تازہ ترین

مزید خبریں

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک

گنجان شہروں میں اربن روپ وے سولیوشن

 گورنر نے میٹنگ کی صدارت کی ،مناسب علاقوں کی نشاندہی پر زور

جموں//گورنر ستیہ پال ملک نے راج بھون میں ڈبلیو اے پی سی او ایس لمٹیڈ کی ٹیم کے ساتھ سمارٹ موبلٹی اِن اربن اینڈ ہِلی ایریاز تھرو روپ ویز کی عمل آوری کے سلسلے میں منعقدہ میٹنگ کی صدارت کی۔ ڈبلیو اے پی سی او ایس لمٹیڈمرکزی وزارت آبی ذخائیر، ریور ڈیولپمنٹ اینڈ گنگا رِی جوینیشن ہے، جس کی سربراہی چیئرمین کم منیجنگ ڈائریکٹر آر کے گپتا کر رہے ہیں۔ ڈبلیو اے پی سی او ایس لمٹیڈ کی ٹیم نے اس موقعہ پر ایک پاور پوائنٹ پریذنٹیشن پیش کی اور ریاست جموں وکشمیر میں روپ وے سہولیات کو قائم کرنے کے فوائد پر تفصیلی بحث کی۔گورنر نے اس موقعہ پر کہا کہ سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ کے پیش نظر اور سڑک حادثات میں کمی لانے کی غرض سے روپ ویز کا قیام بطور اربن ٹرانسپورٹ سولیوشن کافی حد تک سود مند ثابت ہوگا۔گورنر نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں مزید میٹنگیں منعقد کریں تا کہ ایسے روپ ویز پروجیکٹوں کے قیام کے لئے ریاست میں مناسب علاقوں کی نشاندہی کی جاسکے۔میٹنگ کے دوران ڈبلیو اے پی سی او ایس حکام نے روپ ویز کے اغراض و مقاصد کے بارے میں گورنرکو  کم سے کم جگہ اور کم سے کم رقومات کی ضرورت وغیرہ کے بارے جانکاری دی۔انہوں نے کہا کہ ایک گھنٹے میں اس نظام کے تحت1200 لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے پروجیکٹ دیگر ریاستوں میں شروع کئے گئے ہیں جن میں ہماچل پردیش بھی شامل ہے۔پریذنٹیشن کے دوران گورنر کے پرنسپل سیکرٹری امنگ نرولا، پرنسپل سیکرٹری ٹرانسپورٹ ڈاکٹر اصغر حسن سامون، سیکرٹری سیاحت ریگزن سیمفل، سیکرٹری مکانات و شہری ترقی انل کمار گپتا، چیف( پی آر) ڈبلیو اے پی سی او سی ومل چندر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈبلیو اے پی سی او ایس پردیپ کمار اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
 
 

 پانی اور صفائی ستھرائی کے فقدان پر احتجاج 

جموں //جموں مسلم فرنٹ اور دکاندار یونین تالاب کھیٹکا ںنے پانی کی سپلائی اور صفائی ستھرائی کے فقدان پر انتظامیہ کیخلاف احتجاج کیا۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ دفاتر جموں میں منتقل ہونے کے بعد اس تالاب کھیٹکا ںمیں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا کر نا پڑرہاہے جبکہ شہر کے اس علا قہ میں صفائی ستھرائی کی جانب بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔مظاہرین نے کہاکہ محکمہ پی ایچ ای کی جانب سے دی جارہی سپلائی کی مقدار بہت کم ہو نے کے علا وہ علا قہ میں متعدد جگہوں پر پائپ لائین بھی خراب ہوئی جس کی وجہ سے سپلائی کے پانی میں گندگی مل جاتی ہے ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے جموں مسلم فرنٹ کے صدر قاضی عمران اور دکاندار یونین تالاب کھیٹکا ںکے صدر مبارز خان نے کہا کہ مذکورہ علا قہ میں پانی کی معقول سپلائی کے علا وہ صفائی ستھرائی کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کے علا قہ راہگیروں کو مسائل کا سامنا نہ کرنا نہ کر نا پڑے ۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مطاہرہ کریں ۔
 
 
 

روز گار کے سلسلہ میں بیداری پروگرام 

جموں //گور نمنٹ ڈگری کالج گاندھی نگر میں انتظامیہ کی جا نب سے روز گار کیلئے بیداری پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔اس بیداری پروگرام میں کالج پرنسپل کوشال سموترہ بطور مہمان خصوصی شامل ہوئے جبکہ ان کے علا وہ مختلف شعبوں کے سٹاف ممبران کے علا وہ مذکورہ کالج کے 100سے زائد طلباء نے شرکت کی ۔اس بیداری پروگرام کو منعقد کرنے کا اصل مقصد مختلف سرکاری محکموں میں نکلنے والی اسامیاں اور ان کیلئے اہلیت کے بارے میں طلباء کو جانکاری فراہم کرنا تھا ۔مذکورہ بیداری پروگرام کے دوران کیر ئیر کونسلنگ سیل کے اراکین نے طلباء کو روز گار کے سلسلہ میں تفصیلی جانکاری فراہم کی ۔
 
 

جموں مہا اُتسو میں ڈوگری فنکاروں کو نظرانداز کرنے کا الزام 

جموں //ینگ پنتھرز نے محکمہ سیاحت پر الزام عائد کر تے ہوئے کہاکہ جموں مہا اُتسو میں ڈوگری فنکاروں کو نظر اندازکیا گیا ہے ۔یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ینگ پنتھرس کے نائب ریاستی صدر پرتاب سنگھ جموال نے کہا کہ جموں میں 8سے 10فروری تک منعقد ہو نے والی مہا اُتسو میں مقامی نوجوان فنکاروں کر یکسر نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ اس میں پنجابی اور کشمیری فنکاروں کی شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی انتظامیہ نے ڈوگری زبان کے فنکاروں کو کبھی بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر نے کیلئے موقعہ فراہم نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے مقامی نوجوان فنکاروں کے حوصلے پست ہو ئے ہیں ۔ موصوف نے محکمہ سیاحت اور ریاستی انتظامیہ پر الزام عائد کر تے ہوئے کہاکہ وہ ڈوگری تمدن کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے ۔اس موقعہ پر یوگیش تلواڑ ،نکھل شرما ،سنیل شرما ،بنو پرتاب سنگھ ودیگران بھی موجود تھے ۔
 
 

وفا فائونڈیشن نے درماندہ مسافروں کیلئے لنگر کا اہتمام کیا 

جموں //وفا فائونڈیشن نے اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھتے ہوئے برفباری کی وجہ سے درماندہ ہوئے مسافروں کیلئے گزشتہ تین دنوں سے لنگر کا اہتمام کر رہی ہے ۔وفا فائونڈیشن کے چیئر مین پرویز وفا اور فائونڈیشن کے دیگر اراکین نے اس دوران جموں بس اسٹینڈ اور آس پاس کے علا قوں میں درماندہ ہو ئے مسافروں کے پاس جا کر ان کو درپیش مسائل کی جانکاری حاصل کی ۔اس موقعہ پرویز وفانے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دنوں میں ہوئی برفباری کی وجہ سے درماندہ ہو ئے مسافر کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے ان کی رہائش کیلئے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہا کہ ان درماندہ مسافروں کو ہوائی سروس فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی گھروں تک محفوظ پہنچ سکیں ۔موصوف نے کہاکہ وفا فائد نڈیشن درماندہ مسافروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کیلئے پوری طرح سے تیار ہے ۔انہوں نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی ہدایات پر کشمیر سے تعلق رکھنے والے GATEامتحان امید واروں کو ہو ئی سروس کے تحت جموں میں قائم سنٹروں میں منتقل کرنے کے قدم کی تعریف کی ۔
 
 

 سکھ لیڈرا ن و نو منتخب کونسلر کی حوصلہ افزائی 

جموں //جموں وکشمیر شری منی اکالی دل نے سکھ لیڈران اور نو منتخب سکھ کونسلروں کی حوصلہ افزائی کیلئے جموں کلب میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔اس تقریب میں دلیپ سنگھ (آئی اے ایس )بطور مہما ن خصوصی شامل ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ سرجیت سنگھ ودیگران بھی موجود تھے ۔اس موقعہ پر جموں وکشمیر شری منی اکالی دل کے ترجمان نے کہاکہ سکھ طبقہ کو ریاست کیساتھ ساتھ ملک میں یکسر نظر انداز کیا جاتا تھا لیکن ان سکھ لیڈران نے مذکورہ اقلیتی طبقہ کی ہر ایک میدان میں نمائندگی کی ۔انہوں نے مزیدکہاکہ مذکورہ پروگرام کو طبقہ کے لیڈران کی کارکر دگی اور قوم کی مناسب نمائندگی کیلئے ان کی حو صلہ افزائی کیلئے منعقد کیا گیا ہے ۔اس تقریب میں ایس چرنجیت سنگھ خالصہ ،بلدیو سنگھ کے علا وہ نو منتخب کونسلروں چرنجیت کور ،ایس سچا سنگھ ،ایس اندر سنگھ ،اندر جیت کو ،گر میت کور ،ڈاکٹر ید ویر سنگھ ودیگر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔
 
 

کانگریس لیڈران کی طرف سے قرارداد پاس 

انتخابی مہم کی کمان غلام نبی آزاد کو دینے کا مطالبہ 

جموں //ریاست جموں وکشمیر میں آئندہ انتخابات کی باگ ڈور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری و سابقہ ریاستی وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کو دینے کیلئے کانگریس پارٹی کی مختلف تنظیموں و لیڈران نے ایک قرار داد پاس کی ہے ۔پردیش کا نگریس کمیٹی کے لیڈران کے مطابق سابقہ ریاستی وزیر اعلیٰ کی قیادت میں پارٹی کی حکومت میں ریاست میں تعمیر و ترقی کے منفرد کام کئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی قیادت میں پارٹی ریاستی انتخابات میں ایک بار پھر کامیابی حاصل کر سکتی ہے ۔پارٹی کے سابقہ ممبران اسمبلی ،نائب صدور ،ودیگر تنظیموں میں شامل لیڈران نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر راہل گاندھی ان کی تجویز کو مان کر پارٹی سنیئر لیڈر کو ریاست میں آئندہ انتخابات کی کمان سنبھالنے کیلئے نامزد کر ینگے ۔ان لیڈران نے کہا ہے کہ ریاست میں پارٹی غلام نبی آزاد کی سرپرستی میں تینوں خطوں میں کامیابی حاصل کر کے فرقہ پرستوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو گی ۔قرار داد پاس کرنے والوں میں مدن لعل شرما ،پیر زادہ سعید ،شام لعل شرما ،جی ایم سروڑی ،جی این مونگا ،حاجی عبدالرشید ،محمد امین بٹ ،عثمان مجید،چوہدری اکرم ،بلبیر سنگھ ،نریش گپتا ،وقار رسول ،منوہر لعل ،محمد انور بٹ ،حاجی نثار علی ،شام لعل بھگت ،سابقہ ایم ایل سی جہانگیر میر ،فقیر ناتھ ودیگران شامل ہیں ۔
 
 
 

انسانی بنیادوں پردرماندہ مسافروں کو سرینگر منتقل کیاجائے:شیعہ فیڈریشن

جموں//شیعہ فیڈریشن نے جموں سرینگر شاہراہ بند رہنے کی وجہ سے درماندہ پڑے مسافروں کی حالت زار پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کو سرینگر منتقل کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ یہاں جاری ایک پریس بیان میں فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے کہاکہ گورنر انتظامیہ کو انسانی بنیادوں پر ان درماندہ مسافروں کو جموں سے سرینگر منتقل کرناچاہئے تھاتاہم ایسا نہیں کیاگیا اور اس کے نتیجہ میں کوئی اپنے زیور فروخت کرنے پر مجبو ر ہواہے تو کوئی محنت مزدوری کررہاہے ۔انہوںنے کہاکہ درماندہ مسافروں کیلئے ہوٹلوں میں کمرہ لیکر ٹھہرنا اور کھانے وغیرہ کا انتظام کرنا مشکل ہوگیاہے اور ان کی زندگی پریشانی سے دوچا رہے ۔ عاشق خان نے بتایاکہ ایک درماندہ مسافر کے کسی رشتہ دار کی موت ہوگئی لیکن وہ تمام تر کوششوں کے باوجود کشمیر نہیں جاسکا اور نہ ہی انتظامیہ کی طرف سے اس کی کوئی مدد کی گئی ۔ ان کاکہناتھاکہ ماضی میں بھی سڑک بند ہوتی رہی لیکن ایسی صورتحال کبھی دیکھنے کو نہیں ملی کہ مسافروں کو ان کے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاجائے بلکہ فوجی ہیلی کاپٹروں اور ہوائی سروس کے ذریعہ انہیں منتقل کیاجاتارہا۔انہوں نے کہاکہ درماندہ مسافروں کو فوری طور پر انسانی بنیادوں پر سرینگر منتقل کرنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ وہ مزید پریشانی و مصائب و آلام کاشکار نہ ہوں ۔
 
 
 

بچوں کیلئے طبی کیمپ و مصوری مقابلے کا اہتمام 

جموں //31ویں پولیس پبلک میلے کے سلسلہ میں واوئز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے بچوں کیلئے طبی کیمپ کے ساتھ ساتھ مصوری مقابلے کا اہتمام کیا ۔گلشن گروانڈ میں منعقدہ اس مصوری مقابلے میں ایسوسی ایشن کی چیئر پرسن ڈاکٹر ربندر کور ودیگرممبران بھی موجود تھیں ۔اس طبی کیمپ کے دوران ڈاکٹروں کی ایک ماہر ٹیم نے بچوں کی صحت کی جانچ کی جبکہ مصوری مقابلے میں پولیس پلک سکول میراں صاحب،شکشا نکیتن ،گور نمنٹ گرلز ہائی سکول گاندھی نگر کے 170طلباء نے شرکت کی ۔ان طلباء نے مختلف عنوانوں کے زیر تحت اپنی صلا حیتوں کا مظاہرہ کیا ۔
 
 
 

ہندو پاک عوام دوست پالیسیاں اپنائیں :گوپال سوامی پر تھاسراتھی 

یوگیش سگوترہ 

جموں //سابقہ سفیر اور سنٹرل یونیورسٹی آف جموں کے وائس چانسلر گوپال سوامی پرتھا سراتھی نے کہا ہے کہ ہندو پاک کو دوستانہ تعلقات کیلئے عوام دوست پالیسیاں اپنا نی چاہیے ۔ہندو پاک تعلقات پر جموں یونیورسٹی میں منعقد ہ ایک سیمینار میں انہوں نے کہاکہ یہ بات تکلیف دہ ہے کہ جب علاج معالجے کے منتظر پاکستانی بچوں کوہندوستانی ویزے کیلئے چھ ہفتوں تک انتظار کر نا پڑتا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ جبکہ کچھ پاکستانی فنکار یہاں آ کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ہندوستان کو ان سے کوئی مشکل نہیں ہے ۔جنوبی ایشیاء کے مسائل ،سند طاس معاہدہ اور ہندو پاک تعلقات پر منعقدہ سیمینار میں بولتے ہوئے موصوف نے کہا کہ اگر پاکستانی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اس سے معلو م ہو تا ہے کہ کشمیر دونوں پڑوسی ممالک میں کوئی معاملہ ہی نہیں ہے جبکہ پاکستانی ایجنسیاں دونوں ممالک میں امن کی فضا ء کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے پڑوسی ملک کیساتھ بہتر تعلقات کی خواہاں ہے جبکہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو اس کے مطابق تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔موصوف نے کہاکہ ملک کے سابقہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے مجھے زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو ویزا دینے کا حکم دیا تھا اور اس کے تحت ایک برس میں 3سو سے زائد ویزے جاری کئے گئے تھے ۔کرتار پور راہداری کھولنے کے قدم کو تاریخی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مذکورہ راہداری کوراتوں رات نہیں کھولا گیا اور پاکستان پر پنجا ب او ر کشمیر میں حالت خراب کر نے کے سلسلہ میں دبائو تھا ۔موصوف نے کہاکہ SAARCمیں پاکستان کے منفی رول کے بعد ہندوستان نے دیگر پڑوسی ممالک کیساتھ بہترین تعلقات قائم کئے ہیں ۔اپنے خطاب میںسابقہ لفٹنٹ جنرل سید عطا حسنین نے کہاکہ پاکستان کیساتھ روایتی جنگ نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی یہ پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ پاکستان کے پاس ہندو ستان کے مقابلے میں آدھی فوج بھی نہیں ہے جبکہ پاکستان صرف کشمیر میں پراکسی وار سے ہی ہندوستان کر کمزور کرنا چاہتا ہے ۔انڈین کونسل کے ڈائریکٹر جنرل اور ٹی سی اے راگوان نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں رکاوٹ نہیں ہے جبکہ کرتار پور راہداری ایک بہترین سفارتی پہل ہے ۔انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن نے جنوبی ایشیاء بالخصوص پاکستان پر اپنا اثر چھوڑا ہے ۔
 
 
 

پیر پنچال اور چناب کو ڈویژن کا درجہ دیا جائے :پی ڈی پی 

بویک ماتھر 

جموں //پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے گورنر انتظامیہ کی جانب سے لداخ کو ڈویژ ن کا درجہ دینے کے فیصلے کی تعریف کر تے ہوئے کہاکہ انتظامیہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر ے اور خطہ پیر پنچال و چناب کو بھی اس زمرے میں شامل کر نے کیلئے اقدامات اٹھا ئے ۔پی ڈی پی کے نائب صدر چوہدری عبدالحمید نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنر انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ سرحدی ضلع راجوری و پونچھ اور چناب خطہ کو بھی صوبہ کا درج دے ۔انہوں نے کہاکہ ان دونوں خطوں کی عوام زیادہ تر پہاڑی علا قوں میں رہائش پذیر ہیں اور ان خطوں کے کئی علا قے موسم سرما میں ضلع ہیڈ کواٹروں سے کٹ کر رہ جاتی ہیں جبکہ عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم رہتے ہیں تاہم کسی بھی کام کیلئے ان دور دراز علا قوں کی عوام کو جموں کا رخ کر نا پڑتا ہے ۔انہوں نے ریاستی گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے حالیہ فیصلے جس کے تحت لیہہ کو نئے صوبہ کا ہیڈ کوارٹر بنایا گیا ہے ، پر نظر ثانی کر ے۔انہوں نے کہاکہ اگر ریاستی گورنر انتظامیہ خطہ چناب اور پیر پنچال کو صوبہ کا درجہ نہیں دیتی تو اس صورت میں پی ڈی پی ایک بڑا احتجاج شروع کر ے گی ۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے سابقہ ایم ایل سی ماسٹر تصدق حسین نے کہا کہ ہندو پاک کی تقسیم کے بعد سے ابھی تک خطہ پیر پنچال کی عوام صوبہ کی مانگ کر رہی ہے لیکن انتظامیہ ان کی مانگ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے 
 
  
 
 

جموں میں صحت و صفائی سے متعلق ورکشاپ کا انعقاد

جموں//دیہی علاقوں میں صحت و صفائی کو یقینی بنانے کے لئے ڈائریکٹوریٹ آف رورل سینی ٹیشن نے سالڈ لیکویڈ ریسورس مینجمنٹ( ایس ایل آر ایم) اور منسٹوریل ہائجن ممیجمنٹ( ایم ایچ ایم) پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ کا افتتاح دیہی ترقی پر پنچائتی راج کی سیکرٹری شیتل نندہ نے کیا۔ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد ریاست میں خواتین کو اپنی صحت و صفائی یقینی بنانے کے لئے با اختیار بنانا ہے۔ڈپٹی کمشنر جموں رمیش کمار، ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجاز اسد، ڈپٹی کمشنر اودہمپور رویندر کمار، ڈپٹی کمشنر ریاسی ڈاکٹر ساگر دتاترے ڈائفوڈ، ڈائریکٹر رول سینی ٹیشن اِندو کنول چِب، جموں صوبہ کے ضلع پنچائت افسران، ایگزیکٹو انجنیئر صاحبان، ضلع سوچھ بھارت کے نمائندوں نے ورکشاپ میں حصہ لیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیتل نندہ نے کہا کہ سالڈ لیکویڈ ریسورس منیجمنٹ سماج میں رہنے والی خواتین کے لئے ایک اہم جُز ہے اور اس مقصد کے لئے خسوصی توجہ دینے کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک محکمہ جو ایس ایل آر ایم کے ساتھ جڑا ہو، کو چاہئے کہ وہ زمینی سطح پر اس مقصد کے لئے تمام تر کوششیں انجام دے۔انہوں نے اس مشن کا کامیاب بنانے کے لئے سرپنچوں اور پنچوں کو شامل کرنے پر بھی زور دیا۔ممبر گرین انڈیا ٹربیونل سی سری نواسن ایس ایل آر ایم پروگرام کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا جس کی بدولت مقامی آبادی کے لئے روز گار کے مواقعے معرض وجود میں لائے جاسکتے ہیں اور پانی کی کثافت کو روکا جاسکتا ہے۔اس موقعہ پر فاؤنڈر’’ رید اِز دِی گرین‘‘ ڈین ڈی مینزز جو ایم ایچ ایم کے ماہر ہیں ،نے سکولوں میں بچیوں کوایم ایچ ایم کی جانکاری دینے پر زور دیا۔
 
 
 

برفانی تودے میں مرنیوالوں کے لواحقین

حکومت کا5 لاکھ روپے ایکس گریشیا ریلیف کا اعلان

جموں//گورنر انتظامیہ کی جانب سے حالیہ برف باری کے دوران ریاست بھر میں مختلف مقامات پر برفانی تودے اور پتھر گر آنے سے جانبحق ہوئے افراد کے لواحقین کے حق میں پانچ لاکھ روپے فی کس کے ایکس گریشیا ریلیف کا اعلان کیا۔قاضی گنڈ علاقہ کے جواہر ٹنل میں8 افراد بشمول6 پولیس اہلکار/ فائیر اینڈ ایمرجنسی عملہ اور دو عام شہری شامل تھے، جو برفانی تودے گر آنے کہ وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ اس حادثہ میں تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جانبحق ہونے والوں میںکانسٹبل ارشد گُل ساکنہ تُلی نوپورہ کولگام، ہیڈ کانسٹبل مظفر احمد ساکنہ مُنی وارڈ اننت ناگ، کانسٹبل فردوس احمد بٹ( ڈرائیور فائراینڈ ایمرجنسی سروسز) ساکنہ وائی کے پورہ قاضی گنڈ، سلیکشن گریڈ کانسٹبل فیاض احمد پرے( فائیر مین) فائیر اینڈ ایمرجنسی سروسز ساکنہ چندیاں قاضی گنڈ، سلیکشن گریڈ کانسٹبل شبنم یوسف گنائی ساکنہ ہِلر کوکر ناگ، سلیکشن گریڈ کانسٹبل پرویز احمد ساکنہ آرم پورہ گاندر بل، وکرم سنگھ ولد کلویندر سنگھ ساکنہ سیلا تالاب اودہمپور اور بلجیت سنگھ ولد ہریش سنگھ ساکنہ ڈیرہ بابا نانک گردواس پور پنجاب شامل ہیں۔جواہر ٹنل علاقہ سے برفانی تودوں کی زد میں آئے پولیس اہلکاروں کو علاج و معالجہ کی سہولیات دستیاب کی جارہی ہیں اُن میں ایس پی او غلام نبی میر ساکنہ کولگام، ایس پی او محمد خلیل ساکنہ امو ویری ناگ اور سلیکشن گریڈ کانسٹبل محمد مقبول ساکنہ بانڈی پورہ شامل ہیں۔کوکر ناگ کے سُنڈ براری علاقہ میں برفانی تودے کی زد میں آنے سے بشیر احمد قریشی ولد نور محمد قریشی اور اس کی اہلیہ روشن جہاں جانبحق ہوگئے۔ضلع بارہ مولہ کے چیرہار علاقہ میں اسی طرح کے واقعہ میں عرفان احمد خان ولد غلام حسن خان جانبحق ہوگیا۔جموں صوبے میں سرینگر ۔ جموں قومی شاہراہ پر پتھروں کے گر آنے کی وجہ سے دو افراد جانبحق ہوئے ۔ اس کے علاوہ اس حادثہ میں دیگر دوافراد زخمی بھی ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں کانگڑہ ہماچل پردیش کے پرمود منکوٹیہ اور مغربی بنگال کے سنجیت لاکرہ شامل تھے۔بُبیل کشتواڑ کے کرن سنگھ ولد اشوک سنگھ جو برفانی طوفان میں پھنسے ہوئے تھے، کو جمعہ کے روز برف سے نکالا گیا۔ چنکھا ارناس کے پرویز احمد ولد فاروق احمد پتھروں کے گر آنے کے ایک حادثہ میں ہلاک ہوگئے۔حکومت نے کشمیر اور جموں کے صوبائی کمشنروں سے کہا ہے کہ وہ زخمی افراد کو ایس ڈی آر ایف قواعد کے تحت ایکس گریشیا امداد فراہم کریں۔ان حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے زیاں پر گورنر نے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بچاؤ ٹیموں اور مقامی رضا کاروں کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے خراب موسمی حالات کے باوجود برف میں پھنسے لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کارائیوں کو انجام دیا۔انہوں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور ان واقعات میں زخمی ہوئے افراد کے علاج و معالجہ کے لئے محکمہ صحت کو خصوصی ہدایات جاری کیں۔
 
 
 

آبی پناہ گاہوں کو سیاحتی ترقی دینے کی ضرورت:کمار

گھرانہ ویٹ لینڈ کیلئے اراضی کے حصول میں تیزی لانے پر زور

جموں//گورنر کے مشیر کے، وجے کمار نے ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آر ایس پورہ میں گھرانہ آبی پناہ گاہ ریزرو کے لئے حصول اراضی کے عمل میں تیزی لائیں۔مشیر موصوف نے یہ ہدایات محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف پروٹیکشن محکموں کے افسروں کے ساتھ اس آبی پناہ گاہ کے لئے حصول اراضی کے معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے دوران دیں۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری جنگلات منوج کمار دویدی، پی سی سی ایف جے اینڈ کے سریش چُگ، ڈویثرنل کمشنر جموں سنجیو ورما، چیف وائلڈ لائف وارڈن جے اینڈ کے سریش گپتا، ڈپٹی کمشنر جموں رمیش کمار، چیف کنزرویٹر آف فارسٹس جموں سمیر بھارتی، ریجنل وائلڈ لائف وارڈن جموں طاہر شال اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔مشیر موصوف کو اس موقعہ پر ضلع انتظامیہ کی طرف سے اس حوالے سے کئے جارہے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی گئی۔ میٹنگ میں چیف لائڈ لائف وارڈن نے گھرانہ ویٹ لینڈ ریزرو سے متعلق ایک پریذنٹیشن دی۔انہیں بتایا گیا کہ اس آبی پناہ گاہ کو آئی بی اے قرار دیا گیا ہے۔اس موقعہ پر مزید بتایا گیا کہ محکمہ وائلڈ لائف نے اس پناہ گاہ کے تحفظ اورنظامت کے لئے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ذریعے سے ایک پانچسالہ منصوبہ تیار کیا ہے جس کی بدولت اسے تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ اہم سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے میں بھی مدد ملے گی۔گھرانہ آبی پناہ گاہ کو1981 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا اور اس میں پرندوں کی150 اقسام پائی جاتی ہیں اور موسم سرما کے دوران دُنیا کے بیشتر حصوں سے آنے والے پرندے اس اپنی پناہ گاہ بناتے ہیں۔
 
 
 

گورنر کے مشیروں نے کٹھوعہ میں لوگوں کے مسائل سُنے

کٹھوعہ//گورنر انتظامیہ کی طرف سے شروع کئے گئے عوامی رابطہ پروگراموں کے سلسلے کے تحت گورنر کے مشیروں کے۔ وجے کمار ، کیول کمار شرما اور کے سکندن نے  عوامی دربار کے دوران متعدد وفود اور لوگوں کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔اس دوران15 وفود اور50 افراد نے مشیروں کے ساتھ ملاقات کی اور اپنے مسائل حل کرنے میں ان کی مداخلت طلب کی۔سرحد پر رہائش پذیر لوگوں کے وفد نے انہیں درپیش معاملات مشیروں کی نوٹس میں لائے جن میںسرحدی علاقہ کی تار بندی، بجلی کے ڈھانچے کو بڑھاوا دینا اور ٹیوب ویلوں کی بحالی شامل ہے۔اس کے علاوہ انفرادی طور پر بھی کئی لوگوں نے بھی اپنے معاملات کو اُجاگر کیا جن کا تعلق روز گار، کسان فصل بیمہ یوجنا، تعلیم، طبی نگہداشت، بجلی، پی ایچ ای، پی ڈبلیو ڈی اور کئی دیگر شعبوں سے تھا۔کٹھوعہ کے ایک وفد نے بھی مشیروں کے ساتھ ملاقات کر کے لکھن پور علاقہ میں بلا خلل بجلی کی دستیابی کا مطالبہ کیا۔اس موقعہ پر سینٹرل آرمڈ فورسز کے ریٹائرڈ اہلکاروں کے ایک وفد اور سیمنٹ ٹریڈرس ایسوسی ایشن کے ڈیلی گیشن نے بھی مشیروں کے ساتھ ملاقات کی اور اپنے مسائل اُن کی نوٹس میں لائے۔مشیروں نے یہ مسائل غور سے سُنے اور یقین دلایا کہ ان مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کئی معاملات کو موقعہ پر ہی حل کرنے کی ہدایات دیں۔کے کے شرما نے کٹھوعہ علاقہ میں بجلی کے منظر نامے کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔کے سکندن نے چیف ایگری کلچر افسر کو ہدایت دی کہ وہ ضلع میں پی ایم کسان سکیم کی عمل آوری کے لئے تمام لوازمات جلد از جلد پورا کریں۔کے وجے کمار نے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ہدایت دی کہ وہ کٹھوعہ میں کرکٹ سٹیڈیم کے لئے اراضی کی نشاندہی کریں۔اس سے قبل مشیروں نے لکھن پور کا دورہ کر کے مختلف محکموں کے کام کاج کا جائیزہ لیا۔ڈی سی ایکسائز لکھن پور نے مشیروں کو ٹول پوسٹ کو کیش لیس بنانے کے سلسلے میں کئے جارہے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی۔سیکرٹری یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس سرمد حفیظ، ایس ایس پی سری دھر پاٹل، اے ڈی سی، اے سی آر، انجنئیرز، سی اے ایچ او، سی اے او، ڈی ایس ایچ او اور دیگر ضلع افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔
 
 
 

ججوں کیلئے کنبوں کے عدالتی معاملات سے متعلق تربیتی ورکشاپ کا آغاز

جموں//جموں اینڈ کشمیر سٹیٹ جوڈیشل اکاڈمی کی طرف سے سٹیٹ جوڈیشل اکاڈمی ہائی کورٹ کمپلیکس جموں میںججوں کے لئے فیملی کورٹس معاملات سے متعلق دو روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ریاست کے ڈسٹرکٹس ججز اور سنیئر سب ججز نے اس پروگرام میں شرکت کی۔چیف جسٹس جسٹس گیتا متل نے اپنے افتتاحی خطبے میں کہا کہ فیملی کورٹ معاملات سے متعلق تمام متعلقین کو روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس طرح کے پروگرام ایک ساز گار ماحول قائم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔جسٹس گیتا متل نے کہا کہ کنبوں میں روا داری کی بدولت اپنائیت کے جذبے کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور تمام رشتوں میں تحفظ کے احساس کو تقویت ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کنبے کے اندر یا اس کے باہر پیدا ہونے والے تضادات سے پورے کنبے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حل نہ ہونے والے تضادات سے شادی کے رشتے کو نقصان پہنچتا ہے اور پورا کنبہ متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیملی عدالتیں جلد شروع ہوں گی تا کہ کنبوں سے جڑے معاملات کو حساس طریقے پر ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاسکے۔جسٹس راجیش بندل نے تربیتی پروگرام کے دوران شرکاء کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ججوں سے کہا کہ کنبوں کے معاملات سے نمٹنے کے دوران اختراعی لائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہئے۔انہوں نے شرکاء کو صلاح دی کہ وہ روز مرہ کے تجربات سے ترغیب حاصل کر کے عدالتوں میں آنے والے فیملی تضادات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرائیں۔جسٹس تاشی ربستن نے اس سے پہلے اپنے تعارفی خطبہ میں کہا کہ ریاست میں فیملی کورٹ ایکٹ2018  کے وجود میں آنے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا تربیتی پروگرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں کنبوں کے معاملات سے نمٹنے کے لئے ایک قانون قائم کرنے اور خصوصی عدالتیں وجود میں لانے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ کام کیا۔ انہوں نے خصوصی عدالتوں کے ذریعے شادیوںا ور حادثاتی معاملات حل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی۔ریسورس پرسن جسٹس منجو گوئل جج( ریٹائرڈ) اور جسٹس روشن دلوی جج ( ریٹائرڈ) نے فیملی عدالتوں کے رول اور دیگر امور کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی عدالتوں میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ججوں کو جنسی نقطہ نظر کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔انہوں نے ان عدالتوں کے کام کاج اور ذمہ داریوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔یہ پروگرام دوسرے دن بھی جاری رہے گا جس میں مہا راشٹر کے فیملی کورٹس میں پرنسپل ججز ارونا پرسوانی اور سواتی چوہان ، فیملی کورٹ کے کام کاج اور بچوں کے حقوق سے جڑے معاملات کو اُجاگر کریں گے۔