تازہ ترین

جموں کشمیرچائلڈ پروٹیکشن سوسائٹی گورننگ باڈی میٹنگ

خورشید گنائی کوحصولیابیوں اور سرگرمیوں کاخاکہ پیش

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
جموں//گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے یہاں جموں اینڈ کشمیر سٹیٹ چائلڈ پروٹیکشن سوسائٹی( جے کے ایس سی پی ایس) کی گورننگ کمیٹی کی صدارت کی۔میٹنگ میںجے کے ایس سی پی ایس کی گورننگ اور ایگزیکٹو کمیٹیز کے ممبران بشمول انتظامی سیکرٹری محکمہ ہوم، انتظامی سیکرٹری صحت و طبی تعلیم محکمہ، انتظامی سیکرٹری لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ، انتظامی سیکرٹری سماجی بہبود، انتظامی سیکرٹری قانون، سپیشل سیکرٹری سکول ایجوکیشن محکمہ، مشن ڈائریکٹر آئی سی پی ایس، ڈائریکٹر سماجی بہبود کے علاوہ خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔میٹنگ میں جے کے ایس سی پی ایس کو متعار ف کرنے، آئی سی ٹی ایس کے تحت تقرری کرنے، ہومز کا قیام، جوونائل جسٹس بورڈز میں ویڈیو کانفرنسنگ سہولت قائم کرنا، چائلڈ کئیر اداروں میں سی سی ٹی وی سہولیات کی دستیابی، جموں اور سرینگر کے زچگی ہسپتالوں میں ہیلپ ڈیسک قائم کرنااور کئی دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ ڈائریکٹر نے جے کے ایس سی پی ایس کی حصولیابیوں اور سرگرمیوں کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ آئی سی پی ایس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ضرورت مند بچوں اور قانون کے ساتھ تضاد میں بچوں کی بہبودی کو یقینی بنایا جاسکے۔اس موقعہ پر بتایا گیا کہ جوونائل جسٹس بورڈ اور ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ ریاست کے تمام اضلاع میں قائم کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیںتما م اضلاع میں چائلڈ ویلفیئر کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں جبکہ سرینگر اور جموں میں کریڈل بے بی مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ آر ایس پورہ اور ہاورن میں شیلٹر ہوم قائم کئے گئے ہیں ۔ اسکے ساتھ ساتھ شوپیاں میں لڑکیوں کے لئے چلڈرن ہوم قائم کیا گیا ہے۔مشیر نے جے کے ایس سی پی ایس کی حصولیابیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سکیم کو مشن موڈ کے تحت عملانے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔مشیر نے کہا کہ ریاست میں آئی سی پی ایس کی عمل آوری میںبہتری لانے کے لئے تربیتی پروگراموں، کانفرنسوں اور ورکشاپوں کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔میٹنگ میں بچوں کی سکیموں سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ تمام متعلقین کے لئے تربیتی پروگراموں کا بھی انعقاد کیا جانا چاہئے۔