تازہ ترین

نئے صوبے کی تشکیل میں خطہ پیر پنچال کو نظرانداز کرنے پر مقامی سیاسی و سماجی تنظیمیں سیخ پا

پیرپنچال اور وادی چناب کے لوگوں کو تحریک شروع کرنی چاہیے: شاہ فیصل

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
سرینگر// سابق آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے لداخ کو الگ انتظامی صوبے کا درجہ دینے کی تازہ اور گرم بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ پیر پنچال اور وادی چناب کو الگ انتظامی صوبے کادرجہ حاصل کرنے کے لئے وہاں کے لوگوں کو ایک عوامی تحریک شروع کرنی چاہئے۔ ڈاکٹر شاہ فیصل نے اپنے فیس بک پوسٹ کے ذریعے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ الگ انتظامی صوبے کا درجہ حاصل کرنے کے لئے پیر پنچال اور وادی چناب کے لوگوں کو عوامی سطح پر ایک تحریک شروع کرنی چاہئے اور کسی بھی سیاسی پارٹی کوجھوٹے وعدے کرکے اس معاملے پر سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پیر پنچال اور وادی چناب کو اپنی مخصوص جغرافیائی پوزیشن اور ریاستی راجدھانی سے کافی دوری پر واقع ہونے کے پیش نظر الگ انتظامی صوبے کا درجہ دیا جانا چاہئے۔ لداخ کو الگ انتظامی صوبے کادرجہ دینے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’’چونکہ لیہہ اور کرگل کے درمیان طویل فاصلہ ہے اور صوبائی ہیڈ کواٹرس لیہہ میں قائم ہوں گے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کرگل کے لئے ہیلتھ،تعلیم وغیرہ کے لئے صوبائی سطح کی سہولیات کا انتظام ہونا چاہئے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کرگل۔ اسکردو سڑک بھی کھل جانی چاہئے۔ 
 

فیصلہ منصفانہ بنیاد پر نہیںہوا:شبیر خان 

پرویز خان 
 
منجاکوٹ //کانگریس کے سینئر لیڈر وسابق وزیر شبیر احمد خان نے لداخ کو تیسرا صوبہ بنائے جانے کے فیصلے کی سراہنا کی ہے تاہم انہوں نے کہاکہ خطہ پیر پنچال کو نظرانداز کیاجانا افسوسناک ہے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے خطہ پیر پنچال کے مسائل کو دیکھتے ہوئے اسے علیحدہ ڈیویژن کادرجہ ملناچاہئے تھاتاہم گورنر انتظامیہ نے اس سرحدی خطے کو نظرانداز کردیاہے اور ایک خاص مقصد نظر میں رکھتے ہوئے فیصلہ لیاگیاہے ۔ شبیر خان نے کہاکہ راجوری پونچھ کی مشکلات اور مسائل کسی دوسرے خطے سے کم نہیں بلکہ سب سے پسماندہ یہی علاقہ ہے جہاں آج تک سڑک روابط نہیں پہنچ پائے ، بجلی اور پانی کا کوئی شیڈیول نہیں اور نہ ہی دیگر سہولیات فراہم ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس طرح کے فیصلے سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ منصفانہ بنیادوںپر کئے جانے چاہئیں لیکن گورنر انتظامیہ نے مرکز کے اشاروں کو راجوری پونچھ کو نظرانداز کردیاہے ۔انہوں نے گورنر انتظامیہ پر زور دیاکہ فوری طور پر اقدامات کرتے ہوئے خطہ پیر پنچال کو اس کا جائز حق دیاجائے ۔
 

نوجوان احتجاج کیلئے تیار رہیں:ڈاکٹر یونس 

جاوید اقبال
 
مینڈھر//انترراشٹریہ گجر مہا سبھا کے ریاستی صدر و سابق چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر محمد یونس نے خطہ پیر پنچال کیلئے پہاڑی ترقیاتی کونسل اور صوبے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اگر اس کیلئے احتجاج کی نوت آجائے تو نوجوانوں کو اس کیلئے بھی تیار رہناچاہے ۔ان کاکہناتھاکہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ لداخ کو صوبہ کادرجہ ملاہے لیکن خطہ پیر پنچال کو کس بنیاد پر نظرانداز کیاگیاہے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اگر خطے کو صوبے کادرجہ نہیں دیناتھاتو کم از کم اسے پہاڑی ترقیاتی کونسل کادرجہ دیاجاتامگر ایس انہیں کیاگیا۔ڈاکٹر یونس نے کہاکہ گورنر انتظامیہ خطے کوصوبہ کا درجہ دے کر پارلیمانی نشست بھی الگ کرنے کیلئے اقدامات کرے ۔انہوں نے کہا کہ لداخ کو صوبے کادرجہ دینا اور خطہ پیر پنچال کو نظرانداز کرنا ایک غلط فیصلہ ہے جس سے خطے کے عوام میں ایک الگ رحجان پیدا ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ خطہ پیر پنچال کی عوام کو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی نظر انداز کیا گیا ۔انہوںنے تمام نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ذات پات سے باہر نکل کر صوبہ کی درجہ کی مانگ کیلئے متحدہوجائیںاور اگر احتجاج کی نوبت آئے تو اس کیلئے بھی تیار رہیں۔
 

راجوری پونچھ ناروا سلوک کاشکار:حمید منہاس

بختیار حسین 
 
سرنکوٹ//پی ڈی پی کے سابق ضلع صدروسیاسی کارکن حمید منہاس نے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ خطہ پیر پنچال انتظامیہ کے نارواسلوک کاشکار ہے ۔ انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ لداخ کو صوبے کادرجہ دینا خوش آئند اقدام ہے مگر خطہ پیر پنچال کو بھی صوبہ کا درجہ دیا جانا چاہئے تاکہ خطہ کی ترقی ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ خطہ پیر پنچال کے بیشتر علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک سڑک جیسی بنیادی سہولت دستیاب نہیںاور دیگر سہولیات بھی فراہم نہیں۔ان کاکہناہے کہ خطہ پیر پنچال کو ہر محاذ پر نظر انداز کیا جاتا ہے جو یہاں کی عوام کے ساتھ ناروا سلوک ہے۔
 

پہلا حق خطہ پیر پنچال کا:کانگریس لیڈر

جاوید اقبال
 
مینڈھر//آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ممبر و ریاستی سکریٹری پروین سرور خان نے ریاستی گورنر اور مرکزی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خطہ پیر پنچال کے لوگوں کے ساتھ جان بوجھ کر نا انصافی کی گئی ہے اورگورنرآر ایس ایس کے اشارے پر حکومت چلا رہے ہیں۔اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ خطہ پیرپنچال کے لوگوں کا حق بنتا تھا کہ ان کو صوبہ کا درجہ دیا جائے کیونکہ یہ سرحدی خطہ ہے ،تاریخی طور پر پونچھ ایک ریاست ہواکرتی تھی اور اس خطے کا پہلا حق تھا مگرحکام نے نظرانداز کردیا۔انہوں نے کہاکہ راجوری پونچھ اضلاع کا بیشتر علاقہ حد متارکہ سے ملتاہے جہاں لوگوںکو آئے روز فائرنگ اور گولہ باری سے نقصان ہوتاہے اور حکومتیں بھی انہیں نظرانداز کردیتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ خطے کیلئے پہاڑی ترقیاتی کونسل اور صوبے کی مانگ دہائیوں سے کی جارہی ہے جس پر کوئی دھیان نہیں دیاگیا۔
 

’مرکز کے اشاروں پر کام ہورہاہے‘

جاوید اقبال
 
مینڈھر//خطہ پیر پنچال کو صوبہ کا درجہ نہ دینے پر ریاستی گورنر و مرکزی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ماسٹر محمد دین پسوال ،چوہدری محمد صادق،نثار چوہدری،محمد اعظم فانی اوربابو محمد شریف نے کہاکہ ریاستی گورنر مرکزی حکومت کے اشاروں پر کام کررہے ہیں ۔اپنے ایک مشترکہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی گورنر ایمانداری سے کام کرتے تو سب سے پہلے خطہ پیر پنچال کا حق بنتا تھا ،ہر ایک حکومت سے پہاڑی ترقیاتی کونسل اور صوبے کی مانگ کی گئی مگر کسی نے اس پر کان نہیں دھرا۔ان کاکہناتھاکہ راجوری پونچھ کے لوگوںکو ہندوپاک کے درمیان ہونے والی جنگوں کا خمیازہ بھگتناپڑا اور یہاں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں لیکن حکام کی طرف سے ہر سطح پر ناانصافی کی جارہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر صوبے کادرجہ نہیں ملاتو وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ نہ صرف صوبے کا درجہ دیاجائے بلکہ علیحدہ پارلیمانی نشست کااعلان بھی کیاجائے۔
 

پیر پنچال کے لیڈر سبق سیکھیں:شہزاد ملک 

جاوید اقبال
 
مینڈھر//سائیں ناتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد ملک نے لداخ کے لوگوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس فیصلے سے خطہ پیر پنچال کے لیڈران کو سبق سیکھناچاہئے۔مینڈھر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد ملک نے کہاکہ بدقسمتی سے یہاں کے لیڈران نے کبھی متحد ہوکریہ مانگ نہیں کی اورنہ ہی کبھی حد متارکہ کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کی ۔ان کاکہناتھا’’مجھے بڑی خوشی ہے کہ لداخ کے تمام لیڈران اکھٹے ہو کر کسی چیز کی مانگ کرتے ہیں اوراپنا حق حاصل کر کے چھوڑتے ہیں،خطہ پیر پنچال کے لیڈران کو بھی لداخ کے لیڈران سے سبق سیکھنا چاہیے‘‘ ۔شہزاد ملک نے ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ خطہ پیر پنچال کو پہاڑی ترقیاتی کونسل اور علیحدہ ڈیویژن کادرجہ دیاجائے کیونکہ سب سے زیادہ ناانصافی اسی خطے سے ہوئی ہے اور سیاسی جماعتوں نے گوجر اور پہاڑی کے نام پر تقسیم کی سیاست کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہر حکومت نے خطہ پیر پنچال کی مانگ کو نظر انداز کیا اور خطے کے ساتھ امتیازی سلوک رکھا۔ان کا کہنا تھا کہ راجوری پونچھ کی دیرینہ مانگ پوری کی جائے اور پہاڑی ترقیاتی کونسل و علیحدہ ڈویژن کا درجہ دیا جائے۔انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ذات پات کی لڑائی چھوڑ کر مشترکہ کاز کیلئے لڑیں۔