جموں ۔سرینگر شاہراہ 5ویں روز بھی بند

ماروگ کے مقام پر بھاری پسی نے اُمیدوں پر پانی پھیر دیا:حکام

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: محمد تسکین    )

محمد تسکین
بانہال // حالیہ برفباری اور بارشوں کی زد میں آکر کئی مقامات پر تباہ ہوئی جموں سرینگر شاہراہ پر اگرچہ کام جاری ہے تاہم جگہ جگہ نئی پسیاں گرآنے سے سڑک کی مرمت و تجدید کے کام میں رکاوٹیں آرہی ہیں۔محکمہ ٹریفک اور بیکن کا کہنا ہے کہ شاہراہ کی بحالی کیلئے مزید وقت درکار ہے ۔اتوار بعد دوپہر تین بجے کے قریب رام بن کے ماروگ علاقے میں جموں سرینگر شاہراہ تازہ پسیوں کی وجہ سے ٹریفک کیلئے پانچویں روز بھی بند رہی اور شاہراہ کی بحالی کے امکانات پیر کی شام تک بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ماروگ کی بھاری پسی کے گر انے سے چند منٹ پہلے شان پیلس رام بن سے دو سو کے قریب چھوڑی گئی درماندہ مسافر گاڑیوں پر مشتمل ٹریفک ابھی اس پسی سے ایک سے دو کلومیٹر کی دوری پر ہی واقع تھا کہ ماروگ کے مقام بڑی پہاڑی بھاری ملبے کے ساتھ شاہراہ پر گر ائی اور ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ ماروگ کے مقام پرگر ائی اس پسی نے سڑک کے کم از کم دو سو میٹر کے حصے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اوراتوار کی شام تک جموں سرینگر شاہراہ کی بحالی کے روشن امکانات پیر تک ختم ہوگئے ہیں اور بھاری بارشوں اور برفباری کی وجہ سے رام بن اور بانہال سیکٹر میں مزید پسیوں کے امکانات موجود ہیں۔ 

درماندہ مسافر مشکلات سے دوچار

 شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے دو روز پہلے جموں سے رام بن پہنچی دو سو کے قریب مسافر گاڑیوں میں سوار بیشتر مسافروں نے پیدل سفر شروع کیا ہے۔ کئی مسافروں نے فون پر بتایا کہ گاڑیوں سے اپنا سفر جاری رکھنے کی امیدیں ختم ہونے کے بعد انہوں نے ماروگ کی پسی کو پار کرنے کیلئے نیچے بہہ رہے دریائے چناب کے کنارے پیدل سفر شروع کیا جو اتوار شام تک جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماروگ کی پسی سے بانہال تک پہنچنے کیلئے وہاں موجود چھوٹی مسافر گاڑی والے مسافروں سے دو دو سو روپئے کی رقم کا تقاضہ کر رہے تھے اور گاڑیوں کی کمی کے پیش نظر کئی مسافر پیدل ہی بانہال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ کی حالت متعدد مقامات پر خراب ہے اور پتھر گر رہے ہیں جس کی وجہ سے مجبور مسافر سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ اس دوران رام بن کیو آر ٹی کے رضاکاورں نے پولیس کے ساتھ مل کر ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے ایک بچے کی میت کو پنتھیال کی پسی کو پار کرنے میں مجبوروالدین کی مدد کی ۔ اس بچے کی موت جموں میں واقع ہوئی ہے اور شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے لاش لیکر رام بن سے آگے بڑھنا والدین کیلئے ناممکن تھا اور یہ ناممکن سفر رضاکاروں کی مدد سے ممکن ہوسکا ہے۔ 

ٹریفک حکام کا بیان

شاہراہ کی تازہ صورتحال کے بارے میں بات کرنے پر ڈی ایس پی ٹریفک نیشنل ہائے وے رام بن سریش شرما نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ رام بن اور بانہال کے درمیان پنتھیال کی پسی کو چھوڑ کر شاہراہ کو قابل آمدورفت بنایا گیا تھا کہ اس دوران رام بن سے آٹھ کلومیٹر دور ماروگ نالہ کے پاس اتوار کے دن تین بجے کے قریب ایک بھاری پسی سڑک پر گر ائی اور شاہراہ مکمل طور سے بند ہوگئی ۔ انہوں نے کہا کہ   پنتھیال کی پسی کو شام تک بحال کرنے کے روشن امکانات ہیں تاہم ماروگ کی تازہ اور بھاری پسی نے شاہراہ کو پانچویں روز بھی بحال ہونے نہیں دیا ۔انہوں نے کہا کہ ماروگ کے مقام گر آئی بھاری پسی کے بعد اس کی بحالی کا کام بھی شروع کیا گیا ہے اور سب کچھ بہتر رہنے کی صورت میں پیر کی شام تک اسے دوبارہ قابل آمدورفت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج بیٹری چشمہ ، ڈگڈول اور خونی نالہ کے درمیان پسیوں کو صاف کیا گیا جبکہ پنتھیال کے مقام کام جاری تھا اور اتوار کی سہہ پہر تک ٹریفک کی بحالی کے روشن امکانات تھے لیکن ماروگ کی تازہ پسی نے تمام امیدوں کو ختم کر دیا ہے۔
 

تازہ ترین