تازہ ترین

کیلم کولگام میں گھمسان کا رن، 5حزب جنگجو جان بحق

مہلوکین میں پی ایچ ڈی سکالر بھی شامل ،علاقے میں پرتشدد مظاہرے،11زخمی،نیٹ و ریل خدمات بند

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: میر وسیم    )

خالد جاوید
سرینگر//جنوبی ضلع کولگام کے کیلم علاقے میں جنگجوئوں اور سرکاری فورسز کے درمیان گھمسان کی جھڑپ میں ایک پی ایچ ڈی اسکالر سمیت5جنگجو جان بحق ہوئے،جبکہ تصادم کی جگہفورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 11 شہری زخمی ہوئے۔ اس دوران بانہال۔ بارہمولہ ریل سروس کو دوسرے روز بھی معطل رکھا گیا، جبکہ کولگام میں انٹرنیٹ سروس کو منقطع کیا گیا۔اس دوران کولگام میں دوسرے روز بھی مسلسل مکمل ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔

جھڑپ

 کولگام کے کیلم میر پورہ علاقے میں اتوار کی صبح اس وقت لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا،جب علاقے میں  موجود جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق فوج کی 9 آرآر، کولگام ٹاسک فورس اور 18 بٹالین سی آر پی ایف نے کیلم کو دوران شب ہی محاصرہ میں لیا تھا اور صبح کے وقت ہی نماز فجر سے قبل محاصرے کو مزید سخت کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران محاصرے مین پھنسے ہوئیجنگجوئوںنے گولیاں چلائی جس کے ساتھ ہی جھڑپ کا آغاز ہوا۔ذرائع کے مطابق طرفین نے کھل کر ایک دوسرے پر خودکار ہتھیاروں کے دہانے کھول دئیے،جس کے نتیجے میں علاقہ لرز اٹھا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ کچھ وقفہ تک گولیاں چلنے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ رک گیا،جبکہ صبح8بجے پھر سے فائرنگ شروع ہوئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ 10 بجے کے بعد پھر تھم گیا اور  قریب 11 بجکر30منٹ پر طرفین میں ایک بار پھر زبردست فائرنگ شروع ہوئی، جس دوران زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی۔ پولیس کے مطابق جنگجوئوں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج، ایس ا وجی کولگام اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے کیلم نامی دیہات کا اتوار کی صبح کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی مہم شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی پارٹی جونہی گائوں کے اندر تلاشی مہم میں مصروف تھی تو اسی دوران مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچنے کے ساتھ یہاں موجود جنگجوئوں نے فورسز اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے زبردست فائرنگ شروع کردی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس اثنا میں فورسز اہلکاروں نے فوراً مورچہ سنبھالتے ہوئے جنگجوئوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ کا جواب دیتے ہوئے مکان کے ارد گرد گھیرائو تنگ کردیا۔انہوںنے بتایا کہ طرفین کے درمیان کئی گھنٹوں تک گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس دوران مکان مکمل طور پر تباہ ہوااور اسی کیساتھ ہی یہاں فائرنگ کا تبادلہ کچھ دیر کے لیے تھم گیا۔ پولیس کے مطابق فورسز اہلکاروں نے جونہی مکان کے ملبے کو ہٹانے کے لیے جے سی بی کی خدمات حاصل کی اور یہاں موجود اہلکار ملبے سے جنگجوئوں کی نعشوں کو حاصل کرنے  میں مشغول تھے تو اسی دوران یہاں ملبے کے نیچے سے مزید زندہ جنگجوئوں نے فورسز پر دوبارہ فائرنگ شروع کردی جس کے ساتھ ہی یہاں جھڑپ دوبارہ شروع ہوئی۔ اس کے بعد فورسز اہلکاروں نے چند مکانات کے ارد گرد محاصرے کو تنگ کرتے ہوئے یہاں فائرنگ کررہے جنگجوئوں کے خلاف حتمی کارروائی کا آغاز کیا ۔ انہوںنے کہا کہ جھڑپ کے اختتام پر ملبے سے کل 5جنگجوئوں کی لاشیں برآمد کی گئی جن میں ڈاکٹر زیشان ساکن اشموجی کولگام، محمد ابراہیم ساکن آرونی، خبیب ساکن قیموہ، ارہان احمد ساکن زنگل پورہ کولگام اور عزیر احمد ساکن گوپالپورہ کولگام شامل ہیں جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد ضبط کیا گیا۔

احتجاج

 جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی علاقے میں لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر احتجاجی مظاہرے شروع کئے اور جھڑپ کے مقام کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی جس کے بعد فورسز نے تمام اہم راستوں پر پہرہ بٹھا کر جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا ۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے اس موقعے پر اسلام اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کرنے کے علاوہ یہاں موجود اہلکاروں پر خشت باری بھی کی۔پولیس و فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے ، پیلٹ گولیوں اور پیپر گیس کا بھی استعمال کیا تاہم صورتحال قابو سے باہر ہوگئی اور پولیس وفورسز نے سڑکوں پرنکل آنے والے نوجوانوں اور سنگ باری کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں پولیس و فورسز کی جانب سے گولیاں چلانے کے دوران 11افراد شدید طور پر زخمی ہوئے ۔ ہلاکتوں کی خبر پھیلتے ہی درجنوں علاقوں میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور بیشتر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز ہوگئے اور پبلک و نجی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی۔۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے ٹیر گیس شلنگ، فائرنگ اور پیلٹ کا استعمال کرتے ہوئے درجن بھر افراد کو زخمی کردیا جنہیں ضلع ہسپتال کولگام منتقل کیا گیا۔ مختلف کاموںکے سلسلے میں اپنے گھروں سے باہرنکلنے والے لوگ عجلت میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے ۔۔جھڑپ کے نزدیک ذرائع ابلاغ سے وابستہ فوٹو جرنلسٹ شاہ جنید کو اُ س وقت لوگوں نے تختہ مشق بنایا جب وہ جھڑپ اور یہاں بھڑکے تشدد کو عکس بند کرنے میں مصروف تھا۔فوٹو جرنلسٹ کا کہنا تھا کہ میں جھڑپ کے مقام کے نزدیک فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں کو عکس بند کرنے میں مصروف تھا کہ اسی دوران عوامی بھیڑ میں سے کسی مولوی صاحب نے چلاتے ہوئے کہا کہ میرے کیمرے میں سی سی ٹی وی نصب ہے جس کے ساتھ ہی چند افراد میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ 

ہڑتال،موبائل و ریل سروس معطل

 کولگام کے کیلم علاقے مین جھڑپ کی اطلاع جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی،جس کے ساتھ ہی دکانیں اور کاروباری ادارے بھی بند ہوئے۔ مقامہ لوگوں کے مطابق سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت بھی بند رہیں،جس کے نتیجے میں عام زندگی کا معمول ٹھپ ہوگیا۔کیلم میں شروع جھڑپ کے پیش نظر پورے ضلع میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو بند رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ محکمہ ریلوے نے بھی جنوبی کشمیر عوامی مظاہروں کے پیش نظر سرینگر سے بانہال ٹریک پر چلنے والی ریل سروس کو احتیاطی طور پر بند کردیا ہے۔ محکمہ کے آفسر نے بتایا کہ مسافروں کی حفاظت اور ریلوے جائیداد کا تحفظ یقینی بنانے کی خاطر محکمہ نے سرینگر سے بانہال تک چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جونہی امن و قانون کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی تو سروس کو واپس بحال کیا جائے گا۔

پولیس و فوج

پولیس و فوج نے کولگام کے کیلم علاقے میں جھڑپ کے دوران5جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔دفاعی ترجمان لیفٹنٹ جرنل راجیش کالیہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جھڑپ میں5جنگجو ہلاک ہوئے اور جنگی طرز کا ساز و سامان بھی برآمد کیا گیا۔اس دوران پولیس نے عوام الناس سے ایک بار پھر التماس ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں پر ممکنہ بارودی مواد موجود ہونے کے باعث خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ترجمان کے مطابق ’’لوگوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں اور جب تک جھڑپ کی جگہ کو صاف کرکے محفوظ قرار نہ دیا جائے تب تک تصادم کی جگہ جانے سے اجتناب کیا جائے۔‘‘

مہلوک جنگجوئوں کی شناخت

 کیلم دیوسر علاقے میں خونین معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہو ا پی ایچ ڈی اسکالر مئی 2018میںفورسز فائرنگ سے دوست کے جاں بحق ہونے کے بعد عسکری صفوں میں شامل ہو ا اور محض دس ماہ تک سرگرم رہنے کے بعد جاں بحق ہو گیا ۔مقامی لوگوں کے مطابق وسیم بشیر راتھر ولد بشیر احمد راتھر ساکنہ عشموجی کولگام کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کر رہا تھا اور مئی 2018میں گھر سے لاپتہ ہونے کے بعد عسکری صفوں میں شامل ہو گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر وسیم کی بندوق کے ساتھ تصویر وائرل ہو گئی جس میں انہوں نے عسکری صف حزب المجاہدین میں شمولیت کی تصدیق کی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق وسیم بشیر نہایت ہی ذہین اور قابل نوجوان تھے تاہم 06مئی 2018کو جگری دوست عادل احمد کی سی آر پی ایف فائرنگ سے ہلاکت کے بعد وسیم بشیر نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ عادل احمد اور وسیم بشیر دو قریبی ساتھی تھے اور عادل سی آر پی ایف میں تعینات ہونے کے بعد انہوں نے نوکری کو خیر آباد کہہ دیا جس کے بعد عادل نے مقامی اسکول میں بطور استاد کام کر نا شروع کیا ۔ مقامی ذرائع کے مطابق مئی 2018میں حزب کمانڈر صدام پڈر اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد فورسز کی فائرنگ سے چار نوجوان بھی جاں بحق ہو گئے جن میں وسیم بشیر کا قریبی دوست عادل بھی تھا ۔ مانا جاتا ہے کہ عادل کے نماز جنازہ میں شمولیت کے بعد وسیم بشیر گھر سے لاپتہ ہو گیا جس کے بعد اگرچہ اسکو گھر والوں نے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے جبکہ انہوں نے پولیس میں بھی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اہل خانہ اس وقت حیران رہ گئے جب وسیم کی بندوق کیساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور اس بات سے تصدیق ہوئی کہ انہوں نے عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی ۔ دس ماہ تک سرگرم رہنے کے بعد وسیم اپنے چار ساتھیوں سمیت اتوار کے روز کیلم کولگام میں ایک خونین معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہو گیا ۔ جھڑپ میں جان بحق ہوئے دوسرے نوجوان زبیر بشیر ساکن کیموہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی گزشتہ برس ہی عسکری صفوں میں اس وقت شامل ہوئے تھے،جب وہ نویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ 
 
 

 لشکر کا خراج عقیدت

سرینگر//لشکر طیبہ (جموں وکشمیر)کے چیف محمودشاہ نے کلگام میں جان بحق ہونے والے حزب المجاہدین کے پانچ عساکر ڈاکٹرذیشان ،محمدابراہیم ، خبیب ،ارہان اور عزیر کو دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ہندوستا ن شکست کے دہانے پر ہے۔انہوں نے کہاکہ ان عساکرنے اپنی جانوں کی قربانی دے کر ایک تاریخ رقم کردی ہے۔ آنے والے مورخ لکھیں گے کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ عساکرنے اپنے عوام کے ساتھ مل کرپروان چڑھایا۔محمود شاہ نے کہاکہ بھارت دنیا کے سامنے بے نقاب ہواہے۔ عساکر نے کم وسائل کے باوجود اپنے سے کئی گناہ بڑے دشمن کا ڈٹ کرمقابلہ کیا۔انہوں نے کہاکہ سال 2019کشمیر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔محمودشاہ نے عوام کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں انکی حمایت پر فخرہے
 
 
 

سملر بانڈی پورہ ، محاصرہ و تلاشیاں

عازم جان

بانڈی پورہ// فوج اور ایس او جی نے بانڈی پورہ کے ملک پورہ سملرکا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی لی تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔تفصیلات کے مطابق ملک پورہ سملر بانڈی پورہ میںفوج نے جنگجوئوں کی اطلاع ملنے پر محاصرہ اور تلاشی کاروائی عمل میں لائی ۔عینی شاہدین کے مطابق 14 آر آر فوج اور ایس او جی نے صبح سویرے کڑاکے کی سردی کے دوران ملک پورہ ودیگر محلوں کو محاصرے میں لیا اور تمام اندر جانے والے راستوں کو بندشیں لگا کر سیل کر دیا ۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر تلاشی لی گئی ہے لیکن آخری اطلاع ملنے تک کچھ نہیں پایا۔ واضح رہے بانڈی پورہ میں گذشتہ ہفتے سے محاصروں کا سلسلہ جاری ہے فوج عسکریت پسند چھپنے کے خدشات ہیں۔