تازہ ترین

سمینار

کہانی

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی
کالج میںبڑے جوش و خروش سے سیمنار کی تیاریاں ہو رہیں تھیں۔ہال میں طالب علموں کو بٹھایا جا رہا تھا۔ان کو معلوم بھی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ دونوں ٹیچر، جو ڈیوٹی پر تھے، بڑی محنت کررہے تھے اور لڑکوں سے کہہ رہے تھے۔
’’آج منسٹر صاحب آرہے ہیں،آپ سیٹوں پر بیٹھ جاؤ ،وہ آتے ہی ہونگے‘‘۔
دیکھو شور بالکل مت مچانا،آرام سے بیٹھے رہنا،جب منسٹر صاحب اور دوسرے مہمان آجایئں گے تو کھڑے ہو جانا اور تالیاں بجانا‘‘
اور لڑکے بھی بڑی خوش خوشی ہال میں داخل ہو رہے تھے۔ایک لڑکے نے اندر جاتے ہوئے دوسرے سے پوچھا
’’ہال کے اندر کیا ہو رہا ہے‘‘؟۔
بدھو تمہیں نہیں معلوم۔یہ ہفتہ ماحولیات کا ہے نا۔منسٹر صاحب آرہے ہیں ۔انہیں ماحولیات پر لیکچر دینا ہوگا،میں نہیں جاؤں گا۔‘‘
’’کب آرھے ہیں؟کیا آج کلاسیں نہیں ہونگی۔؟‘‘
وہ تو ابھی گیارہ بجے آرہے ہیں۔‘‘
چلو نا،پروگرام ختم ہوتے ہی کلاسوں میں جائیں گے۔۔۔‘‘وہ دونوں بھی ہال میں داخل ہوئے۔
طالب علموں سے کہا گیا تھا کہ وہ دس بجے ہال میں بیٹھ جائیں۔ابھی دس بج ہی رہے تھے کہ ہال کچھا کچھ بھر گیا۔ہال کی بالکونی بھی بھر گئی۔زعفرانی قہوہ اُبلنے لگا۔پیالیاں اور پلیٹیں سجی ہوئی تھیں۔پیالیوں میں بادام کی باریک کٹی ہوئی گِریاں انتظار کر رہی تھیں کہ کب انکے اوپر قہوہ ڈالا جائے اور قہوے کے ذائقے میں چار چاندلگایئں۔ایک چھوٹی سی ٹرے پر گلدستے سجے ہوئے تھے۔تازہ تازہ پھولوں سے بنے ہوئے گلدستے اپنا رنگ اور خوشبو بکھیر رہے تھے۔سب سے بڑا گلدستہ منسٹر صاحب کے لئے اور چھوٹے چھوٹے گلدستے تعلیم اور جنگلات کے محکموں کے ڈائریکٹروں کے لئے رکھے گئے تھے۔ان مہمانوں کے لئے ہال میں سب سے آگے والی قطار میں آگے صوفے سجائے گئے تھے۔میں صوفے سجائے گئے تھے۔ان پر reservedکا بورڈ لگایا گیا تھا۔ہال کا سٹیج بھی شاندار لگ رہا تھا۔سٹیج پر اخروٹ کی لکڑی کی آٹھ شاندار کرسیاں سجائی گئی تھی اور ایک طرف سے اخروٹ کی لکڑی کا  ہی ایک ڈائس سجا کر رکھا گیا تھا۔ہر طرف بجلی کے قمقمے اجالا کر رہے تھے اور بجلی کے پنکھے  شور مچاتے ہوئے چل رہے تھے۔کسی کو یہ فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ ہوا دیتے ہیں یا نہیں۔سٹیج کے پیچھے کی دیوار پر LCD لگایا گیا تھا۔ جس پر تصاویر کے ذریعے اُجاگر کئے گئے ماحولیاتی پس منظر میں A SEMINAR ON "OUR ENVIRONMENT"کی تحریر بار بار سامنے آتی تھی۔
     کچھ بچے سٹیج پر ڈرامہ کی ریہرسل کر رہے تھے۔کچھ اور بچے ماحولیات کے موضوع پر گانا تیار کر رہے تھے۔ہر طرف گہما گہمی تھی۔تمام ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف اس گہما گہمی کے حصہ دار تھے۔خاکروب بھی تو اپنے حصے کا کام کر رہے تھے۔ہر طرف سے گندگی اور کوڈا کرکٹ اٹھا اٹھا کر بڑی بڑی بالٹینوں، جن کے اوپر ’’مجھے استعمال کرو‘‘ لکھا تھا، میں ڈال رہے تھے۔کیونکہ ماحولیات کا منسٹر آرہا تھا اور ہر طرف سے صاف شفاف ماحول نظر آنا چاہیے۔مسز کرشنا بار بار ہال کا دروازہ کھول کر ہال میں بیٹھے طالب علموں کو خاموشی سے بیٹھنے کا اشارہ کر رہی تھی۔بچوں میں بے قراری بڑھنے لگی تھی۔ایک بچے نے پوچھا۔
’’میڈم منسٹر صاحب کب آیئں گے۔آپ نے تو کہا تھا دس بجے آیئں گے۔اب تو گیارہ بھی بج گئے۔‘‘
میڈم نے غصے سے کہا۔’’چلو چلو چپ کرکے بیٹھو،بس ابھی آتے ہی ہونگے۔‘‘
دوسرے بچے نے کہا۔
’’میڈم میں باہر جاؤں ؟۔مجھے پیاس لگی ہے۔‘‘
میڈم نے غصہ سے دروازہ زور سے بند کیا اور باہر چلی گئی۔
گیارہ بج کر پندرہ منٹ بھی ہوئے مگر مہمان خصوصی ابھی تک نہیں آئے۔ طالب علموں اور استادوں میں بے اطمینانی اور اضطراب بڑھتا گیا۔ساڑھے گیارہ بھی بج گئے اور عالی جناب کا دور دور تک کہیں پتہ نہیں تھا۔بچے کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے۔
’’میڈم ہمیں بھوک لگی۔ہمیں جانے دیجئے۔ہم کچھ کھائیں گے۔منسٹر صاحب اب نہیں آئیں گے۔‘‘
’’بکواس بند کرو،اور خاموشی سے بیٹھے رہو۔‘‘
خدا خدا کرکے بارہ بج گئے اور گاڑیوں کے ہارن بجنے سے معلوم ہو ا کہ جنا ب آگئے۔بچوں کی جان میں جان آئی۔سب بچے کھڑے ہوگئے۔پروگرام شروع ہوا۔بچوں کا ترانہ،ماحولیات پر گانا،ڈرامہ،اور آہستہ آہستہ ایک ایک کے بعد پروگرام چلتا گیا اور وقت نکلتا گیا۔بچوں میں سرٹیفکیٹ بانٹے گئے اور یوں پروگرام کا اختتام کیا گیا۔پھر ایک ایک کرکے سٹیج پر بیٹھنے والوں نے لیکچر دیا۔جس نے مائک ہاتھ میں لے لی وہ چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔بچوں کا تو کلیجہ منہ کو آیا۔مگر بچارے کیا کرتے۔
مہمانوں کے سامنے زعفرانی قہوہ اور کیک رکھا گیا۔اور ۔۔۔بچے وہ تو صبح دس بجے سے بیٹھے قہوے اور کیک کا نظارہ کر رہے تھے۔
ایک بچے نے جرأت کر کے کہا۔میڈم کیا ہمیں بھی کچھ کھانے کو ملے گا۔
’’ہاں ہاںکیوں نہیں ،آپ کے لئے بھی refreshmentآرہا ہے۔
دن کے دو بجنے لگے تو سٹاف میں بے چینی اور بڑھ گئی۔بچوں میں بے چینی پہلے سے ہی تھی۔اب کے مہمانوں نے جو مائک پکڑ لیا ،تو چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔مسز کرشنا اس وجہ سے پریشان تھی کہ دیر ہو گئی اب مہمانوں کے لئے لنچ کا انتظام ہونا چاہیئے۔
لنچ کا انتظام کرتے کرتے اور تقریریں سنتے سنتے چار بج گئے۔بچے بھوک اور پیاس سے نڈھال ہو چکے تھے اور بھاگنے کی تاک میں تھے۔لہٰذا ہال کے دروازوں کو بند کردیا گیا تھا۔
’’مسز کرشنا ،اگر بچے بھاگ گئے ؟ یہ تو منسٹر صاحب کی انسلٹ ہے کیونکہ وہ تقریر کر رہے ہیں۔‘‘
’’بھاگیں گے نہیں تو کیا کریں گے؟ہم بھی بچے والے ہیں۔‘‘
اتنے میں کا لج کے دو ورکر جوس کے دو کریٹ لیکر آئے۔اور مسز کرشنا سے کہا۔
’’میڈم یہ لیجئے جوس کے کریٹ بچوں کے لئے۔۔۔لنچ۔۔۔مہمانوں اور  سٹاف۔۔۔۔کے لئے۔۔۔۔۔‘‘کہاں رکھدوں۔
بچوں نے جوس پی لیا اور بھاگ گئے۔جوس کے خالی ڈبے ہال میں ہر طرف بکھرے ہوئے نظر آرہے تھے اور زور زور سے قہقہے لگا رہے تھے۔
 
٭٭٭
موبائل نمبر؛09906570372