غریب پروری ان کی رگ رگ میں بسی تھی۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں ان کو خاصی لذت آتی تھی۔ سرکاری ملازمت کی بندشوں سے ڈاکٹر صاحب کو گھٹن محسوس ہوتی تھی۔ چناںچہ انہوں نے سرکاری نوکری اور جہلم ریلی کالج سے بھی استعفیٰ دیا اور اپنے آپ کو تحریک کے لئے وقف کردیا۔                                                                               
ڈاکٹر صاحب 26 ؍ ستمبر 2017  ء کو صورہ ہسپتال میں طویل علالت کے بعد فوت ہوئے۔ ہزاروں افراد نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ انہیں آبائی مقبرہ ملہ کھاہ شہرخاص میں سپرد خاک کیا گیا۔ جے کے ایل ایف کے چیئر مین یٰسین ملک نے ڈاکٹر صاحب کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات نے تحریک آزادی کا ایک سنہری باب بند کردیا۔  
فون نمبر9419009648