تازہ ترین

مزید خبریں

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک

اسلام ایثار اورقربانی کا درس دیتا ہے:مولانا قاسمی

موجودہ موسمی حالات میں متاثرین کی مدد کریں

سرینگر//جمعیت علماء اہل السنت والجماعت نے برفانی تودوںکی زد میںہوئی ہلاکتوں پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے امت مسلمہ سے سے اپیل کی کہ اسلام ایثار اور ہمدردی کا درس دیاتا ہے اسلئے ہمیں اپنے متاثرین کی مدد کیلئے بھرپور تعاون کرلینا چاہئے۔جمعیت کے سکریٹری اورمہتمم دارالعلوم شیری بارہمولہ مولانا شیخ عبدالقیوم قاسمی نے کہا کہ خیر خواہی اور انسانیت نوازی کے سلسلے میں بے شمار احادیث وارد ہوئی ہیں اور اسلام نے روز اول سے درد دل کا سبق دیا ہے ۔مولانا قاسمی نے کہا کہ موسم سرما میں اکثر وبیشتر اہلیان کشمیر کو ہر جگہ بالخصوص جموں سرینگر شاہراہ پر دقتوں اور پریشانیوںکا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی کئی روز تک روڑ بند رہنے کی وجہ سے مسافراور سیاح مصائب اور آلام سے دوچار ہوتے ہیں ایسے حالات میں ہر فرد بشر کو انسانیت کی بنیاد پر سامنے آکر ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہئے۔ 
 
 
 

عبدالاحد پرہ سنٹرل جیل منتقل،لیگ کی مذمت

سرینگر//مسلم لیگ نے قائمقام چیئرمین عبدالاحد پرہ کو کنز رٹنگمرگ تھانے سے سینٹرل جیل سرینگرمنتقل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی عناد قرار دیا ہے ۔ لیگ کے سیکریٹری جنرل محمد رفیق گنائی نے ایک بیان میں کہا کہ عبدالاحد پرہ تعزیت پرسی کیلئے بارہمولہ جارہے تھے مگر خانپورہ کے نزدیک پولیس کی ایک جمعیت نے انہیں گرفتار کرلیا اورکنزر ٹنگمرگ تھانے میں دو ہفتے تک لاک اپ میں مقید رکھا جہاں انہیں شدید ذہنی و روحانی تکالیف میں مبتلا کیا گیا حتیٰ کہ انہیں سردی سے خود کو بچانے کے لئے ایک کمبل بھی مہیا نہیں کی گئی جو سراسر غیرانسانی سلوک ہے ۔انہوں نے اقوام متحدہ،ایشیاء واچ، ریڈ کراس اور دوسری بشری حقوق کی نمائندہ تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ پبلک سیفٹی ایکٹ،افسپا اور دوسرے کالے قوانین کو ختم کرنے کے لئے سنجیدہ اور فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ ان کی وجہ سے ہزاروں معصوم انسانوں کی زندگیاں اجیرن نہ بن جائیں ۔
 
 
 

جموں میں درماندہ مسافروں کی حالت پریشان کن:یوتھ کانگریس

سرینگر//جموں سرینگر شاہراہ مسلسل بند رہنے کے نتیجے میں درماندہ مسافروں کی حالت زار پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کے ریاستی نائب صدر شیخ عامر رسول نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ درماندہ مسافروں کو بذریعہ طیارہ سرینگر لانے کے اقدامات کریں اور جموں میں اْن کے قیام و طعام اور خصوصاً طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ جن میں خواتین ،بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں ،بیمار ہیں اور کچھ طلباء کے پاس کھانے پینے کیلئے پیسے نہیں ہیں کیونکہ ان میں اکثر غریب ہیں اور وہ سڑکوں اور بس اسٹینڈ پر بھٹک رہے ہیں اورحکومت کی طرف سے کسی نے ان کی خبرگیری کی نہیں کی ہے۔
 
 
 

ڈی جی فائیر سروسز کا 2اہلکاروںکے انتقال پر اظہارافسوس

جموں//جواہر ٹنل میں برفانی تودے گر آنے کی وجہ سے فائیر اینڈ ایمرجنسی سروسز جے اینڈ کے دو فائر فائٹرز فیاض احمد پرے ، ایس جی فائیر مین1571 اور فردوس احمد ڈرائیور181 اپنے فرائض منصبی انجام دیتے ہوئے لقمہ اجل بن گئے۔ڈائریکٹر جنرل فائیر اینڈ ایمرجنسی سروسز جے اینڈ کے وی کے سنگھ نے غمزدہ کنبوں کے ساتھ گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مختلف یونٹوں سے تعلق رکھنے والی بچاؤ ٹیموں کی کاروائی کی بھی سراہنا کی۔
 
 

بڈگام میں برف ہٹانے کی مشینیں کم:پی ڈی پی یوتھ صدر

 سرینگر//پی ڈی پی یوتھ ونگ کے صوبائی صدر انجینئرنذیراحمد یتو نے کہا ہے کہ بڈگا م ضلع میں برف ہٹانے کے مشینوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے ضلع کے کئی علاقوں خاص طور سے چرارشریف میں حکام نے برف ہٹانے کاکام شروع نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ بڈگام ضلع میں برف ہٹانے کی صرف13مشینیں ہیں جبکہ ضلع میں برف ہٹانے کیلئے کم سے کم 30مشینیں درکارہیں۔انہوں نے کہا کہ جے سی بی اور ٹریکٹروں سے برف ہٹانے سے سڑکوں پر بچھا تار کول تباہ ہورہا ہے جس سے احتراز کیاجانا چاہئے۔انجینئریتو نے صوبائی کمشنر اورضلع کمشنربڈگام سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ کوحل کرنے کیلئے ذاتی طورمداخلت کریں۔ 
 
 
 

لداخ کو صوبے کا درجہ،باریکیاں نظر انداز

دونوں اضلاع کی آبادی تقسیم ہوگی:سی پی آئی ایم

سرینگر//لداخ کو الگ صوبے کادرجہ دیئے جانے کے فیصلے پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے سی پی آئی ایم نے کہا کہ گورنر انتظامیہ نے یہ فیصلہ جلد بازی میں لیا اور خطے کی باریکیوں کو نظرانداز کیا گیا جس سے کہ ان دونوں اضلاع کی آبادی تقسیم ہوگی ۔ایک بیان میں سی پی آئی ایم نے کہاکہ ریاست جموں کشمیرتنوع کے اعتبار سے مالامال ہے اور فرقہ وارانہ بھائی چارہ اس کی طاقت ہے ۔ضرورت ہے کہ اس تنوع میں یکجہتی کو مضبوط بنایا جائے ۔ ۔بیان میں کہا گیا کہ بہتر انتظام کیلئے انتظامیہ کو غیر مرکوزبنانااور عوام کو اختیارات تفویض کرکے بااختیار بنانا ضروری ہے ۔اس پس منظر میں خطوں  اور ذیلی خطوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے ایک بااعتبار نظام کی ترتیب لازمی ہے،لیکن متواتر حکومتوں نے بدقسمتی سے اس مسئلہ کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینے میں لاپرواہی کی۔لداخ خطے کے لوگوں کا  علحیدہ انتظامی /ریونیوصوبے قائم کرنے کا لداخ اور کرگل اضلاع کے لوگوں کا جائزمطالبہ تھااور اس پر اتفاق رائے پیداکیاجاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیاگیا ۔مشاورت سے دونوں اضلاع کے لوگوں میں غلط فہمیوں اورخدشات کے ازالے میں مددملتی۔ جموں کشمیرقانون سازکونسل کے چیئرمین نے حال ہی میں لداخ پہاڑی ترقیاتی کونسل لہہ وکرگل کے نمائندوں کی ایک میٹنگ طلب کی تھی جس میں سابق چیف ایگزیکٹیوافسراں ،تما م سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے،تاکہ لداخ کو صوبے کادرجہ دیئے جانے کے معاملے پر غورکیاگیا ۔اس میٹنگ میں شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت کی طرف سے معرض وجود میں لائے جانے والے صوبے کا ڈھانچہ اورعملہ مساوی طور دونوں اضلاع کے لوگوں کی سہولیت کے مطابق لہہ اور کرگل میں تقسیم ہوگا۔انہوں نے حکومت کو یاداشت بھی پیش کی تھی تاکہ صوبے کا درجہ دیئے جانے کے بعد لہہ اور کرگل میں کوئی ناچاقی پیدا نہ ہو۔ تاہم گورنر کی قیادت میں ریاستی انتظامی کونسل نے ایسی باریکیوں کو نظر انداز کیا اور ہمیں خدشہ ہے کہ اس سے دونوں اضلاع کی آبادی تقسیم ہوگی ۔باریکیوں کو نظرانداز کرنے سے دونوں اضلاع کے لوگوں میںاتحاد  کے بجائے بداعتمادی پیداہوگی۔اس سلسلے میںگردشی ہیڈ کوارٹر کامطالبہ قابل غور ہے ۔ انتخابات جبکہ قریب ہیں ایسے فیصلوں کو طرفداری سے تعبیر کیاجاسکتا ہے۔گورنر کو یہ فیصلہ لینے میں کیاجلدی تھی اور یہ فیصلہ منتخب ریاستی اسمبلی جہاں ایک بااعتبار میکنزم تشکیل دیاجاتا ،پر کیوں نہیں چھوڑا گیا۔