تازہ ترین

مشیر ریاست کے سیاسی نمائندوں کے برابر نہیں :سوز

کرگل کے سیاسی اکابرین نظرانداز،خطے میں بے چینی کی فضا پیدا

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//پردیش کانگریس کے سابق صدر پروفیسر سیف الدین سوزنے لداخ خطے کو صوبے کا درجہ دیئے جانے کے گورنر انتظامیہ کے فیصلے پر شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا گورنر کی تین نفری مشاورتی کمیٹی ریاست کے سیاسی نمائندوں کے  برابر ہوسکتی ہے؟ایک بیان میں پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا کہ گورنر ستیہ پال ملک نے لداخ خطے کو علیحدہ ڈویژن قرار دے کر اُس خطے میں بے چینی کی فضاء پید اکر دی ہے ۔بنیادی طور پر یہ بے چینی اس لئے پیدا ہو گئی ہے کہ گورنر ملک نے لداخ خطے کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اِس مسئلے پر کوئی گفت و شنید نہیں کی ہے۔ اُن کو خاص طور کرگل خطے کی سبھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرنا چاہئے تھی۔گورنر ملک کا طرز و فکر بنیادی طور پر ٹھیک نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے عہدے کو منتخب حکومت کا نعم البدل سمجھتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ اُن کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ عارضی طور پر مرکز کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ کسی بھی طرح بھی جموںوکشمیر کے لوگوں کے نمائندہ تصور نہیں کئے جا سکتے۔انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ گورنر ملک کو ایسا فیصلہ لینے سے پہلے اُن سیاسی پیچیدگیوں کا علم نہیں ہوگا جو اب منصہ شہود پر آئی ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گورنر کو یہ بات مناسب نہیں لگی تھی کہ کرگل کے سیاسی اکابرین کے ساتھ اس بات پر گفت و شنید ہونی چاہئے کیونکہ کرگل خطہ بجائے خود، جغرافیہ ، تاریخ، ثقافت، مذہب اور لسانی بنیاد پر ایک مخصوص اور علیحدہ خطہ ہے۔سوزنے کہاکہ گورنر ملک کو یہ سوچنا چاہئے کہ یہ بات اُن کے فرائض منصبی میں شامل ہے کہ وہ بنیادی نوعیت کے فیصلوں کے بارے میں سبھی سیاسی جماعتوں سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد فیصلہ لیا کریں۔ کیا اُن کی تین نفری مشاورت کی کمیٹی ریاست جموںوکشمیر کے پولیٹیکل کلاس کے برابر تصور ہو سکتی ہے؟۔انہوں نے کہا کہ فی الحال اُن کے تازہ فیصلے سے اُس خطے میں ہلچل اور بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔