تازہ ترین

تماشوں کے آگے طمانچوں کاسرگم

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شفیع احمد نیو کالونی ، کھریو
شی۔ چپ ۔ خاموش۔ کسی سے کہنا نہیں ، یہ راز کی بات ہے کہ بھارت ورش کی کنول برادری نے جمہوریت کا نیا فنڈا نکالا ہے۔اس نے دلی دربار ہی نہیں بلکہ ملک کشمیر کے وائسرائے سے گٹھ جوڑ کرکے اپنے ملک کشمیر میں جمہوریت کو مستحکم کیا ہے اور اب اپنے یہاں جمہوریت اس قدر طاقت ور ہوگئی ہے کہ اتفاق اور انڈے میں جو طاقت ہے وہ اس کے سامنے ہیچ ہے۔ یقین نہ آئے تو ان کے بیانات سن لو جو یہ لوگ میزائلوں کی مانند داغ رہے ہیں بلکہ یہاں کی سیاسی پارٹیوں کے اندر باہر سرجیکل اسٹرائک کر رہے ہیں ۔ مودی شاہ  پرائیویٹ لمیٹڈ ایک طرف ، کنول برادری اینڈ کمپنی کی ریاستی اکائی دوسری طرف سینہ ٹھوک کے، پیر دبا کے اور بازو لہر اکے اعلان پہ اعلان کرتی جا رہی ہے کہ جمہوریت کی ٹانگوں میں کیلشم کے انجکشن انہوں نے بھروائے۔ اس کے بازئوں میں وٹامن ڈی کا بنڈیج انہوں نے  ہی لگوایا ، اس کی ہڈیوں میں جمہوری پلستر انہوں نے بندھوایا اور کچھ باقی رہا تو جگہ جگہ لوہے کی پٹیاں مع نٹ بولٹ انہوں نے ہی کسوائے تاکہ کہیں جمہوریت دائیں بائیں لڑھک نہ پائے۔ اتنا ہی نہیں یہ سب مٹیریل ناگپور برانڈ ہاف چڈی مارکہ تھا اور جمہوری تماشے میں جو کھلونے بیچ میدان لا کر کھیل تماشہ دکھاتے ہیں ان میں بھی سیل بھاجپا نے لگائے، چابی ستیہ ملک نے بھری تاکہ اشارہ سمجھتے ہی ناچ نغمہ بپا کردیں۔ ان سیاسی کھلونوں میں سابق افسران ، سابق ٹریڈ لیڈران، عوام کے سروں پر ایرے غیرے براجمان باقاعدہ آشیرواد لے کر اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں   ؎ 
 لوگ جوق جوق در جوق چلے جاتے ہیں
 نہیں معلوم تہہ خاک تماشہ کیا ہے
ویسے زیادہ سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ جمہوری تماشے کا بڑا میدان اسمبلی ہوتا ہے اور اسے سیل بند کرنے کے لئے کھڑکیاں دروازے  انہوں نے ہی بند کردئے تاکہ نیشنل کا ٹویٹر ٹائیگر ، قلمدان والوں کی دودھ ٹافی آنٹی، یا اچھلم کودم جے رشیدم کہیں سے اندر داخل نہ ہوں۔  ملک کشمیر میں کیسے جمہوری جسم و جان سخت اور پائدار بنتا ہے ، یہ سوال تو وہ پوچھے جو ملک کشمیر کی سنتالیس سے چلی جمہوری گھوڑی کی دوڑ نہ دیکھے ہوں ۔بھلے یہ گھوڑی لنگڑی صحیح، پر ٹک ٹک چلتی تو ہے اور ہر چھ سال بعد اسی لنگڑی گھوڑی کو زین سجانے کا کام کیا جاتا ہے۔اسی لئے تو بوڑھی گوڑی کے لال لگام باندھی جاتی ہے تاکہ یہ گھوڑی دنیا کو دکھانے کے کام آئے کہ بشری حقوق کے علمبردارو اپنی جمہوری گھوڑی چوپٹ دوڑتی ہے اور ساتھ میں یہ اعلان ہو کہ اہل کشمیر اسی گھوڑی کو ہانکتے رہتے ہیں اور بھارت ورش کی جے جے کار کرتے ہیں۔اس لئے کنول برادری نے تو جمہوری تماشے کو مضبوط کرنے کا نت نیا طریقہ نکالا ۔اسمبلی کو کچھ دیر تک لٹکائے رکھا کہ اس کی رہی سہی جان بھی لب پہ آجائے اور جب اسے تھامنے کے لئے مطلوبہ ممبران دوڑے ہوئے نہیں پہنچے تو اسے راج بھون کی خراب شدہ فیکس مشین کے حوالے کر کے تحلیل کردیا۔یوں جمہوریت مضبوط ہو گئی۔ واہ مودی جی واہ!
 ماضی میں ہم نے سنا تھا کہ البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے، اسی لئے اس پر ایک فلم بھی بنی تھی مگر جانے آ ج کل سب غصے میں کیوں ہیں اورکوئی فلم بھی نہیں بنتی لیکن اسی سینڈروم کا شکار کیوں ہیں؟اُدھر مملکت خداداد کے شاہ محمود قریشی فون کرتے ہیں ،اِدھر اپنے ینگ میرواعظ آف شہر خاص اُچھل پڑتے ہیں کہ شاید ملک کشمیر کا مسلٔہ حل ہو گیا ۔فون سننے دوڑتے ہیں اور ہشاش بشاش دِکھتے ہیں کہ وزیر 
با تدبیر نے دلاسہ دیا کہ ہم ہیں ،اس لئے تم آگے بڑھو۔ فروری کے مہینے میں ہم آر پار ہی نہیں سات سمندر پار بھی انقلاب کشمیر بپا کردیں گے، لیکن اس فون پر دلی دربار کو غصہ آتا ہے تو مملکت خدادا کے دلی مقیم نمایندے کو طلب کرتے ہیں ، چائے تو پلاتے ہیں لیکن اس میں مرچی ملاتے ہیں۔چیتائونی دیتے ہیں کہ اور کوئی فون نہ بجانا لیکن محمود قریشی بھی کوہستانی نمک کھائے ہیں ٹاٹا نمک کھانے والوں سے نہیں ڈرتے۔ دوبارہ فون اٹھاتے ہیں۔ ادھر حیدرپورہ میں یہ دو دیوانے دل کے چلے ہیں دیکھو مل کے والا رنگ ٹون بجتا ہے ۔پھر قائد بزرگوار سے پیار محبت کی باتیں ہوتی ہیں ۔ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کا عہد و پیمان دہرایا جاتا ہے ۔ یہ سنتے ہی دلی سرکار میں پھر مرچی گیس کے گولے پھوٹتے ہیں ۔کچھ نہ بنا تو ملک کشمیر آکر مودی مہاراج غصہ نکالتے ہیں ۔ڈل کنارے چیتاؤنی دے ڈالتے ہیں کہ لڑ مرو عاشقو، طاقت ہے تو کشمیر لو اور پھر کشمیری میں اپنی مطلبی بولی بول کر گولی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اب تو ہم نے کشمیری زبان بھی سیکھ لی، پھر بھلا کہیں کشمیر کو جانے کی ضرورت کہاں؟ اور غصہ بھی اس قدر کہ مودی جی ڈل کی سیر پر نکلے تاکہ ٹھنڈے موسم میں خود بھی ذرا ٹھنڈ محسوس کریں۔ہڑتال زدہ جھیل اور آس پاس کی بستی میں جب کوئی نہ دکھا تو اور غصہ سے بے قابو ہوگئے ۔خالی خالی فضا میں ہاتھ لہرائے، ڈل کی خاموش لہروں کو، برفانی چوٹیوں کو، یخ بستہ ہواؤںکو ، پتوں سے فارغ پیڑ پودوںکو، سطح آب کے نیچے ٹھٹھری پڑیں ڈل کی مچھلیوںکو اورخالی پڑی سڑکوں کو مسکراتے ہوئے استقبال کیا۔ اس سے پیٹ نہ بھرا تواہل کشمیر کو من کی بات سنائی نہیں دکھائی کہ ظل الہیٰ خالی کرسیوں کے سامنے تقریر کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ جہاں عالم پناہ یہ کمال کر یں، وہاں بے حس وحرکت ڈل کاہاتھ ہلا کر ہلا کرسواگت کرنا کیا مشکل؟ انہوں نے یہ بھی فرمایا جب مابدولت خیالی پندرہ پندرہ لاکھ فی ناگرک کے بنک کھاتے میں جمع کرانے کا جادو چلانا جانتے ہیں،نا معلوم نوکریوں کا حساب کتاب کرسکتے ہیں، توبھلا خیالوں میں بسے لوگوں کی طرف ہاتھ ہلانا کیا مسلٔہ؟ سنا ہے ڈل کے ٹھہرے پانیوں اور زبرون کی چوٹیوں نے جب شاہ ِ ہندکا کوئی جواب نہ دیا تو انہیںفوراً سی بی آئی انکویری کی دھمکی دے ڈالی ۔یہ پھر بھی کہاں ماننے والے تھے ، انہیں معلوم تھا سی بی آئی اس وقت ممتا دیدی کے چنگل میں پھنسے تھے۔ اس بیچ اپنے نیشنلی ٹویٹر ٹائیگر اور بانوئے کشمیر بھی میدان میں کود گئے یعنی چونٹیوں کے بھی پر نکل آئے ۔ایک تو مودی کا لہراتا ہاتھ کچھ ساتھ نہ بھایا، اس پر طعنے کسے ۔پھر ممتا دیدی کے سی بی آئی گرفتاری پر حمایت کر ڈالی ۔شاید یہ سوچ کر کہ این آئی اے کو راستہ دکھانے وہ لوگ خود نکل پڑے تھے کہ جس کشمیری کو اس لپیٹے میں لانا ہے، لے جائو مگر ہماری  پیاری پیاری کرسی کو کبھی مت چھیڑنا کہ اس کے بغیر جی نہیں پائیں گے۔پھر سنا ہے دبے لفظوں ٹھیٹھ کشمیری زبان میں یہ بھی کہہ ڈالا کہ چلو  اس پوشی نہ کینہہ سان ممتا دیدی پوشی( ہم تو مقابلہ نہ کر پائے ہماری طرف سے ممتادیدی پچھاڑ دے گی)۔ چونکہ سب کو غصہ آتا ہے، اپنے حریت نواز بھی غصے کے موسم میں خشم آلود نہ ہوں ، یہ ممکن نہیں ۔انہوں نے بھی مودی کی تیکھی بھاشا کے جواب میں اور تیکھے تیور دکھا دئے۔ان کا تیکھا پن اپنی جگہ ، اپنے اہل کشمیر ہی اس تیکھی مرچی کا اثر جانتے ہیں جو دونوں طرف کی مرچی کے سبب ان کی ناک میں گھس کر اوے اوے کراتی ہیں۔ 
اسی مرچی کا نتیجہ ہے کہ میجر شکلا نے بنا بنایا بندوق بردار ڈھونڈ لیا ۔ٹارچر کے ذریعے منوایا کہ اچھ گوزہ پلوامہ کا نوجوان توصیف بندوق اُٹھائے تصویر لے ،جبھی تو وردی پوش میجر نام نہاد آتنک وادی سے لڑ کر بڑا انعام پائے اور مودی جی کا بھرم قائم رہے کہ اس کے فوجی دہشت گردی کا قلع قمع کر رہے ہیں۔اس پر سنہ سولہ کی بانوئے کشمیر کو بہت غصہ آیا ۔فوراً ہسپتال پہنچیں ، عیادت کی اور چلتے چلتے چیتائونی دی کہ میں قیامت سے پہلے پہلے کور کمانڈر سے بات کروں گی ۔ بات ہو نہ ہو، دھمکی ہی دے ڈالی کہ جب یہ دودھ ٹافی لینے گیا ہی نہیں، بھلا اس کی ہڈی پسلی توڑنے کا کیا تک؟  
کیسے ممکن ہے کہ پھر ملک سنور جانا ہے 
 جھوٹ کو اہل سیاست نے ہنر جاناہے
 بیان بدلے ہیں عادت تو نہیں بدلی ہے
 خوش گمانی تھی کہ لوگوں نے سدھر جانا ہے
 گئو ماتا تو کنول برادری کے لئے اہم ہے ہی بلکہ گئو متر( بول براز) ان کی بیماری کا علاج بھی مانااجاتا ہے ۔ اس لئے تو یوگی پردیش میں گئو شالہ بنانے پر ۲۴۷؍ کروڑ،۲۰۰ کروڑ اَناتھ( یتیم وبے سہارا) گائیوں کے شاہی گاؤ شالہ کے لئے بجٹ، سپیشل گئو سیس سے ۱۶۵؍ کروڑ جٹائے یا لٹائے گئے ۔ مطلب بھلے انسان زندہ رہیں نہ رہیں مگر گائے کی ووٹ پوجا ضروری ہے ۔ سنا ہے کہ گئو ماتا اپنا ہاتھ جگن ناتھ والی کانگریس کے لئے بھی دودھ نہیں ووٹ کی اَن داتا ہے اور گائے کے نام پر مسلم اقلیت کا خون کرنے والے تو ہیں ہی مگر پنجہ مارنے والے بھی کم نہیں ۔جبھی تو سکھوں کے قتل میں ملوث چیف منسٹر کنول نہ سہی پر کمل تو ہے ۔ مدھیہ پردیش میںگائے ذبح کر نے کے الزام یا جرم میں تین مسلم افراد کو نیشنل سکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تاکہ زیادہ دیر انہیں قید رکھا جا سکے،کیونکہ ان کی لمبی قید پنجہ مار پارٹی کے لئے بھی ووٹ بٹورتی ہے۔اس پر بھی بانوئے کشمیر کو غصہ آتا ہے ۔کنول برادری اور پنجہ مار پارٹی کو ایک ہی سانس میں جھنجوڑ دیا کہ گائے دونوں کی ماتا ہے ،کیونکہ گائے بھلے ہی پوری دنیا میں دودھ دے لیکن بھارت ورش میں یہ ووٹ دیتی ہے مع نوٹ۔جگالی کرتی ہے تو ووٹنگ مشین کے سرخ بلب جلتے ہیں اور سیاست کاروں کے سات طبق روشن ہوتے ہیں ۔پھر وہ پانچ سال آرام سے بیٹھ کر چشم روشن دل ما شاد جیسے گیت مالا گنگناتے ہیں   ؎
 ووٹ لینے پہ یہ آزمائے ہتھکنڈے تھے
  جتنے وعدے کئے ان سے مکر جانا ہے
 نیتاسوچتے رہتے ہیں یہی سارا دن 
 ناشتے لنچ ڈنر میں بھلا کیا کھانا  ہے 
 اپنے راج بھون مکین کے شاہ جہانی کی زبانی بنا کسی بریک کے چلتی رہتی ہے اور اس دوران کون کہاں اس کے رتھ کے نیچے کچلا جائے ،اس کی ذمہ داری راج بھون پر عاید نہیں ہوتی۔جب بھارت ورش اور مودی اینڈ کمپنی کی بات ہو تو اعلان کرتے ہیں کہ ہم بے چارے ہیں ۔ہماری تقریر تک دلی دربار سے مانتا پراپت ہونے کے بعد ہی ہماری زبانی سنوائی جاتی ہے ۔اس لئے کوئی ہمیں His Master's voice  نام دے تو کوئی اعتراض نہیں کوئی آپتی نہیں ،لیکن جب ملک کشمیر کو آنکھیں دکھانی ہوں تو یہ حضرت دل پھاڑ کے غصے کی چلم سلگاتے ہیں اور دھواںمنہ سے چھوڑے ساکھشی مہاراج کی بولی میں بولتے ہیں: اٹھو کشمیری خان،شاباش،جلدی کرو کہیں دیر نہ ہو جائے۔بوریا بسترہ باندھ لو ، مابدولت وائسرائے آف کشمیرنے آرڈر دیا رخت ِسفر باندھ لوکہ جو آزادی مانگے وہ مملکت خدادا چلا جائے۔گردش ِ زمانہ بھی دیکھئے یا دہرِستم ظریف بھی دیکھئے کہ بانوئے کشمیر کتنا بھی چیخیں چلّائیں ستیہ ملک اپنے وردی پوشوں کے پیچھے کھڑے رہ کر اُن کی بات کو ہی صد فی صدستیہ مانیں گے ۔انہوں نے اتحادِقطبین کا جھاڑ پھونک جاننے والے مفتیان ِبیج بہاڑہ کے خلاف  اب یہ تازہ فتویٰ بھی جاری کردیا کہ اُن کی طرف کوئی توجہ کی ضرورت نہیں کیونکہ قلمدان والے ٹوٹ رہے ہیں، پھوٹ میں ہیں ، منزل ِ کرسی سے چھوٹ رہے ہیں۔مطلب قطبین  کے ملاپ میں جو پیار کے پاپڑ بیلے تھے وہ اب قابل خوردن نہیں رہے!!
........................
رابط (wanishafi999@gmail.com/9419009169)
