تازہ ترین

موت کے 7ماہ بعد نعش وطن بھیجنے کا امکان

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے شہری کی قبرکشائی

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سمت بھارگو
راجوری //سات ماہ قبل نوشہرہ حد متارکہ پر پراسرار طور پر مردہ پائے گئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے شہری کی نعش کو واپس وطن بھیجنے کی کوشش شروع کی گئی ہیں اوراس سلسلے میں پولیس اور فوج کی اپیل پر انتظامیہ نے قبر کشائی کی  ۔واضح رہے کہ 23جولائی 2018کو موہڑہ کمپلا علاقے میں حد متارکہ کے نزدیک ایک شخص کو مردہ حالت میں پایاگیاجس کی نعش کا پوسٹ مارٹم کرکے اسے شناخت کیلئے رکھاگیا جبکہ اس سلسلے میں پولیس تھانہ نوشہرہ میں ایف آئی آر زیر نمبر 147/2018کا کیس درج کرکے تحقیقات بھی شروع کی گئی ۔ذرائع کاکہناہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود نعش کی شناخت نہیںہوپائی اور پھر اسے آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے مذہبی سکالر کے سپرد کیاگیا اور نعش نوشہرہ کے ایک قبرستان میں دفن کردی گئی ۔ذرائع نے بتایاکہ بعد میں تحقیقات کے دوران اس کی شناخت محمد ارشدولد محمد شبیر ساکن کوٹلی گجراں کے طور پر ہوئی ۔ذرائع نے مزید بتایاکہ ایس ایس پی راجوری نے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر دفتر رابطہ کرکے یہ بتایاکہ اس شہری کی نعش کی اب شناخت ہوگئی ہے اور وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کاہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایاکہ مہلوک شہری کے اہل خانہ نے پاکستانی فوج کے ذریعہ نعش ان کے حوالے کرانے کی اپیل کی تاکہ اس کی آخری رسومات آبائی گائوں میں ادا کی جاسکیں ۔وہیں ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجازاسد نے 176سی آر پی سی کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے قبرکشائی کا حکم جاری کیا تاکہ نعش کو پاکستانی فوج کے حوالے کیاجاسکے ۔ذرائع نے بتایاکہ ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر تحصیلدار قلعہ درہال ، ڈاکٹروں کی ٹیم ، معزز ین علاقہ بشمول سرپنچ، نمبردار،چوکیدار کی موجودگی میں قبرکشائی کی گئی اور اب ڈاکٹر نعش کا پہلے حاصل کئے گئے ڈی این اے نمونوں سے موازنہ کریں گے ۔رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر راجوری نے بتایاکہ فوج اور پولیس حکام کی درخواست پر قبر کشائی کا حکم جاری کیاگیاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد پولیس کی طرف سے یہ نعش فوج کو بھیجی جائے گی تاکہ اسے آگے قانون کے مطابق پاکستانی فوج کے حوالے کیاجاسکے ۔