تازہ ترین

محمد مقبول بٹ مرحوم

اس خوابِ پُر شباب کی تعبیر انقلاب

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد حسین الطاف خان
کشمیر  کاز کے حوالے سے بعض دوستوں اور دشمنوں نے یہ ایک فرضی بیانیہ بنارکھا تھا کہ یہ تحریک پامردی اور عقل و خرد سے محروم رہی ہے اور یہ بھی کہ پڑھے لکھے لوگوں نے کبھی بھی بڑی تعداد میں اس میں حصہ نہ لیا ۔اگرچہ مابعد ۹۰ء کشمیری نوجوانوں نے اپنی بے پناہ قربانیوں اور جہد مسلسل کے بل پر اس غلط بیانیے کو ہر سطح پر جھٹلادیا جس کے ہم سب عینی گواہ ہیں مگر ستر کی دہائی میں بھی محمد مقبولؒ بٹ نام جیسے جیالے اور سرفروش کشمیری قائدنے اپنی سعی وکاوش کی بنیاد پر اہل کشمیر کے بارے میں ایسے مفروضوں کو عملاً جھوٹا ثابت کردیا تھا۔ خوش قسمتی سے راقم الحروف کو مقبولؒ بٹ کے کچھ قریبی ساتھیوں سے ملاقاتیں کرکے مرحوم کی پامردی،استقامت،تعلیمی استعداد،عقل و خرد اور سب سے بڑھ کر صاف و شفاف زندگی سے متعلق رُوداد سننے کا موقع ملا جنہیں افادہ ٔ عام کے لئے مختصراً سپرد قلم کر رہاہوں۔ محمدمقبولؒ بٹ کے ایک ساتھی اور ہم جماعتی ماسٹر سکندر ملک نے بٹ صاحب کے ساتھ اوّل سے دسویں تک ترہگام ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ اسکندر ملک کا کہنا ہے کہ مقبولؒصاحب میں بدرجہ ٔاتم خداداد ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں جمع تھیں۔ ان کے والد غلام قادر بٹ اور والدہ راجہ بیگم بھی عالی ظرف تھے اور اپنے وقتوں کے حصارسے بہت آگے کی سوچ رکھتے تھے۔غلام قادر بٹ پیشے سے ٹیلر ماسٹر تھے لیکن اُن کی ذہانت، زیرکی اور ان کے مخصوص طرز گفتار کا ترہگام اور اس پاس کے علاقے میں بہت چرچا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ اس پورے علاقے میں کوئی بھی بڑی محفل موصوف کی شرکت کے بغیر ادھوری لگتی تھی۔ سکند ملک کے مطابق مقبولؒ بٹ اپنے والد کی ذہانت و طرز ِ حیات اور اپنی والدہ کی عقل مندی اور حلیم ا لطبعی کا گویا مجموعہ تھے ۔ان کا کہنا ہے کہ مقبول بٹ نے آٹھویں جماعت کا امتحان پورے علاقے میں اوّل پوزیشن کے ساتھ پاس کیا ۔ اسکول کے ایک مباحثے کے دوران’’ شہری زندگی‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں تقریر کرکے مقبولؒ نے نہ صرف اپنے ہم عصر طلبہ کو متاثر کیا بلکہ اساتذہ کوبھی حیران کر کے رکھ دیا، یہاں تک کہ پرنسپل فاروقی صاحب کو اُن پر شاباشیوں اور تعریفوں کے ڈونگرے برساتے رہے ۔ سکندر ملک کی نگاہ میں مقبولؒ ایک پیدائشی قائد ،ایک خوبصورت و توانا جسم کے مالک ، ایک جری انسان ، ایک تر دماغ ، ایک علم دوست ،ایک پُرجوش مقرر، ایک بہترین ایتھلیٹ اور ایک شریف النفس انسان تھے ۔ ترہگام اسکول، جسے ہائی اسکول کا درجہ دلانے کی جدوجہد میں خود مقبولؒ بٹ بھی صف اوّل میں شامل رہے، سے میٹرک پاس کرنے کے بعدوہ اعلیٰ تعلیم کے لئے بارہ مولہ کے سینٹ جوزف کالج میں داخلہ پا گئے اور وہیںسے گریجویشن مکمل کر لی۔ نو جوانی کے ایام میں مقبولؒ کے دوست خالق پرویز صاحب (’’ جلا وطن ‘‘نام سے ایک تاریخی کتاب کے مصنف)جو خود بھی تواریخ ِکشمیر کے ایک اہم باب کے مشاہد بھی رہے ہیں اور معما ر بھی ، وہ مقبولؒ صاحب کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’فٹ بال کھیلتے ہوئے میری نظر اچھے کپڑے زیب تن کئے ہوئے ایک صاف و شفاف نوجوان پر پڑی ۔ سلام دعا کے بعد ہم دونوں دوست بن گئے اور کچھ ہی دن بعد مقبولؒ کا داخلہ سینٹ جوزف میں ہوگیا۔‘‘ خالق پرویز کا کہنا ہے کہ محمد مقبولؒ باقی سب نوجوانوں سے مختلف تھے۔ وہ کھیل کود میں خاصے اچھے تھے لیکن کھیلنے کودنے سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔تقریر یں کرنا اور تقریر وں میں کچھ ایسی باتیں کہنا کہ جن کا باقی لوگوں کو کچھ علم ہی نہیں ہوتا، یہ بھی اُن کا خاصہ تھا ۔ اُن کی یہ ادائیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہ نصابی کتب کے علاوہ بھی مطا لعۂ کتب میں مست ومحو رہتے تھے۔انقلابی ذہن، حصول ِعلم کی دلی چاہت اور اپنے وطن عزیز کو اغیار سے خلاصی دلانے کے جذبے نے ہی اُنہیں پشاور پاکستان پہنچادیا ۔ وہاں اُن کے ایک چاچا پہلے سے ہی مقیم تھے۔ مقبول ؒ نے فوراً پشاور یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور یہیں سے اُردو لٹریچر میںایم اے مکمل کرلیا۔ علم کی پیاس بجھانے کے لئے اُن کی جدوجہد برابرجاری رہی اور انگریزی لٹریچر کے ساتھ ساتھ انہوں نے قانون کی تعلیم سے اپنے ذہنی اُفق کو مزید وسعت دی۔ زندگی کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لئے اُنہیں معاشی تگ ودَو کی ضرورت پیش آئی تو ایک اُردو روزنامے ’’انجام‘ ‘ کے نائب مدیر کا منصب سنبھالا، ساتھ ہی ساتھ بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کا کام بھی شروع کردیا۔معاشی طور پر کچھ استحکام ہوا تومقبولؒ نے پشاور میں ایک کشمیری لڑکی سے نکاح کرلیا جن کے بطن سے ان کے دو بیٹے ہوئے۔ بعض گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے اُنہیں دوسری شادی کرنا پڑی ۔اس نکاح سے مقبولؒ کے یہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ مقبولؒ کی گھریلو زندگی کامیابی کے ساتھ چل رہی تھی اور کہنے کو وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مطمئن زندگی گزار رہے تھے لیکن اُن کے اندر کا باغی کیونکر پُرسکون زندگی پر قانع رہتا؟؟؟
  آج کل کے کچھ فرضی قوم پرست بھارتی فسطائی برطانوی ملکہ وکٹوریہ کو اپنا’’ محافظ‘‘ اور گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو ’’بھگوان‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ اُلٹی کھوپڑیوں کا  یہی کمال ہوتاہے ۔اسی طرح ہمارے بعض کندہ ٔ ناتراش نام نہاد قوم پرست بھلے ہی ڈوگرہ مہاراجہ کواپنا’’محسن‘‘ قرار دیں مگر سچائی اور بہادری کے مجسمہ مقبول بٹؒ کے قلب وجگرسے مہاراجی مظالم اور تعذیبوںکی یادیں کھر چی جاسکتی تھیں اور نہ ہی بھارت کا جبر واکراہ اُن کو قابل ِقبول ہوسکتا تھا۔اس لئے انہوںنے اپنا آرام تج کر اور اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کشمیر کاز کو آگے بڑھانے کا مصم ارادہ باندھ لیا ۔ بے لوث طبیعت، اخلاص مندی ، جذبۂ حریت ، جہد ِمسلسل اور موثر انداز بیان و زبان جیسی خصوصیات سے مقبولؒ بٹ ’’آ زاد کشمیر‘‘ اور پاکستان میں رہنے والے کشمیریوں کے درمیان خاصے مقبول تھے ، اگر وہ چاہتے تو آسانی کے ساتھ پاکستان یا ’’آزاد کشمیر‘‘ کی سیاست میں شامل ہوکر اقتدار کی کرسی بھی حاصل کرسکتے تھے ۔وہ بھی آرام سے ویسا کر سکتے تھے جیسے اپنے یہاں کے تیس مار خان دانش ور کہلانے والے نفس پرستوں، پڑھے لکھے خود غرض افسر وں اور ٹریڈ یونین لیڈروں نے پہلے تحریک ِمزاحمت کو لانچنگ پیڈ بنا یا، پھر اقتداری سیاست میں ڈبکیاںمار یں ۔اس عموم کے بالکل برعکس مقبولؒ بٹ نے مزاحمت کا خار زار اختیار کیا تاکہ اپنی قوم کی مظلومیت اور محکومیت کے درد کا درماں بن سکیں ۔وہ ا پنے سیاسی موقف پر دیوانہ وار ڈَٹ گئے ۔ دوسرے باہوش کشمیریوں کی طرح مقبولؒ بھی ۱۹۶۶ء میں بھارت پاک تاشقند معاہدے سے وہ کافی دل برداشتہ تھے ۔ چونکہ مقبولؒ کے اندر کا باغی اس ہزیمت کو قبول نہیں کرپایا ، اس لئے انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر اور کیرئیر کو لات مار کر ان قوم فروش قوتوں کے خلاف بغاوت عَلم بغاوت بلند کردیا جو کشمیریوں کے مفادات کی بیخ کنی کا جرم کر رہے تھے اور کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اپنے اعلیٰ وارفع ہدف پانے کے لئے مقبولؒ نے گوریلا جان باز بن کر وطن کی سر بلندی کی راہ میں ایک اَنتھک لڑائی لڑنے کا مضبوط فیصلہ لیا ۔ اُن کا ماننا تھا کہ کوئی دوسرا ملک یا کوئی دوسری قوم کشمیریوں کی اصولی جنگ لڑنے کیلئے نہیں آسکتی، اس لئے اہل کشمیر کو اپنی کامیابی کی جنگ خود لڑنا پڑے گی۔
 مقبولؒ کے چہیتے دوست اور ہمراز بزرگ ہستی غلام مصطفیٰ علوی کہتے ہیں کہ وہ اس نئے مقبولؒ کے عینی گواہ ہیں۔ علوی صاحب مقبولؒ بٹ سے پہلی مرتبہ مظفر آباد میں ایک میٹنگ کے دوران ملے ،جہاں اُنہیں بتایا گیا کہ تاشقند معاہدے کو مسترد کرنے کیلئے کشمیریوں کا اپنی جدوجہد کو خود آگے بڑھانا ضروری بن گیا ہے ۔ اس کام کے لئے مقبولؒ بٹ خونی لکیر( سیز فائر لائین) کو توڑ کر وادی میں داخل ہوں گے اور کشمیریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے قومی تحریک برپا کردیں گے۔ یوں مقبول بٹ ؒ وادی میں وارد ہوگئے ،انہوں نے وادی کے چپے چپے کا دورہ کیا، دوستوں سے ملاقاتیں کیں ، انہیں اپنی اصولی جنگ آپ لڑنے کے لئے ذہناً تیار کیا اور مختصر سے عرصے میںاپنے سینکڑوں ہم خیال پیدا کرڈالے۔ اسی 
کدو کاوش کے دوران انہیں رفیع آباد سے گرفتار کیا گیا اور پھرتاریخ کے نئے اوراق اُن کی زندگی سے جُڑ گئے ۔مقبولؒ بٹ کے ایک اور تحریکی ساتھی کا کہنا ہے کہ اُس وقت قریب ۳۰۰؍ لوگوں کو پولیس نے گرفتار کر کے سخت اذیتوں سے نیم جان کر دیا ۔مقبولؒ کے ایک اور ساتھی معروف قلم کارا ورصحافی جناب وجیہہ احمد اندرابی کہتے ہیں کہ مقبولؒ بٹ کے ہمراہ اُس وقت کے بدنام زمانہ انٹروگیشن سنٹر باغ مہتاب میں زیر حراست رہا۔ اُنہیں الف ننگا کرکے اذیتیں دی گئیں اور دوسرے گرفتار شدہ گان کے سامنے ننگا کرکے پریڈ کرائی گئی تاکہ اُن کے اعصاب کو توڑا جاسکے لیکن مقبولؒ بٹ اپنی ذات میں صرف ایک انقلابی تھے ،انہیں توڑنا تو کجا تھوڑا سا جھکانا بھی ناممکن تھا ۔عدالت نے مقبولؒ کو موت کی سزا سنادی مگر وہ سنٹرل جیل سری نگر کی سلاخیں توڑ کر فرار ہوئے اور دسمبر کے یخ بستہ موسم میں برفیلی چوٹیاں سر کرتے ہوئے ۱۶؍ روز تک مسلسل سفر کے بعد ’’آزاد کشمیر‘‘ پہنچ گئے ۔ یہاں کے کرم فرمائوں نے انہیںگرفتار کرکے مزید اذیتوں اور عتابوں سے بے حال کردیا۔ بزرگ علوی صاحب کے آنسو کی گواہی ہے کہ مقبولؒ بٹ کو اس نئی آفت و اُفتاد سے پاکستان کے معروف عالم دین اور سیاسی رہنما مفتی محمود نے خلاصی دلائی۔ ظاہر ہے کوئی دوسرا شخص اتنی ڈھیر ساری پریشانیوں سے دوچار ہوا ہوتا تو دوبارہ اس پُر خطر اور اعصاب شکن راستے پر جانے کا نام بھی نہ لیتا لیکن مقبولؒ اپنے منتخب کردہ راستے سے واپس لوٹ آنے والے نہیں تھے۔انہیں ’’آزاد کشمیر ‘‘ میںمحاذ رائے شماری کا صدر منتخب کیا گیالیکن سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ وہ عسکری جدوجہد کو بھی آگے بڑھانے کی جستجو میں رہے۔۱۹۷۵ء میں ذلت آمیز اندرا عبداللہ ایکارڈ کے بعد کشمیر کا مزاحمتی پلیٹ فارم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا تھا۔باغی مقبولؒ نے ایک بار پھر کشمیر لوٹنے کا فیصلہ کیا ۔اس کے متعلق اُن کے دست راست امان اللہ خان لکھتے ہیں : وادی لوٹ جانے کے فیصلے کے بعد مقبولؒ مجھ سے ملنے کراچی آئے۔ کراچی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر میں نے مقبول ؒ سے کہا کہ وادی میں انہیں سزائے موت سنائی جاچکی ہے اور وہاں ان کا جانا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہاں ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔جواب میں مقبولؒ نے کہا کہ دیکھو وہ ٹرین اسی پلیٹ فارم کی جانب آرہی ہے ، گمان کرو کہ اگر ٹرین کے سامنے میں غلطی سے گرپڑا اور مارا گیا تو میرے بچوں کا کیا بنے گا؟ کون جانتا ہے کہ اُس کی موت کیسے اور کہاں لکھی ہے؟ اس لئے موت سے کیوںکر گھبرانا ؟ سب کچھ اللہ پر چھوڑ دو اور مجھے جانے دوکیونکہ آج کشمیر کو ایک سپاہی کی ضرورت ہے لیڈر کی نہیں۔‘‘مقبولؒ واردِ کشمیر ہوگئے اور ذلت آمیز ایکارڈ کے خلاف نبرد آزما ہوکر تحریک مزاحمت آگے بڑھانے میں ہمہ تن جُٹ گئے ، پھر سے گرفتار ہوئے اور سیدھے تہاڑ جیل دلی پہنچائے گئے ،جہاں بارہ برس تک قید میں رہنے کے بعد بالآخر۱۱؍ فروری ۱۹۸۴ء کو اُنہیں تختۂ دار پر لٹکادیا گیا ۔ اسی جیل کے اندر اُن کا مدفن بنا یا گیا۔ شاید مقبول بٹؒ کی بے چین رُوح عالم ِبرزخ میں اب بھی کشمیر کی حالت ِزار پر بے آرامی محسوس کر تی ہوگی ۔
 دنیا کے انقلابیوں کی بھی کوئی سرحد نہیں ہوا کرتی، یہ کہیں کے بھی ہوں، اپنی قوم کے ہی ہیرو نہیں ہوتے بلکہ اپنے مخالفین کیلئے بھی قابل عزت ولائقِ احترام ہوا کرتے ہیں ۔مقبولؒ بٹ لیبیا کے عمر مختار ، ارجنٹینا کے چی گویرا، بھارت کے سبھاش چندر بوس کی مانند ہی ایک انقلابی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنی ذات کے بجائے قومی آ زادی اور سربلندی کو اپنی آنکھوں کا تارا اور دل کی دھڑکن بنایا۔عمر مختار نے کہا تھا : ’’ہم مر سکتے ہیں یا جیت سکتے ہیں لیکن کبھی سرینڈر نہیں کرسکتے‘‘،اسی طرح چی گویرا نے کہا تھا :’’ ہم اس چیز کو حاصل نہیں کرسکتے جس کے لئے لڑنا مرنا ہمیں نہ آتا ہو‘‘ ، سبھاش چندر بوس نے کہا تھا : ’’تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دلادوں گا۔‘‘ انہیں انقلابیوں کی مانند کشمیر کے مقبولؒ نے کہا تھا : ’’ یہ جنگ ہماری ہے ،اس لئے ہمیں خود لڑنا پڑے گی اور جب تم اپنے آپ کو یقین دلادو گے کہ تم آزاد ہو توجان لو کہ تم آزاد ہی ہو۔‘‘ کتنی گہری ہم آہنگی اور یکسانیت ہے ان سبھی انقلابیوں کی زندگیوں اور سوچ میں ۔ بہر حال محمد مقبولؒ بٹ کی زندگی کے چند گوشوں کو مختصراًبیان کرنے سے میرا مقصد اُن کی انقلابی زندگی اور کشمیر کاز کے لئے قربانیوں کو سلامِ عقیدت پیش کر نا اور کشمیر کے اُن لاتعداد سر فروشوں کے خون اور پسینے کی روشنائی سے رقم شدہ داستان کی یاد ہانی ہے جنہوں نے قومی جدوجہد کا بار اُٹھاکر کشمیریوں کی جستجوؤں، قربانیوں ، آرزؤں اور امنگوںکی لاج شدو مدسے آج تک مقبول بٹؒ کی تقلید میں رکھی ۔ یہ مبنی بر حق کہانی کشمیر کاز کی دیر سویر کامیابی کی ضمانت بھی ہے اور زینت بھی۔آیئے! ہم آج سب مل کراس کہانی کو پڑھیں، سنیں ، سنائیں ،اور دعا کریں کہ کشمیر کاز کی فتح مندی کاوہ سو رج جلدازجلد طلوع ہو جس کا خواب مرحوم محمد مقبول بٹ ؒ نے دیکھاتھا۔ 
 نوٹ : مضمو ن نگار جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ سے وابستہ ہیں۔
altafkhan111@gmail.com