تازہ ترین

مودی کی نیت اور ایمان پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا :راج ناتھ سنگھ

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
پٹنہ// بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی ) کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج اپوزیشن پر رافیل سودے کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ کوئی ایسانہیں جو وزیراعظم نریندر مودی کی نیت اور ان کے ایمان پر انگلی اٹھاسکے ۔ مسٹر سنگھ نے یہاں ادھیویشن بھون میں منعقدہ [؟] بھارت کے من کی بات مودی کے ساتھ [؟] پروگرام میں اسکالروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ [؟] میں نے سیاست میں کبھی کسی پربے بنیاد الزام عائد نہیں کیا ہے اور زبان اور الفاظ کی حدود کا ہمیشہ خیال رکھا ہے ۔ میں نے ہمیشہ صاف ستھری سیاست کی ہے ۔ میں وزیراعظم نریندر مودی کو سالوں سے جانتاہوں ۔ ہم نے مل کر ساتھ ساتھ کام کیا ہے ۔ ان پر آپ دیگر جو بھی الزام لگانا ہے لگاسکتے ہیں کہ مودی جی نے کام کم کیا ، کام زیادہ کیا ، ان کومزید کام کرنا چاہئے لیکن کوئی مائی کا لال ان کی نیت اور اور ان کے ایمان پر انگلی نہیں اٹھا سکتاہے ۔ [؟]۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہاکہ سیاست عوام کو گمراہ کر کے اور آنکھوںمیں دھول ڈال کر نہیں بلکہ آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کر کی جانی چاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ مسٹرمودی کی ایمانداری پر کسی کو کوئی شک نہیں ہے ۔ آخر وہ کس کے لئے مال جمع کریں گے ۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ سیاست ملک اور سماج کو سمت دینے کیلئے ہوتی ہے لیکن بد قسمتی ہے کہ سیاست اپنی معنویت اور جذبہ دونوں کھوچکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھگوان رام ، کرشن ، مہاتما گاندھی ، سبھاش چندر بوس ، چندر شیکھر آزاد اور بھگت سنگھ نے بھی سیاست کی تھی لیکن جب بھگوان رام نے سیاست کی تب انہوںنے ایک بھیلنی شبری کا جوٹھا بیر بھی کھایا۔ ان کے لئے سیاست [؟] بھکتی [؟] تھی ۔ شری کرشن نے بھی سیاست کی جب مہا بھارت میں نصف سچائی کی مدد لی اور یودھیسٹر سے کہلوایا [؟] اشوستھاما ہتو نرو و اکنجرو[؟] اسشوستھاما مارا گیا وہ انسان ہے یا جانور ہے [؟] شری کرشن کیلئے سیاست [؟] یکتی [؟] یعنی دا[؟] پیچ تھا۔بی جے پی نے کہاکہ اسی طرح مہا تما گاندھی اور سبھاش چندر بوس کے لئے سیاست [؟] شکتی [؟] یعنی طاقت تھی ملک کو آزاد کرانے کیلئے ۔ بھگت سنگھ اور کھودی رام بوس کیلئے سیاست[؟] مکتی[؟] آزادی بن جاتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آج کی بد قسمتی ہے کہ کچھ لیڈران کیلئے سیاست پہلے [؟] سمپتی[؟] جائیداد اور بعد میں[؟] وپتی[؟] (مصیبت) بن جاتی ہے ۔مسٹر سنگھ نے کہاکہ ایسے لیڈران کی وجہ سے سماج اور ملک کو مشکلات سامنا کرنا پڑتاہے ۔ آج سیاست میں ایسے لیڈران کی وجہ سے ہی اعتماد کا فقدان ہو گیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بی جے پی نے اس مشکل کو چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے اور وہ پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی اس چیلنج پر فتح حاصل کرے گی ۔یو این آئی