تازہ ترین

بے نور زندگی

افسانہ

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مینا یوسف
’’ساری زندگی ایسے ہی گذار دی۔ کیا کروں میں خود جو اس کے لئے زمہ دار ٹھہرا۔ وقت جب تھا تب میں نے پرواہ نہیں کی ۔ اس کی ہر ایک بات کو ٹالتا رہا ۔اس کی ہر خوشی اور ہر بات کو نظرانداز کرتا رہا۔ پر آج میری زندگی میں آہٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں بچا۔ آہ! سلمہ میری سلمہ۔ کاش آج اس کی ایک آواز سننے کو مل جاتی۔خدا نے مجھے اتنا بے بس اور لاچار بنا دیا ہے کہ میں اپنی سلمہ کو نہ تو دیکھ سکتا ہوں اور نہ ہی سن سکتا ہوں۔ نہ جانے کہاں ہوگی ؟کس حال میں ہوگی ؟زندہ بھی ہے یا مر گئی؟‘‘ سلطان خود کلامی کے بعد تیس سال پہلے کے ایک درد ناک حادثے میں کھو گیا۔
کڑکتی دھوپ میں وہ ایک کھاٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اچانک اس کی بیوی سلمہ آہستہ سے اس کے پاس آتی ہے ۔ ’’سلطان آج ماں کی بہت یاد آرہی ہے ۔آپ اگر اجازت دیں تو میں جاکر اُسے دیکھ کے آجائوں ؟‘‘ سلمہ نے ڈرتے ہوئے کہا۔’’ارے جائو کس نے روکا ہے؟ کمبخت جا اور کبھی لوٹ کر نہ آنا تاکہ بچی ہوئی زندگی تو آرام سے جی لوں‘‘سلطان نے غصے میں جواب دیا۔ 
’’میں نے تو صرف ایک دن کی اجازت مانگی ہے ‘‘ سلطان غصے میں بڑبڑاتا ہوا گیٹ سے باہر نکل گیا۔ ’’یا خدا کیا عزت ہے عورت کی! ماں باپ کے گھر سے نکلتے ہی عورت کی اہمیت ختم  ۔ طعنوں اور ذلت کے سوا اس کی زندگی میں رکھا ہی کیا ہے؟‘‘ سلمہ اپنے آپ سےکہنے لگی۔
آدھی رات کو سلطان گھر واپس لوٹا تو سلمہ کو دیکھ کر کہنے لگا’’ تم گئی نہیں اپنی ماں کے ہاں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے۔ دفاں کیوں نہیں ہوتی!‘‘
’’ آخر میں نے کیا کیا ہے ؟ آپ ہر وقت اس طرح طعنے کیوں مارتے رہتے ہیں؟میں ہمیشہ آپ کو نیکی کی راہ دیکھاتی رہتی ہوں اور آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ جس دن میں آپ کو چھوڑ کر چلی گئی نا تب بہت پچھتائو گے‘‘۔ سلمہ نے قدرے غصے میں جواب دیا۔
’’ ہاںہاں نفرت کرتا ہوں،تم دفاں ہو جائو میری نظروں سے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘یہ کہتے ہی سلطان غصے سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
رات کے اڈھائی بجے باہر سے کچھ آوازیں آئیں’’ آخر ہم کہاں جا ئیں گے ۔۔۔۔ہماراکوئی اور گھر تو نہیں۔۔۔ ماں۔۔۔ماں۔۔۔ بابا۔۔۔۔ نکلو نکلو جلدی بھاگو‘‘سلمہ یہ سنتے ہی بھاگتی ہوئی سلطان کے پاس گئی۔’’سلطان اٹھو اٹھو باہر پتہ نہیں کیا ہو رہا ۔۔۔۔ سلطان خدا کے واسطے اٹھو‘‘
’’کیا ہوا تم پاگل تو نہیں ہو گئی‘‘اتنے میں دروازہ کھٹکھٹانے کی آوازیں تیز ہوگئیں۔ سلطان نے جلدی سے دروازہ کھولا تو دیکھا باہر گاوں کے سارے لوگ چلاتے ہوئے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔ ایک آدمی نے دوڑتے ہو ئے سلطان سے کہا ’’سلطان بھاگو اب یہ ملک ہمارا نہیں رہا۔ جلدی سے جان بچا کر بھاگو‘‘ یہ سنتے ہی سلمہ نے فوراً سلطان کا ہاتھ پکڑلیا۔ ’’سلطان خدا کا واسطہ میرا ہاتھ نہ چھوڑنا تم جہاں بھی جاوگے مجھے ساتھ لے جانا‘‘ سلطان ’’ ہاں نہیں چھوڑوں گا ،تم بس میرے ساتھ رہنا‘‘ 
سلطان بھیڑ میں بڑی تیزی سے دوڑنے لگا۔اس کے ہاتھ سے کبھی سلمہ کاہاتھ چھوٹ جاتا تو جھٹ سے پکڑ لیتا۔ صبح پوہ پھٹتے وقت سلطان ایک محفوظ جگہ پر پہنچ گیا۔ سلطان نے راحت محسوس کی اور سلمہ کی اور دیکھا۔لیکن اس کے ساتھ سلمہ نہیں بلکہ کوئی اور تھا۔’’کون ہو تم ،تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں کیسے آیا ، میری سلمہ کہاںہے؟‘‘مگر اس آدمی نے کوئی جواب نہیں دیا۔سلطان اس کا ہاتھ چھوڑ کر جلدی سے سلمہ کی تلاش میں نکل گیا۔ صبح سے شام تک مسلسل تلاش کرتا رہا مگر سلمہ نہ ملی۔
سلطان تھک ہار کر ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ گیا۔آج سلمہ کی کہی ہوئی ساریں باتیں اس کو یادآرہی تھیں۔ آج اسے احساس ہوا کہ سلمہ اس سے کتنی محبت کرتی تھی۔ اچانک اسے سلمہ کا کہا ہوا آخری جملہ یاد آیا’’سلطان خدا کا وسطہ میرا ہاتھ نہ چھوڑنا، تم جہاں بھی جائو گے مجھے ساتھ لے جانا‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسؤں کا دریا بہنے لگا ۔ وہ خوب رویا۔ ’’اے خدا تو نے میری سلمہ کو مجھ سے کیوں دور کر دیا۔ہائے میں اس کو کیوں نہیں سمجھ پایا۔ اب وہ مجھے کیسے ملے گی۔میںکہاں تلاش کروں۔یا خدا رحم بس ایک بار وہ مجھے مل جائے میں اس کو پلکوں پر بیٹھا کر رکھوں گا‘‘سلطان آہیں بھرتا ہی گیا۔
’’ارے او چچا اٹھو مجھے کمرہ صاف کرنا ہے‘‘سلطان ہوش میں آیا تو سامنے گھر کے مالک کو پایا۔ سلطان اپنے آپ سے ’’میں کیا تھا اور اب میرا کیا حال ہے۔ کاش کہ میں نے سلمہ کو سمجھا ہوتااور اس کو عزت دی ہوتی تو آج میرا یہ حال ہرگز نہ ہوتا۔ ہائے میری سلمہ!‘‘‘ وہ آہیں بھرتا ہوا گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔
 
���
سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر
صفا پور، مانسبل، گاندربل،موبائل نمبر؛9149824839