تازہ ترین

گورنر انتظامیہ کے فیصلوں پر برہمی کااظہار

ایسے فیصلوںسے احترازکریں جن کا اختیار نہیں:کمال

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//ریاست کیخلاف سازشوں کی شروعات9اگست1953سے ہوئی اور ان کے تحت دہلی نے یہاں اپنی من پسند کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے دفعہ370 اور دفعہ35A کے تحت ریاست کو دی گئی آئینی اور جمہوری حقوق کو آہستہ آہستہ چھینا گیا ۔ان باتوں کااظہار نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال نے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے موجودہ گورنر نے بغیر کسی اختیار کے ریاست کے لوگوں کے جذبات اور گورنر ہاوس کاتقدس پامال کرنے کی شروعات کیں۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ گورنر کو ایسے فیصلے لینے سے احترازکرنا چاہیے جن کا ان کو اختیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعوں،تحصیلوں ،نیابتوں اور دیگر مقامات کا تعین کرنے کااختیار صرف ریاست کے منتخب اسمبلی نمائندوں کو ہے اور پارلیمنٹ اور وزیراعظم یا صدر ہند بھی ریاست کے آئینی اور جمہوری معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے ۔انہوں نے کہا کہ لداخ کو ریاست کاتیسرا انتظامی صوبہ قرار دینے سے پہلے گورنر کو کشمیری رہنمائوں اور لداخ اور کرگل کے عوام کے نمائندوں سے مشورہ لینا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اُن تمام قوانین اور احکامات جو گورنر انتظامیہ نے جاری کئے ہیں اور جو ریاستی آئین کے منافی ہیں ،کو فوری طور واپس لیا جانا چاہیے ۔ ڈاکٹر کمال نے ریاستی اسمبلی کے انتخابات فوری طور منعقد کرانے پر بھی زوردیا۔
 
 
 

بچی کچھی جمہوریت تباہی کے دہانے پر 

کسی بھی علاقے کو صوبے کا درجہ دینے کااختیار عوامی نمائندوں کو:کے سی ایس ڈی ایس

سرینگر// لداخ سمیت کسی بھی علاقے کو صوبے کا درجہ دینے کااختیارصرف ریاست کے حقیقی نمائندوں ،جو کافی سوچ بچار کے بعدایسا فیصلہ تین بڑی کسوٹیوں ،زرعی وسماجی ترقی اور اقتصادی بہبودی کی کسوٹی کے اعدادوشمار کو مدنظر رکھ کر لے سکتے ہیں۔ان باتوں کااظہار کشمیرسینٹرفارسوشل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیڈیزکی ایک میٹنگ میں سول سوسائٹی ممبران نے کیا۔کشمیرسینٹر فارسوشل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیڈیزنے بقول اس کے گورنر کے آمرانہ اور غیر آئینی اختیارات حاصل کرنے کے ذریعے جموں کشمیرمیں بچی کھچی جمہوریت کوتباہ کرکے یہاں ’’نوآبادیاتی قبضہ‘‘کے نئے ریکارڈ قائم کرنے پر شدیدردعمل کااظہار کیا ہے۔اس دوران ممبران نے اسے لوگوں کے اجتماعی  جذبے پرایک بڑے استبدانہ حملہ سے تعبیر کرتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ کیسے ایک غیرریاستی گورنر نے غیرریاستی ’بابوئوں‘کے ایک ٹولے کے تعاون سے اس طرح کا دوررس فیصلہ لیا۔ ممبران نے کہا کہ لداخ سمیت کسی بھی علاقے کو صوبے کا درجہ دینے کااختیارصرف ریاست کے حقیقی نمائندوں ،جو کافی سوچ بچار کے بعدایسا فیصلہ تین بڑی کسوٹیوں ،زرعی ترقی ،سماجی ترقی اور اقتصادی بہبودی کی کسوٹی کے اعدادوشمار کو مدنظر رکھ کر لے سکتے ہیں ۔کشمیرسینٹر فارسوشل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیڈیزپہلے سے ہی ریاست کے سبھی خطوں اوراضلاع میں وسائل اور منصوبوں کی یکساں تقسیم پرزوردیتی آئی ہے ۔ممبران نے کہا کہ یہ صرف سیاسی مداخلت اور عیاری ہے جس کی وجہ سے ریاست میں خطوں کے درمیان اور خطوں کے اندروںیکسان ترقی میں ، غلطیوں سے مبراادارہ جاتی عمل اور نظام ہونے کے باوجود تضاد پایا جاتا ہے۔ کیا گورنر اور اس کے مشیر بتا سکتے ہیں کہ وزیراعظم پیکیج کے تحت  خطے میںبنیادی ڈھانچوں کے ترقیاتی منصوبے صرف 3اضلاع میں قائم کئے جارہے ہیں اور7اضلاع کو نظراندازکیاجارہا ہے۔جموں ریاست کے 22اضلاع کے ترقیاتی انڈکس میں سرفہرست کیوں ہے ،جبکہ  اسی خطے میںراجوری،پونچھ ،ڈودہ،رام بن اورکشتواڑ سب سے نیچے ہیں ۔کشمیرسینٹر فارسوشل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیڈیزایسی تفاوت اگر کشمیر میں بھی ہو ،کی مخالفت کرتا ہے ۔ ممبران نے کہا کہ ایک اور آمرانہ فیصلہ لیکر گورنر نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ وہ آئینی ضوابط کے بجائے دلی اور ناگپور کے اپنے آقائوں کی فسطائی نظریات اورہدایات پر عمل کررہے ہیں ۔لداخ اور کرگل اضلاع پر مشتمل صوبے کا صدر مقام لہہ کو قرار دے کے گورنر نے جان بوجھ کر نہ صرف کرگل ضلع کے ترقیاتی انڈکس کو نظراندازکیا بلکہ اس حقیقت سے بھی منہ موڈ لیا کہ کرگل لہہ کے مقابلے میں سرینگر کے زیادہ نزدیک ہے ۔