تازہ ترین

اترپردیش میں زہریلی شراب سے 70 لوگوں کی موت

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
لکھنؤ// اترپردیش کے ضلع سہارنپور میں اب تک زہریلی شراب سے 70 لوگوں کی موت ہوچکی ہے حالانکہ ضلع انتظامیہ نے 46 افراد کے مرنے کی تصدیق کی ہے وہیں دوسری جانب کشی نگر میں 11لوگوں نے زہریلی شراب کی وجہ سے دم توڑا ہے ۔ دونوں ہی اضلاع میں شراب پینے کے بعد حالت بگڑنے سے اسپتال میں علاج کے لئے آنے والے افراد کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔سہارنپور کے چیف میڈیکل افسر بی ایس سوڑھی نے یواین آئی سے بات چیت میں کہا کہ اسپتال میں زیر علاج 9 مزید لوگوں نے دم توڑ دیا جن کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ زہریلی شراب کی وجہ سے بیمار لوگوں کے اسپتال پہنچنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے جن کے علاج کے لئے مناسب انتظام کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آلوک پانڈے اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ دنیش کمار پی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں زہریلی شراب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 46 ہوگئی ہے ۔ریاست کے مشرقی اور مغربی حصے میں ایک ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بعد حرکت میں آئی حکومت نے پوری ریاست میں شراب مافیاوں کے خلاف محاذ چھیڑ دیا ہے ۔ گونڈہ، بلرامپور، ارئی، ہردوئی، کانپور اور بلیا سمیت پوری ریاست میں غیر قانونی شراب کا کاروبار کرنے والوں پر پولیس کی کاروائی جاری ہے ۔ اس دوران ہزاروں لیڈر غیر قانونی شراب اور لہن تلف کی جاچکی ہے ۔وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اس واقعہ میں مارے گئے لوگوں کے اہل خانہ کو دو لاکھ روپئے اور اسپتال میں زیر علاج لوگوں کے علاج کے لئے 50 ہزار روپئے دینے کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے محکمہ آبکاری کے چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو شراب مافیاؤں کی شناخت کر کے ان کے خلاف سخت کاروائی کرنے اور قصواروں افسران کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ضلع سہارنپور سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ضلع میں سنیچر کو زہریلی شراب سے متاثر نو مزید لوگوں نے دم توڑدیا جس کے ساتھ ہی ضلع میں شراب کا استعمال سے مرنے والوں کی تعداد 70 ہوگئی ہے ۔ مرنے والوں میں دو شراب فروش بھی شامل ہیں۔ ضلع کے تین تھانہ علاقوں گاگل ہیڑی، ناگل اور دیوبند علاقے میں زہریلی شراب سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں ۔ نازک حالت میں اسپتال میں داخل 35 لوگوں کا علاج جاری ہے ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آلوک پانڈے کے مطابق اسپتال میں بھرتی لوگوں کی حالت میں بہتری کے آثار ہیں۔ ایس ایس پی دنیش کمار پی نے میڈیا نامہ نگاروں کو بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں غیر قانونی شراب مافیاؤں کے خلاف چلائی جارہی پولیس کی خصوصی مہم کے تحت 30 افراد ابھی تک گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ ان کے پاس سے ممنوعہ اشیاء، کچی شراب بنانے کے آلات اور دیگر چیزیں برآمد کی گئی ہیں۔ ان پر متعدد مجرمانہ دفعات کے ساتھ ساتھ این ایس اے اور نئی ترمیم شدہ پھانسی کی دفعہ 60 اے کے تحت کاروائی کی جائے گی۔جمعرات دیر رات سے جمعہ کی صبح تک زہریلی شراب پینے سے متاثرکل 66 لوگوں کو ضلع اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرایا گیا تھا۔ جن میں سے 10 لوگوں نے دم توڑ دیا۔ جمعہ رات آٹھ بجے تک ضلع سہارنپور میں 18 لوگوں کے موت کی تصدیق ہوئی تھی۔ ضلع انتظامیہ نے 19 لوگوں کی حالت کافی نازک ہوتا دیکھ کر انہیں میرٹھ میڈیکل کالج اور 14 افراد کو سہارنپور میڈیکل کالج ریفر کردیا تھا۔ سہارنپور میں 35 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ 11 لوگوں نے میرٹھ میں دم توڑا۔سہارنپور کے پوسٹ مارٹم ہاوس میں لاشوں کو رکھنے جگہ کم پڑ کی گئی ہے ۔ لاشوں کو لے جانے کے لئے گاڑیوں کے کم پڑ جانے پر شاملی سے گاڑیاں منگائی گئی ہیں صبح تک سہارنپور میں 21 لاشوں کو پوسٹ مارٹم کیا جاچکا تھا۔ مسٹر کمار پی نے بتایا کہ زہریلی شراب میں جان لیوا ریڈ پوائنٹ کے ملے ہونے کا شبہ ہے اس کی جانچ کرائی جارہی ہے ۔