تازہ ترین

لیہہ میں مستقل ہیڈ کوارٹر کا قیام

کرگل سے امتیاز کیخلاف ہمہ گیر ایجی ٹیشن کی دھمکی

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوزڈیسک

ضلع کی سیاسی و مذہبی قیادت سرکاری فیصلہ کیخلاف یک آواز،بلدیاتی و پنچایتی اداروں سے مستعفی ہونے کا انتباہ

سرینگر// لداخ خطے کو علیحدہ صوبہ قرار دئے جانے کے فیصلے پرجہاںریاست بھر میں ایک سیاسی ہلچل پیدا ہوئی ہے وہیں لداخ کے دونوں اضلاع کرگل اور لیہہ کے درمیان صوبائی ہیڈکوارٹر کے قیام پر زبردست رسہ کشی شروع ہوئی ہے ۔کرگل کے سبھی بلدیاتی و پنچایتی اداروں کے ذمہ داروں نے لیہہ میں صوبائی ہیڈ کوارٹر مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کے فیصلے کو امتیازی سلوک قرار دے کر اجتماعی طور استعفیٰ پیش کرنے کی دھمکی دی ہے ۔کرگل میں تمام سیاسی جماعتوں کی ایک میٹنگ میں اس فیصلے کا اعلان کیا گیا کہ لیہہ میں مستقل بنیادوں پر صوبائی یڈ کوارٹر کے قیام کی مخالفت کی جائے گی ۔بائز ہوسٹل چھنی راما جموںمیں چیف ایگزیکٹیو کونسلر لداخ ہل ڈویلپمنٹ کونسل کرگل فیروز احمد خان کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں بشمول چیئرمین جموں وکشمیر لیجسلتیٹو کونسل حاجی عنایت علی ،ایگزیکٹیو کونسلر زاکر حسین ،سابق وزیر قمر علی آخون ،سابق ممبر امسبلی و سی ای سی حاجی اصغر کربلائی ،سابق ایم ایل اے حاجی نچار علی ،سابق سی ای سی کاچو احمد علی خان ،سابق ممبر پارلیمنٹ غلام حسین خان ،پریذیڈنٹ این سی و سابق سی ای سی حاجی حنیفہ جان اور دیگر کونسلر و سیاسی ارکان نے شرکت کی ۔
میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کرگل کے لیڈران نے بتایا کہ لداخ کو صوبائی درجہ دینے کا مطالبہ کرگل کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جبکہ لیہہ کے عوام نے کبھی بھی صوبائی درجے کی مانگ نہیں کی ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا یہ حکم نامہ سراسر غلط اور امتیازی سلوک کا مظہر ہے۔انہوں نے حکومتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے گورنر ستیہ پال ملک سے فوری طور اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی کرگل کے لیڈران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لداخ خطے میں صوبائی ہیڈ کوارٹر کو باری باری بنیادوں پرگرمیوں کے  6ماہ کے دوران کرگل اور6ماہ سردیوں کے دوران لیہہ اضلاع میں مقرر کیا جائے اکہ اس طرح کسی ضلع کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو ۔پریس کانفرنس کے دوران لیڈران نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ایسا نہیں کیا تو تمام منتخب نمائندے چاہے وہ پنچ ہوں ،کونسلر ہوں ،چیف ایگزیکٹیو کونسلر یا چیئرمین لیجسلیٹیو کونسل سبھی بیک وقت استعفی پیش کریں گے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جونہی سرکار کی طرف سے لداخ کو صوبے کا درجہ دئے جانے کا اعلان ہوا کرگل کے عوام نے اس فیصلے سے متعلق اپنی مزاحمت اور ناراضگی دکھانی شروع کی ۔سوشل میڈیا پر بھی اس سلسلے میں زبردست بھث و مباحثہ جاری ہے ۔لداخ کے صوبے کادرجہ اعلان ہونے کے ساتھ ہی چیئرمین جے کے لیجسلیٹیو کونسل و ایم ایل سی حاجی عنایت علی نے اس فیصلے کو جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا اور ساتھ ہی گورنر سے اپیل کی کہ وہ اس بارے میں نظر ثانی کریں اور خطے کے وسیع تر مفاد کیلئے بنیادی ڈھانچہ کی مساوی تقسیم کی جائے ۔اسی طرح مذہبی تنظیم امام خمینی میموریل ٹرسٹ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سرکاری فیصلے پر اعتراض جتایا اور الزام عائد کیا کہ گورنر انتظامیہ بی جے پی کی ہدایت پر عمل درآمد کررہی ہے تاکہ2019امتخابات کیلئے راہ ہموار کریں ۔