غزلیات

3 فروری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

معزز کس قدر تھا گردشِ ایام سے پہلے 
مرے سر پر یہی دستار تھی الزام سے پہلے 
 
یقیناً آج کا دن جھیل میں پُر امن گزُرا ہے
پرندے گھونسلوں میں لوٹ آئے شام سے پہلے 
 
تجھے پانے کی خواہش میں ہے جھیلی آبلہ پائی 
مگر اے زندگی تُو دور تھی ہر گام سے پہلے 
 
چھڑا کر ہاتھ اب تم جارہے ہو یاد بھی رکھنا 
ہمارا نام آئے گا، تمہارے نام سے پہلے 
 
قفس میں پھنس گئی ہے دیو کے شاید مری قسمت
تصور میں ملی تھی میں کسی گلفام سے پہلے 
 
کبھی صحرا نوردی میں نہ ضائع زندگی کرتا 
اگر واقف میں ہوتا عشق کے انجام سے پہلے 
 
مزیّن ہو حسیں الفاظ اور معصوم لہجے سے 
غزل بے کیف لگتی ہے کسی الہام سے پہلے 
 
گُماں کیسا یقیں ہے شاعری کے حُسن و خوبی میں 
توانا تھی غزل بیماریء ابہام سے پہلے 
 
پرویز مانوسؔ
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر ،موبائل؛ 9622937142
 
 
 
یاد رہتے ہیں کہاں تیرے فسانے اکثر
لوگ آتے ہیں ترا حال سنانے اکثر
دار پر میں ہی شب و روز کھنچا رہتا ہوں
تانے رکھتے ہیں سبھی مجھ پہ کمانیں اکثر
تم کو یہ علم کہاں رات کے سناٹے میں
تیری گلیوں میں بھٹکتے ہیں دوانے اکثر
اب تو ویران سی رہتی ہے حویلی دل کی
تم ہی آتے تھے یہاں رنگ جمانے اکثر
سخت لہجے سے بھی لگتی ہیں خراشیں دل پر
زخم بھرنے میں گزرے ہیں زمانے اکثر
جب سے جاویدؔ چراغوں سے مراسم ٹھہرے
مجھ پہ رہتے ہیں ہواؤں کے نشانے اکثر
 
سردار جاوید خان 
 مہنڈر، پونچھ،موبائل نمبر 9697440404 
 
 
 
ہر اک سے رشتہ بنائے رکھنا؛ کہاں ہے ممکن
ہر اک کو سرپہ بٹھائے رکھنا؛ کہاں ہے ممکن
ہے نرم لہجہ، زبان شیریں، کمال؛ لیکن
ہمیشہ سر کو جھکائے رکھنا؛ کہاں ہے ممکن؟
وفاکی خوشبو بدن کے انگوں سے پھوٹتی ہے
یہ درد دل میں چھپائے رکھنا؛ کہاں ہے ممکن؟
خلوص کی گر فضا ہو گھر میں تو گھر ہے باقی
نہیں تو گھر کو بچائے رکھنا؛ کہاں ہے ممکن
ادھر سے نفرت کی آندھیاں ہوں بلا توقّف
چراغِ الفت جلائے رکھنا؛ کہاں ہے ممکن؟
نہ گرمجوشی نہ رکھ رکھائو کی جب فضا ہو
کسی کو دل میں سمائے رکھنا؛ کہاں ہے ممکن؟
گلاب چہروں کی رونقیں جب نہ ہوں میسر
تو دل کی محفل سجائے رکھنا؛ کہاں ہے ممکن؟
روائتیں میزبانیوں کی بھلی ہیں بسملؔ
گھروں میں مہماں بٹھائے رکھنا ؛ کہاں ہے ممکن؟
 
خورشید بسمل ؔ
تھنہ منڈی، راجوری، جموں
موبائل نمبر؛9419385269
 
 
کوئی جب تجھ کو دیکھتا ہو گا 
دل ہی دل تجھ کو چاہتا ہو گا 
جب کبھی تنہا بیٹھتا ہوگا
 تیرے بارے میں سوچتا ہوگا
 کچھ خبر ہے کہ تیری یادوں میں
 رات بھر کوئی جاگتا ہوگا 
گھر سے نکلو نہ تم کہیں تنہا
 تیرے حق میں نہ یہ بھلا ہوگا
 غیر کے ساتھ تم جو جاؤ گے
 راستہ میرا بھی جدا ہو گا 
بات دل کی تجھے کہوں کیسے
 سن کے شاید کہ تو خفا ہوگا
 میں تجھے دل سے چاہتا ہوں مگر
 جانے تو کس کو چاہتا ہوگا 
تیری صورت ہے دلنشیں ایسی 
تجھ پہ بسملؔ نہ کیوں فدا ہوگا
 
پریم ناتھ بسملؔ
مہوا،ویشالی۔بہار
رابطہ۔8340505230
 
 
اُس کے سرپریہ تاج کیسا ہے 
اُس کوحاصِل خراج کیسا ہے 
جیسے مُمکن ہے جی رہاہوں میں 
آپ کہیئے مزاج کیسا ہے 
راس آیانہیں مجھے ماحول  
کیاکہوں میں مزاج کیساہے 
حق کی خاطرہیں اُترے میداں میں 
لوگوں کا احتجاج کیساہے
کل بہرحال کٹ گیا ہے جیسے 
دیکھنایہ ہے آج کیساہے 
کیامرض سے بھی ربط ہے اِس کا
جوہے جاری عِلاج کیساہے 
کیسی رسموں پریہ ٹِکاہے ہتاشؔ
کیاکہوں میں سماج کیساہے 
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن لین، جموں
موبائل نمبر،8493853607
 
 
خُدا جانے یہ سچ تھا یا نہیں تھا
پسِِ آئینہ میں فَرسا نہیں تھا
بیا باں در بیا باں کربلا تھا
ہزاروں پیڑ تھے سایہ نہیں تھا
بدلتی رُت کا نوحہ کون کرتا
شجر پر ایک بھی پتہ نہیں تھا
مجھے مرنے کے بعد یاد آگیا ہے
جیا جس کیلئے اپنا نہیں تھا
لہو دل، خواب آنکھیں اور آنسو
یہ سب کچھ تھا مگر چہرہ نہیں تھا
ہتھیلی پر لکھا تھا نام سعیدؔ
مگر اس نے مجھے سوچا نہیں تھا
 
سعید احمد سیدؔ
احمد نگر سرینگر، 8082405102
 
 
لوگ یہاں اور وہاں پہ مارے 
کھیل سیاست کے ہیں سارے
لوگ سیاسی ہوتے ہیں  وہ 
دن میں جو دکھلائیں ہیں تارے 
ووٹ ہمیں دینا، کہتے ہیں
کام کریں گے آپ کے سارے
کون غریبوں کی سُنتا پھر 
 چاہئے جتنا  کیوں نہ پُکارے 
کام منیؔ رکھ اپنے کام سے 
تجھ کو کیا کوئی جیتے ہارے 
 
  ہریش کمار منیؔ بھدرواہی 
hkmani1990@gmail.com
 
 
نجانے کیوں مجھے ہر شام تیری یاد آتی ہے 
نجانے کیوں مجھے بدنام کرکے روز جاتی ہے 
مجھے اب غم نہیں کوئی میرا ہمراہ ہوجائے
جدھر جاؤں تری صورت ہی میرے ساتھ آتی ہے 
تیرے دل کا میں ٹکڑا ہوں، یقین ہے یہ مرے دل کو
یہی جب سوچ لیتا ہوں تو مجھ کو نیند آتی ہے
تیری باتیں، ترا لہجہ، ترا وہ مسکرانا بس!
یہ محفل جب بھی سجتی ہے ، مجھے مجنوں بناتی ہے
ہوئی ہے رات مرزاؔ اب ذرا سو جائو پل بھر کو
سناہے نیند میں بھی وہ کوئی مژدہ سناتی ہے
 
شارق نبی وانی مرزا ؔ
کشمیر یونیورسٹی ،پلوامہ
 
 
جب بھی کبھی خواب دیکھتا ہوں
دل پہ زخم بےحساب دیکھتا ہوں
امیدِ شعاع کو اشکوں سے دیکھ کر
قوسِ قزح و صحاب دیکھتا ہوں
سحرائے محبت میں دل کو بساکر 
سراب در سراب دیکھتا ہوں
دریائے وفا کے کنارے پہ آکر
یہ دلِ خانہ خراب دیکھتا ہوں
یہ مہتاب چھوڑ، چاہتِ انجم؟ 
کیا کاوشِ انتخاب ویکھتا ہوں
کون ساتھ ہے اس سفر میں مظہرؔ
کسے اپنا ہم رکاب دیکھتا ہوں
 
حمزہ مظہرؔ
دریش کدل سرینگر،موبائل نمبر؛8825054483
 

تازہ ترین