تازہ ترین

چھوٹے چھوٹے کاموں سے بھی ا ﷲ خوش ہوتا ہے

توجہ طلب

11 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

فردوس عاصمی سری نگر
احقر نے ابتدائی تعلیم جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے تحت چلنے والے اسکول ’’درس گاہ اسلامی‘‘ تارہ بل، شہر خاص سری نگر میں پائی ہے ۔ان اسکولوں کو 1975 میں شیخ محمد عبدﷲ سرکار نے بہ حیثیت وزیراعلیٰ بند کرایا۔ پابندی کی وجہ یہ بتائی جا رہی تھی کہ صرف جماعت اسلامی نے ہی اندرا ۔عبدﷲ ایکارڈ کی مخالفت کی اور پھر شیخ محمد عبد ﷲ اور مرزا محمد افضل بیگ کے خلاف اسمبلی الیکشن بھی لڑا۔شیخ محمد عبدﷲ کے خلاف حلقہ ٔ  گاندربل سے محمد اشرف صحرائی اور حلقۂ انتخاب سرنل اسلام آباد سے مرزا محمد افضل بیگ کے خلاف حکیم غلام نبی نے الیکشن لڑا۔اگر چہ ان کو الیکشن جیتنے کی کوئی اُمید نہیں تھی لیکن تاریخ کشمیر میں وہ یہ بات درج کرانا چاہتے تھے کہ شیخ محمد عبدﷲ وطن میں غیر متنازعہ شخصیت نہیں ہیں۔گاندربل کے انتخابی معرکے میں حریف نیشنل کانفرنس کے حامیوں نے ڈوڈہ جموں کے رُکن ِجماعت سعدﷲ صاحب کا زدوکوب کیا کہ اُن کی ایک آنکھ پھوٹ دی گئ۔ بہر حال کشمیر میں عیسائی مشنری، مسلم تنظیموں اور کئی ہندوسنگھٹن کی جانب سے چلائے جارہےاسکولوں کی طرح درس گاہ اسلامی نام سے فلاح عام ٹرسٹ جموں وکشمیر کے جھنڈے تلےپرائیویٹ اسکول چل رہے تھے اور اب بھی کہیں کہیں چل رہے ہیں۔ ان اسکولوں میں مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔اُن دنوں پرائیویٹ اسکولوں کو اپنا نصاب بنانے میں کافی آزادی تھی۔ فلاح عام درس گاہوں کی ابتدائی کلاسوں میں ’’اخلاقی کہانیاں‘‘ نام کی کتابیں درساً پڑھائی جاتی تھیں۔انہی کتابوں میں مندرجہ بالا عنوان سے ایک کہانی تھی۔ کہانی یہ تھی  کہ ایک بچہ اپنے باپ کے ساتھ کہیں جا رہا تھا ، راستے میں ایک نل کھلا تھا اور پانی یونہی ضائع ہو رہا تھا. باپ نے بیٹے سے کہا کہ بیٹا جاؤ یہ نل بند کر کے آؤ۔بیٹے نے باپ کے حکم کی تعمیل میں نل بند کر دیا۔ اس کے بعد باپ نے بیٹے سے کہا: بیٹا !ان چھوٹے چھوٹے کاموں سے بھی اﷲ میاں خوش ہوتاہے ۔ بچپن سےیہ بات میرے ذہن میں ایسی رَچ بس گئی کہ جب بھی میں کہیںکوئی نل کھلا دیکھتا ہوں تو فوراً یہ جملہ یاد آتا ہے اور ہاتھ آپ سے آپ نل بند کر نے کی طرف بڑھتے ہیںبلکہ سچ پوچھئے تب تک چین نہیں آتا جب تک نل بند نہ کر دوں۔واقعی بچپن میں اخلاقی تعلیم و تربیت کا بہت اثر تاعمر رہتا ہے۔آج کل سرکاری عمارتوں، خود ہمارے گھروں ، سڑکوں اور گلی کوچوں میں کافی پانی ضائع ہوتا رہتا ہے اور ہمیں کوئی فکر نہیں رہتی کہ اللہ کی کسی نعمت کویونہی ضائع کرنا بھی ایک بڑا گناہ ہے ۔ ہمارے یہاں بالائی ٹنکی فل ہونے کے بعد بھی کافی دیر تک اس سے پانی بہہ کر نیچے گرتا رہتا ہے۔ اکثر دیکھا جاتاہے کہ نہ گھر میں ہم اس کا کوئی نوٹس لیتے ہیں ، نہ متعلقہ حکام سرکاری نل سے پانی رسنے کا کوئی نوٹس لیتے ہیں، نہ کسی کو یہ چٹی پڑی ہے کہ ایک دوسرے کو ناصحانہ انداز میں یہ کہنے کی زحمت گواراکرے کہ پانی کی ایک ایک بوند کی قدر کی جائے کیونکہ یہ ا ﷲ تعالیٰ کا عطاکردہ انمول تحفہ ہےجس پر ساری زندگی کا دارومدار ہے ۔