تازہ ترین

مقبول بٹ اورافضل گورو تحریک کے محسن،مزاحمتی اور عسکری جماعتوں کا برسیوں پر خراج عقیدت

قربانیاں منفرد :میرواعظ / تاریخ کا ان مٹ باب:یاسین ملک

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//حریت (ع)، لبریشن فرنٹ،فریڈم پارٹی،انجمن شرعی شیعیا ن ،پیپلز لیگ،محاذآزادی، پیپلز فریڈم لیگ،تحریک کشمیر،سالویشن مومنٹ، مسلم خواتین مرکز،تحریک استقلال اور ینگ مینز لیگ نے محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو اُن کی برسیوں پر خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں سپوتوں کی قربانیاں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔مزاحمتی قائدین نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ تہاڑ جیل میں دفن دونوں حریت پسندوں کے باقیات کشمیری قوم کو واپس کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ حریت (ع) کے محبوس چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے رواں تحریک آزادی کے ہر اول دستے کے قائد اور سرکردہ رہنما محمد مقبول بٹ کو انکی35ویں اور کشمیر کے مایہ ناز سپوت محمد افضل گورو کو انکی چھٹی برسی پر خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے حق و انصاف کی جدوجہد میں انکی قربانیوں کو ناقابل فراموش قرار دیا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ حق و انصاف کے حصول کیلئے دی جانے والی قربانیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ا س دیرینہ تنازعہ کو اس کے تاریخی پس منظر میں حل کرنے کیلئے پر امن جدوجہد مسئلہ کے حل تک جاری و ساری رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے جائز حق کے حصول کی خاطر ایک طویل جدوجہد میں اب تک ہزاروں نفوس کی قربانیاں پیش کرچکے ہیں اور محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی قربانیاں یقیناًایک منفرد حیثیت کی حامل ہیں۔میرواعظ نے کہاکہ قربانیوں کو صرف اْسی وقت ثمر آور بنایا جاسکتا ہے جب پوری قوم لگن اور یکسوئی کے ساتھ مشن کے تئیں بھر پور وابستگی اور غیر متزلزل استقامت کا مظاہرے کرے۔ میرواعظ نے  محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کے باقیات قوم کو واپس لوٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انصاف پسند ممالک اور اداروں پر زور دیاکہ وہ بھارت کے طرز عمل کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ان کے باقیات کشمیری عوام کو لوٹانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔دریں اثناء حریت ترجمان نے  میرواعظ عمر فاروق، لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک، سینئر حریت لیڈران مختار احمد وازہ، انجینئر ہلال احمد وار اوردیگر حریت قائدین و کارکنان کی تھانہ و خانہ نظر بندی کی مذمت کی ہے۔ لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک نے  محمد افضل گورو کوانکی برسی پر خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھانسیاں، عمر قید جیسی سزائیں،کرفیو، گرفتاریاں،پولیس اور فوجی دھمکیاں وغیرہ کسی بھی صورت میں کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو شکست نہیں دے سکتے اور نہ ہی ان اقدامات سے کشمیریوں کی آرزوئے آزادی کم کی جاسکتی ہے۔ محمد افضل گورو کی تختہ دار پرہلاکت کو بھارتی حکام کی کشمیر دشمنی کا ایک واضح ثبوت قرار دیتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ محمد مقبول بٹ کو بھی تختہ دار کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے نہ صرف یہ کہ ان دونوں کشمیری سپوتوں کو غیر قانونی طور پر تختہ دار پرلٹکایا بلکہ ان کو ان کے گھر والوں کے ساتھ آخری ملاقات کے انسانی حق سے بھی محروم کیا گیا اور اس پر مستزاد یہ بھی کہ بڑی جمہوریت کے دعویداراِس ملک نے اجساد خاکی تک کو تہاڑ جیل کے اندر دفن کرکے انہیںاپنے دینی اقدار کے مطابق تجہیز و تدفین کے حق سے بھی محروم کیا ۔انہوں نے کہا کہ افضل گورو نے محمد مقبول بٹ کی تقلید کرتے ہوئے ظلم و جبر کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کیا اور مسکراتے ہوئے تختہ دار پر لٹک گئے جس کیلئے قوم ان کی مقروض ہے ۔یاسین ملک نے کہا کہ افضل گورو کی قربانیاں، ان کی اور انکے خاندان پر آنے والے مصائب ہماری قومی تاریخ کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ محمد افضل گورو کی قربانی جموں کشمیر کی تاریخ کا ایک ان مٹ باب بن چکا ہے اور جب تک  محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کے اجسادخاکی اور باقیات کشمیریوں کے سپرد نہیں کی جائیں گی کشمیری ا س حوالے سے اپنی جدوجہد اجتماعی طور پر جاری رکھیں گے۔  ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے محمد افضل گورو کے گھر واقع تارزو سوپور میں ایک پروگرام کا اہتمام کیا تھا جس میںافضل کو چھٹی برسی پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔پارٹی کے سینئر کارکنان اور عہدیداروں نے افضل گورو کے گھر پر بینر اور پوسٹر لگارکھے تھے اور اُنہوں نے دن بھر مہمانوں کا استقبال کیا جنہوں نے افضل گورو کی برسی کے سلسلے میں منعقدہ پروگرام میں شمولیت کی۔اس موقعہ پر فریڈم پارٹی عہدیداروں نے کہا کہ کشمیر کی مزاحمتی تاریخ افضل گورو اور محمد مقبول بٹ جیسے عظیم سپوتوں کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ افضل گورو اور مقبول بٹ کو تختہ دار پر لٹکانے سے جموں کشمیر کے عوام نے خوف نہیں کھایا بلکہ اُنہوں نے حق خود ارادیت کا مطالبہ جاری رکھا ہوا ہے یہاں تک کہ آج قوم میں ہزاروں افضل اور مقبول موجود ہیں جو مزاحمت کی تاریخ رقم کرنے میں مصروف ہیں۔اس موقع پرہیومن رائٹس کمیشن، ایمنسٹی انٹر نیشنل، ایشیا واچ وغیرہ سے دردمندانہ اپیل کی گئی کہ وہ افضل گورو اور مقبول بٹ کے باقیات اُن کے وارثوں کو سونپنے کیلئے اپنا کرادار ادا کریں۔انجمن شرعی شیعیا ن کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن نے محمد افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کو انکی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قربانیوں کو کشمیری قوم کا سرمایہ افتخار قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ 9اور 11فروری کشمیری قوم کی جدوجہد آزادی کے تاریخ کے دو پر عزیمت دن ہیں جب اس قوم کے دو سپوتوں نے قوم کی مستقبل سازی کی جدوجہد میں تختہ دار کو خندہ پیشانی کے ساتھ چوم لیا لیکن اپنے اصولوں اور مشن سے زرا بھر انحراف نہیں کیا ۔ پیپلز لیگ کے علیل چیئرمین غلام محمد خان سوپوری نے محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو تحریک آزادی کے محسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود کو کشمیرکی تحریک آزادی کیلئے وقف کردیا تھااور آخر میں اپنی جان بھی اس تحریک کیلئے دے دی۔محاذآزادی کے صدر سید الطاف اندرابی نے محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کوکشمیر کی عظمت اور تشخص کی عظیم نشانیاں قرار دیکر خراج عقیدت پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ کہ دونوں سپوتوں نے کشمیریوں کی صدیوں پرانی بہادری اور شجاعت کی تاریخ کی مشعل کو  اپنی جان عزیزپیش کرکے روشن رکھا اور اس قوم کے نڈر،غیرتمند اور بااصول ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی،تحریک کشمیر کے صدر محمد موسیٰ ،سالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ ،مسلم خواتین مرکزکی چیئرپرسن یاسمین راجہ،تحریک استقلال کے چیئرمین اورینگ مینز لیگ کے چیئرمین امتیاز احمد ریشی نے محمد افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کی برسیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعل ملک نے محمد افضل گورو کی برسی پرکہا ہے کہ 6 سال قبل افضل گورو کو تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکا یا گیالیکن ہندوستان کشمیری عوام نے یہ ثابت کردیا کہ وہ اس تحریک کو دفنا نہیں سکتا۔
 
 

تحریک آزادی کے ماتھے کا جھومر:لشکر طیبہ

سرینگر// لشکر طیبہ جموں کشمیر کے چیف محمودشاہ نے افضل گورواور مقبول بٹ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں سپوت تحریک آزادی کے ماتھے کا جھومر ہیںاورکشمیرمیں ہر روز پیش کی جارہی قربانیاں اسی مشن کا تسلسل ہیں جو مقبول بٹ نے شروع کیا۔لشکر ترجمان ڈاکٹرعبداللہ غزنوی کی جانب سے موصولہ بیان کے مطابق محمود شاہ نے کہا کہ یہ کارواں اب اپنی منزل پر جاکر ہی دم لے گا۔انہوں نے کہا کہ دونوں سپوتوںنے پھانسی کے پھندے کو قبول کیا لیکن سرکو نہیں جھکایا۔انہوںنے حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ تہاڑ جیل میں مدفون دونوں کے اجساد خاکی ان کے اہل خانہ کو سونپنے میں اپنا کرداراداکریں۔
 
 

مظفرآباد میں دعائیہ تقریب

مظفرآباد// مظفرآباد میں افضل گوروکی برسی پر ایک دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں افضل گورواور محمد مقبول بٹ کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی،درجات کی بلندی اور کشمیر کی آزادی کے لئے دعا کی گئی۔ موصولہ بیان کے مطابق دعائیہ تقریب میں پاسبان حریت چیئرمین عزیراحمدغزالی ، وائس چیئرمین انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس مشتاق الاسلام ، مرکزی رہنما پیپلزپارٹی شوکت جاوید میر ، سیکریٹری کشمیر لبریشن سیل منصور قادر ڈار اور ڈائریکٹر کشمیر سیل راجہ سجاد لطیف خان و دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پہ مقررین نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ افضل گورو کے جسد خاکی کو اْن کے ورثاء کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی بھی اپیل کی۔
 
 

افضل گورو اور مقبول بٹ دہشت گرد نہیں تھے:انجینئر رشید

سوپور جاکرلواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا

لنگیٹ//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے پارٹی وفد کے ہمراہ محمد افضل گورو کے گھر جا کر تعزیتی مجلس میں شرکت کی۔ اس موقعہ پر انجینئر رشید نے کہا ہے کہ دونوں کا نئی دلی نے بلاجواز عدالتی قتل کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی نہ صرف انکے قتل کیلئے کوئی جواز پیش نہیں کرسکتی ہے بلکہ ان دونوں لیڈروں کے جسد ہائے خاکی کو واپس نہ لوٹا نے کا بھی نئی دلی کے پاس کوئی جواز نہیں ہو سکتا ہے۔انجینئر رشیدنے اس موقعہ پر کہا’’یہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے کہ جہاں تامل ناڈو کی اسمبلی نے راجیو گاندھی کے قاتلوں کی معافی کیلئے قرارداد منظور کی وہیں جموں کشمیر اسمبلی نے افضل گورو کی معافی کیلئے انجینئر رشید کی ایسی ہی ایک قرارداد کو ناکام کردیا۔یہ بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ جس دن میری پیش کردہ اس قراردپراد اسمبلی میںووٹنگ ہونی تھی مین اسٹریم کی جماعتوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے ایک ڈرامہ رچایا اور جو کچھ اسوقت کے اسپیکر محمد اکبر لون اور مولوی افتخار انصاری نے کیا وہ کچھ اور نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ایک ڈرامہ تھا کہ گورو کی معافی کیلئے پیش کی جاچکی قرارداد سلیقے سے ناکام ہوجائے۔