چندرابابو نائیڈو کو انتخابات میں شکست کا خوف، اپنی سیاست اور مفاد کو جار ی رکھنا ہی مہاملاوٹ کلب کا مقصد

آندھر پردیش کے گنٹور ضلع میں وزیراعظم کا خطاب

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
حیدرآباد// وزیراعظم نریندر مودی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اے پی کے وزیراعلی این چندرابابونائیڈو کئی معنوں میں ان سے سینئر ہیں،چندرابابو انحراف ، اپنے سینئرس کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے میں سینئر ہیں جس طرح انہوں نے اپنے خسر کی پیٹھ میں خنجر گھونپا تھا۔وزیراعظم مودی نے ضلع گنٹور میں بی جے پی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چندرابابو ان سے سینئر ہونے کی بات یاددلاتے ہیں لیکن ان کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ ایک انتخابات کے بعد دوسرے کو ہارنے میں سینئر ہیں لیکن میں اس میں ان سے سینئر نہیں ہوں۔چندرابابو جس کو گالی دے رہے ہیں اس کی گود میں بیٹھنے میں سینئر ہیں اوراے پی کے خوابوں کو چور چور کرنے میں سینئر ہیں۔وزیراعظم نے الزام لگایا کہ نام نہاد اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے لئے دہلی کے دورہ کیلئے چندرابابو عوامی رقم کا استعمال کرر ہے ہیں انہیں ایک ایک پیسہ کا حساب دینا پڑے گا،مودی جو تلگودیشم کی این ڈی اے سے علحدگی کے بعد پہلی مرتبہ ریاست کا دورہ کر رہے ہیں نے کہاکہ نائیڈو ریاست میں اپنی مقبولیت سے محروم ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چندرابابو اپنے سن رائز کی باتیں کرتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں وہ اپنے بیٹے کو آگے بڑھانے یعنی (son rise)کا کام کرر ہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ چندرابابو نائیڈو کو انتخابات میں شکست کا خوف ہے ،وہ اپنے بیٹے کو سیاست میں آگے بڑھارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ چندرابابو نے مرکز کی فلاحی اسکیمات پرخود کا اسٹیکر لگادیا ہے ۔ان کا سارا وقت مودی پر نکتہ چینی میں لگ گیا ہے ۔وہ ریاست کی ترقی پر توجہ نہیں دیتے ۔نائیدو کو انتخابات میں ناکامی کا خوف ستارہا ہے ۔وہ اے پی کے عوام پر اپنے بیٹے کو مسلط کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ چندرابابو دولت کو جمع کرنا جانتے ہیں۔امراوتی اور پولاورم رقم جمع کرنے کا ذریعہ چندرابابو کیلئے بن گئے ہیں لیکن چوکیدار ریاست کولوٹنے کا ان کو موقع نہیں دے گا۔وہ عوامی دولت کے چوکیدار ہیں۔چندرابابوکو چاہئے کہ وہ صرف لوکیش کو ہی نہیں بلکہ ہر بچہ کو اپنے بچہ کی طرح دیکھے ۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں باپ ۔بیٹے کی حکومت ہے اس حکومت کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔کرپشن کی طاقتوں کو آئندہ انتخابات میں شکست ہونی چاہئے ۔انہوں نے اے پی کو خصوصی درجہ کے مسئلہ پر کہا کہ ان کی حکومت نے اے پی کو خصوصی پیکیج دیا ہے جو خصوصی درجہ سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔خصوصی پیکیج کا نائیڈو نے استقبال کیا تھا تاہم انہوں نے اس سے انحراف کردیا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس جھوٹ کے سلسلہ پر روک لگانا چاہتے ہیں۔گزشتہ 55مہینوں میں مرکزی حکومت نے اے پی کی ترقی کے لئے مناسب فنڈس دیئے ہیں تاہم ریاستی حکومت نے ان فنڈس کامناسب انداز میں استعمال نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جنہوں نے ملک کو دھویں میں جینے کے لئے چھوڑ دیا تھا وہ لوگ اب ملک میں جھوٹ کا دھواں پھیلانے میں مصروف ہیں۔جھوٹ کی بنیاد پر مہاملاوٹ کاکھیل کھیلاجارہا ہے ۔سنگت کا اثر یہ ہے کہ اے پی کے وزیراعلی بھی اے پی کے ترقی کے ویثرن کو بھول کر مودی کو گالی دینے کے مقابلہ میں کود گئے ہیں جنہوں نے اے پی کے انفراسٹرکچر کا ٹرن اراونڈکرنے یعنی اس کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے خود یوٹرن لے لیا۔چندرابابونائیڈو نے امراوتی کی تعمیر نو کا وعدہ کیاتھا،لیکن اب خود کی تعمیر نو میں لگ گئے ہیں، عوامی مفاد کے معاملات پر جب وہ جھکیں گے ، اپنی باتوں اور اپنے وعدوں سے انحراف کریں گے تو ملک کا سیوک ہونے کے ناطے وہ انہیں یاد ضرور دلائیں گے ۔مودی نے نشاندہی کی کہ چندرابابو دہلی میں نامور خاندان کے غرور نے ہمیشہ ریاستوں کے اہم لیڈروں کی بے عزتی کی ہے ۔اسی بے عزتی پر این ٹی آر نے کانگریس سے پاک اے پی کا عزم کیا تھا اور تلگودیشم پارٹی کا قیام عمل میں لایاگیاتھا۔جس تلگودیشم پارٹی کے لیڈر کو کانگریس سے پاک ملک کی طرف بڑھنا چاہئے تھا ،وہ ان ہی نامداروں کے سامنے اپنا سر جھکارہے ہیں۔ اپنے اصولوں سے وہ بھٹک گئے ہیں کیونکہ وہ سچائی کا سامنا نہیں کرنا نہیں چاہتے ۔وزیراعلی کو تکلیف ہے کہ چوکیدار ان سے حساب مانگ رہا ہے ،انہیں جو اے پی کی ترقی کے لئے ٹیکس فری رقم دی گئی ہے ۔اس کا حساب دینا پڑے گا۔ انہوں نے دہلی واپس جاو کے نعرے پرطنزیہ کہا کہ وہ تلگودیشم پارٹی کے شکر گزار ہیں کہ ان کو واپس جاوکہا گیا وہ دوبارہ دہلی میں ہی جاکر اقتدار سنبھالیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے کروڑوں عوام پر بھروسہ ہے کہ ان کو دوبارہ دہلی میں اقتدار پربٹھائیں گے ۔چندرابابو مہاملاوٹ کے کلب میں شامل ہوئے ہیں، اس کا مقصد اپنے مفاد او رسیاست کو جاری رکھنا ہے ۔مہاملاوٹ کا یہ کلب ایسے لوگوں کا کلب ہے جہاں پر ہر کسی کو غریب کو دھوکہ دینے کے الزام میں قانون کا شکنجہ کس رہا ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ مرکز نے امراوتی کو مرکز نے ہیریٹیج سٹی کا درجہ دیاہے ۔پٹرولیم انفراسٹرکچرکے سینکڑوں کروڑروپئے کاپروجیکٹ اے پی کے ساتھ ساتھ ملک کی توانائی کی بچت کیلئے اہم ہے ۔مشکل صورتحال میں ملک کو گیس، پٹرول کی کمی نہ ہونے پائے اسی لئے مرکز ، ملک کے مختلف مقامات پرآئیل ریزرو بنارہی ہے ۔ضرورت پڑنے پر تقریبا ایک ماہ تک ملک کی پٹرولیم سے جڑی ضروریات کی تکمیل ہوسکے گی۔ایسا ہی اہم آئیل ریزرو وشاکھاپٹنم میں بھی بنایاگیاہے ،جس کو قوم کے نام معنون کیا گیا۔اے پی میں گیس کی گنجائش کو مزید وسعت دینے کیلئے مزید دو پروجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھاگیاہے ۔ ان پروجیکٹس سے ریاست کے نوجوانوں کور وزگار ملے گا،ساتھ ہی گیس پر مبنی صنعتوں کی بھی ترقی ہوگی۔ملک کو ایندھن پر مبنی گیس کی معیشت میں تبدیل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ساتھ ہی سٹی گیس ڈسٹری بیوشن سسٹم سے ملک کے مختلف شہروں کو جوڑا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک کے جنوب ، مغربی یا مشرقی علاقوں کی ساحلی پٹیوں کو پٹرولیم کے ہب کے طور پرترقی دی جائے ۔ہمارانشانہ نئے ہندوستان کو نئی صاف ستھری آلودگی سے پاک معاشی طاقت بنانا ہے ۔انہوں نے کہاکہ گیس پرمبنی سہولیات صرف صنعتوں کو ہی نہیں بلکہ ضلع کے عوام کے رہنے کے طور طریقے بھی بدل رہی ہیں۔ آئندہ برسوں میں ملک کے سینکڑوں شہروں میں اس تبدیلی کو خود محسوس کی جاسکے گی۔ایک طرف حکومت گیس پر مبنی معیشت کی بات کررہی ہے تو وہیں ملک کے غریب سے غریب خاندانوں اور غریب،دلت ،پچھڑے ہوئے طبقات کی بہنوں کو مفت گیس کنکشنس دینے کا کام کیاجارہا ہے ۔اجولا یوجنا کے ذریعہ ملک بھرمیں اب تک سواچھ کروڑسے زائد مفت ایل پی جی کنکشنس دیئے جاچکے ہیں۔دھویں سے پاک ہندوستان کی پیشرفت میں عوام کے ایک ایک ووٹ کی طاقت شامل ہے ۔انہوں نے کہاکہ 60سال میں 12کروڑگیس کے کنکشنس دیئے گئے ،جبکہ بی جے پی نے پچھلے ساڑھے چار سال میں لگ بھگ 13کروڑنئے گیس کے کنکشنس دیئے ہیں ۔
 

تازہ ترین