تازہ ترین

افسانچے

10 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(   ناگپور ،مہاراشٹر،موبائل:۔ 9049548326    )

پرویز انیس

فکر

آج پھر اس کا باپ شراب پی کر آیا اور اس کی ماں کو مارنا شروع کردیا۔ چنٹو
بغل کے کمرے سے اپنی ماں کی چیخ و پکار سن رہا تھا ۔ ایسا پچھلے کئی سالوں سے ہورہا تھا۔ چنٹو کا صبر  جواب دے گیا اور اس نے طے کیا کہ وہ کل اپنے باپ سے بدلہ لے گا۔ 
دوسرے دن اس کا باپ ہر روز کی طرح اس کی ماں کو پیٹ رہا تھا تبھی چنٹو لڑکھڑاتے ہوئے گھر میں داخل ہوا اور اپنے باپ پر ٹوٹ پڑا۔ اس کا باپ بڑی مشکل سے اپنی جان بچاکر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے جانے کے بعد چنٹو نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے کہا
ماں ! تھے اب فکر کرنے کی ضرورت نہیں
ماں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا
بیٹا! مجھے اپنی نہیں,اب تیری بیوی کی فکر ہورہی ہے!!!

پیزا

وہ آفس سے تھکا ماندا جیسے ہی گھر آیا اس کی چھ سالہ بیٹی دوڑتے آئی اور اس لپٹ کر بولی ،
پاپا ، مجھے پیزا کھانا ہے۔
ٹھیک ہے بیٹا، میں فریش ہو جاؤں، پھر چلتے ہیں ،
نہیں مجھے ابھی کھانا ہے، بیٹی نے ضد کرتے ہوئے کہا۔
اس نے آفس کا بیگ ایک طرف رکھ دیا اور بیٹی کو لے کر چل پڑا۔ دکان سے پیزا لینے کے بعد اس نے پیسے دینے کے لئے اپنا پرس کھولا تو اس میں دوا کی ایک پرچی نظر آئی۔ اسے فوراً یاد آگیا کے امی نے یہ پرچی اسے دو دن پہلے آفس سے آتے ہی دی تھی لیکن وہ تھکاوٹ کی وجہ سے جا نہیں پایا اور بعد میں وہ بھول گیا۔ 
اس نے وہ پرچی پرس سے نکال کر شرٹ کی جیب میں رکھی اور میڈیکل اسٹور کی طرف چل پڑا۔

بارہواں کھلاڑی

ہم فٹبال میچ دیکھ رہے تھے۔میچ اپنے پورے شباب پر تھا۔ مگر سب کی نگاہیں اس بارہویں کھلاڑی پر تھیں جو اپنی ٹیم کے لئے حددرجہ فکرمند تھا۔ کھیل کے اتار چڑھاؤ پر اس کے اندر پیدا ہونے والے جذبات سے پیچھے کھڑے سامعین بہت متاثر تھے۔ وہ  اس کا بھرپور ساتھ  دے رہے تھے۔ تبھی پاس کھڑے ایک بزرگ نے بڑی ہی سنجیدگی سے کہا ،
"اس کا غصہ اگلی ٹیم کو نا کوئی نقصان  پہنچا سکتا اور نا ہی اس کا جوش اس کی ٹیم کو کوئی فائدہ ۔اس بارہویں کھلاڑی  کی حالت آج کے مسلمانوں جیسی ہے۔"