وادی کے واحد نفسیاتی امراض کے اسپتال میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے مریض پریشان

سینکڑوں کی تعداد میں ذہنی مریض سڑکوں ، بازاروں ، گلی کوچوں میں دربدر پھر رہے ہیں

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
 سرینگر//کشمیر وادی کے واحد نفسیاتی بیماریوں کے اسپتال میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں ایسے ذہنی مریض سڑکوں ، بازاروں ، گلی کوچوں ، قبرستانوں ، زیارت گاہوں اور خانقاہوں میں رہ کر ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر زندگی کی جنگ ہار جا تے ہیں اور ایسے بیماروں کو علاج ومعالجہ کیلئے نہ تو کوئی رضا کار تنظیم آگے آر ہی ہے اور نہ ہی انتظامیہ اس سلسلے میں سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کر رہی ہے۔ دماغی مریضوں کی ایک بڑی تعداد وادی کے اطراف واکناف میں دن اور رات سڑکوں ، بازاروں ، گلی کوچوں ، قبرستانوںمیں گھوم پھر رہی ہے اور ایسے افراد کو جنگلی جانور ، پاگل کتے اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔  کشمیر وادی میں قائم کئے گئے مینٹل اسپتال میں جگہ دستیاب نہ ہونے کے باعث سینکڑوں نفسیاتی بیماروں کا علاج ومعالجہ نہیں ہو پا رہا ہے اور انہیں انتظامیہ کی جانب سے نئی زندگی فراہم کرنے کیلئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہیں اٹھائے جار ہے ہیں۔ نفسیاتی بیماروں کے کنبے والے بھی ایسے افراد کا علاج ومعالجہ کرانے میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں اور انہوںنے نفسیاتی بیماروں کو آوراہ چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے جس کی وجہ سے وادی کشمیر کے بازاروں ، قبرستانوں ، مسجدوں ، زیارت شریفوں ، خانقاہوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے افراد ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر زندگی کے دن کاٹ رہے ہیںاور ایسے افراد کے علاج ومعالجہ کیلئے نہ تو کوئی رضا کار تنظیم جو لوگوں کی فلاح و بہبود ناگہانی آفتوں سے متاثرہ لوگوں کیلئے امدادی کاروائیاں انجام دینے کے بڑے بڑے دعوئے اور وعدئے کر رہی ہیں لیکن نفسیاتی بیماروں کا علاج ومعالجہ کرنے کیلئے رضا کار تنظیموں کی جانب سے کوئی بھی آگے نہیں آ رہی ہے۔ کئی رضا کار تنظیمیں یہاں یتیموں ، بیوائوں ، محتاجوں ، ضرورتمندوں کی کفالت کا دعویٰ کر رہی ہیں اورکئی رضا کار تنظیمیں سیگریٹ ، تمباکو نوشی کو مکمل طور پر ختم کرکے کشمیر کی وادی کو کینسر کی بیماری سے پاک کرنے کے دعوئے کر رہی ہیں اور اس تمباکو اور سیگریٹ نوشی کے علاوہ تمباکوسے بنی مصنوعات کی اشیاء کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کالجوں ،کلبوں ،ڈاک بنگلوں ، اسکولوں میں بڑے بڑے سمینار منعقد  کرکے ان پر رقم کثیر خرچ کر رہی ہے ۔ بیروکریٹوں ،صحافیوں ، دولت مندوں ، سیاسی اثر رسوخ رکھنے والوں کو ایسی تنظیمیں اعزازت سے نوازتی ہے کہ وہ سیگریٹ اور تمباکو نوشی پر پابندی عائد کرنے کیلئے رضا کا رتنظیم کے ساتھ تعاون کرئینگے ۔ تاہم نفسیاتی بیماروں جو سڑکوں پر تپتی دھوپ ، برستی بارش ، یخ بستہ ہوائوں کے دوران بدن پر کپڑے نہ ہونے کے باوجود ٹھٹھر ٹھٹھر کر زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں ایسے افراد کو نئی زندگی دینے کیلئے ایسی رضا کار تنظیموں نے اپنے آنکھوںپر پٹی باندھ لی ہے اور ایسی تنظیموں کو سیگریٹ ، تمباکو نوشی ، بچہ مزدوری ، خواتین پر ظلم کو ختم کرنے کے دعوئے کرنا زیب نہیں دیتا ہے ۔ ریاستی حکومت نے بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی وجہ سے ایسے سینکڑوں افراد بے وقت موت مرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور ایسے نفسیاتی بیماروں کے علاج ومعالجہ کے سلسلے میں کارگر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس کیلئے سرکار کو فوری طور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ 
 

تازہ ترین