تازہ ترین

سیاسی جنگ میں فلمی ہتھیار

آئینہ پردہ بنا ہے سچ چھپانے کے لئے

19 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
عام  انتخابات کے لئے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی کامیابی کے لئے ہر قسم سے تیار کررہی ہیں۔ حکمران جماعت نے اونچی ذات والوں کے لئے ملازمتوں اور داخلوں کے تعلق سے عام زمرہ میں دس فی صد ریزرویشن کا بل پارلیمان کے دونوں ا یوانوں میں منظور کرواتے ہوئے اپنی دانست میں پہلی ’’کامیابی ‘‘حاصل کی ہے۔ یقیناًاس کے اثرات انتخابات اور اس کے نتائج پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لئے سیاسی پارٹی ایک بار پھر فلم کا سہارا لینے لگی ہے کیوں کہ الیکٹرانک میڈیا (ٹیلی ویژن چینلس) اور سوشل میڈیا عوامی اعتماد سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ فلم ہمیشہ عوامی سوچ پر اثر انداز ہوتی رہی ہے، چاہے اسے دیکھنے والے تعلیم یافتہ ہوں یا غیر تعلیم یافتہ۔کسی بھی شخصیت کی امیج مبالغہ آمیز طریقے پر بہتر بنانے یا اسے مسخ کرنے کے لئے فلموں کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔ گاندھی‘ جناح ، سردار پٹیل، سبھاش چندر بوس، امبیڈکر پر کئی فلمیں بنائی گئیں۔ گاندھی جی پر تو ہالی وڈ نے بھی فلم بنائی۔کھلاڑیوں پر تو BIOPIC کا رواج عام ہوچکا ہے۔ ملکھا سنگھ، مہاویر پھوگٹ (دنگل)، اظہر، دھونی، سچن کے بعد اب کپل دیو پر بھی فلم بنائی جارہی ہے جس میں گریٹ آل راؤنڈر کا رول رنویر سنگھ ادا کرنے والے ہیں۔کئی فلمی اداکاراؤں پھولن دیوی (بنڈت کوئین) گرو (ویرو بھائی امبانی) کی زندگی کو پردہ سیمی پر پیش کیا جارہا ہے۔ سلک سمیتا پر ڈرتی پکچرس، سنبجے دت پر سنجو، میناکماری کا رول ودیابالن ادا کرنا چاہتی تھیں‘ ساحر لدھیانوی پر ’’بایوپک‘‘ عنقریب تیار ہوجائے گی۔بہار کے دشرتھ مانجھی پر ’’مانجھی‘‘ پاکستان میں برسوں بند رہنے کے بعد سزائے موت پانے والے سربجیت سنگھ دنیا کے سب سے کم عمر میراتھن رنر بودھیا سنگھ‘ ریاضی داں رامانجن پر The man who knew Infinity ناظریں کے لئے پہلے ہی پیش کی جاچکی ہیں۔
اس وقت سب سے زیادہ رجحان سیاسی شخصیات کی زندگی پر بنیں فلموں کی تیاری کا ہے۔ 2019ء میں کئی ایسی فلمیں ریلیز ہوں گی جو سیاسی شخصیات کی زندگی پر مبنی ہوں گی۔ ان میں سے ایک این ٹی آر پر 8؍جنوری2019ء کو ریلیز ہوچکی ہے۔ این ٹی آر تلگو فلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ رہے ہیں۔ وہ دیومالائی کرداروں کے لئے مشہور تھے جس کی وجہ سے ان کے مداح ان کی تصاویر اور مورتیوں کی پوجا کیا کرتے تھے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ 1983ء میں اس وقت ہوا جب انہوں نے تلگو عوام کی عزت ِنفس اور وقار کی سربلندی کے نام پر علاقائی سیاسی جماعت تلگو دیشم پارٹی قائم کی جس نے صرف نو ماہ کے قلیل عرصہ میں آندھراپردیش میں اقتدار حاصل کرلیا تھا۔ وہ بڑی تیزی سے قومی سطح پر مقبول ومعروف ہوئے۔ انہوں نے نیشنل فرنٹ کی تشکیل میں اہم رول ادا کیا تھا اور اگر زندگی وفا کرتی تو وہ وزیر اعظم بھی ہوجاتے۔ تاہم ان کے داماد چندرا بابو نائیڈو نے 1995ء میں ان کا تختہ اُلٹ دیا اور خود چیف منسٹر بن گئے ۔ کچھ ہی عرصہ بعد این ٹی آر کی موت واقع ہوگئی۔ این ٹی آر کی سیاسی اور نجی زندگی اس وقت متاثر ہوئی جب ان کی زندگی میں ایک اسکالر ڈاکٹر لکشمی پاروتی داخل ہوکراُن کی پتنی بن گئیں۔ این ٹی آر کی موت کے بعد لکشمی پاروتی کا کسی نے ساتھ دیا کسی نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بہرحال تلگودیشم پر چندرا بابو نائیڈو کا مکمل قبضہ ہوگیا۔ این ٹی آر کے ارکان خاندان نے بھی بعد میں ان کا ساتھ دیا۔فلم ’’این ٹی آر۔کتھایکوڈو‘‘ میں این ٹی آر کا رول ان کے اداکار بیٹے بالکرشنا نے ادا کیا اور ودیابالن نے این ٹی آر کی اہلیہ بسواتارکم کا کردار نبھایا۔ این ٹی آر کے نواسے رانا ڈوگابٹی نے چندرا بابو نائڈو کا رول ادا کیا۔ امریکہ میں این ٹی آر کے ایک پرستار نے اس فلم کا ٹکٹ لگ بھگ تین لاکھ روپے میں حاصل کیا۔ یہ فلم بیک وقت گیارہ سو اسکرینوں پر ریلیز کی گئی۔
این ٹی آر کی زندگی پر رام گوپال ورما بھی فلم بناچکے ہیں جس کا ٹائٹل ہے Laxmi's NTR۔ یہ فلم ابتداء ہی سے تنازعات کا شکار رہی اور ویسے بھی رام گوپال ورمامتنازعہ چیزوں کے لئے ہی مشہور رہے ہیں۔ فلم میں سمجھا جاتا ہے کہ لکشی پاروتی کے رول کو زیادہ اہمیت دی جائے گی اور چندرا بابو نائیڈو کے باغیانہ رول کو بھی پیش کیا جائے گا۔ بالکرشنا کی فلم سے تلگو دیشم کو فائدہ ہوگا اور رام گوپال ورما کی فلم سے شاید نقصان۔ ایک ہی شخصیت پر دو فلموں کی تیاری کے درمیان چرنجیوی اور ان کے حامی بالکرشنا پر تنقید کررہے ہیں۔ دوسری طرف آندھراپردیش میں چندرا بابو نائیڈو کے اصل حریف وائی ایس جگن اپنے آنجہانی والد ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی پر بنائی گئی فلم ’’یاترا‘‘ سے پُرامید ہیں۔ ملیالم کے میگااسٹار’ ’مموتی‘ نے ڈاکٹر وائی ایس آر کا رول ادا کیا ہے۔ اس لئے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ فلم 8؍فروری کو ریلیز ہوگی۔ اس دوران وائی ایس جگن نے تین ہزار کلو میٹر کی پدیاترا مکمل کرتے ہوئے اپنے والد وائی ایس آر کا ریکارڈ تو ردیا جنہوں نے 2004ء میں آندھراپردیش کا اقتدار حاصل کرنے سے پہلے 2800 کلو میٹر کی پیدل یاترا کی تھی۔
شیوسینا لیڈر سنجے راؤت اور سنجے بارو کی Accidental Prime Minister ریلیز ہونے والی ہے جو سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ پر بنائی گئی ہے۔ اس کا مقصد کانگریس، سونیا گاندھی، منموہن سنگھ کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ اس پر کانگریس نے زبردست احتجاج کیا۔ انوپم کھیر منموہن سنگھ کے کردار کو اپنے فلمی کیریئر کا بہت اہم کردار سمجھتے ہیں اوراس کا تقابل وہ اپنی پہلی فلم ’’سارس‘‘ سے کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ’’راج نیتی‘‘ میں بھی سونیا، راجیو گاندھی، راہول گاندھی کے کردار پیش کئے گئے تھے۔25؍جنوری کو بال ٹھاکرے کی 93ویں سالگرہ کے موقع پر فلم ’’ٹھاکرے‘‘ ریلیز ہوگی۔ شیوسینا کے بانی لیڈر کا رول نوازالدین صدیقی نے ادا کیا ہے۔بال ٹھاکرے کی زندگی پر ’’سرکار‘‘ اور سرکار راج آچکی ہیں۔ امیتابھ بچن نے بال ٹھاکرے کا رول ادا کیا تھا اور اودھو ٹھاکرے کا رول ابھیشیک بچن نے۔ اس سے پہلے متنازعہ فلم ’’ممبئی‘‘ میں بھی ٹھاکرے کا رول پیش کیا گیا تھا۔ سمجھا جاتا ہے کہ نواز صدیقی نے سب سے بہتر اداکاری کی ہے۔ یہ فلم پارلیمانی انتخابات میں شیوسینا کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔نواز صدیقی کا ذکر چلا ہے تو یہ بھی بتادیں کہ یہ خبر عام تھی کہ وہ ٹی آر ایس کے بانی اور تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چند رشیکھر راؤ پر بننے والی فلم میں کلیدی رول ادا کریں گے۔ راج کمار راؤ کا نام بھی کے سی آر کے رول کے لئے زیر غور سمجھا جاتا ہے۔ چندر شیکھر راؤ کی شخصیت بھی واقعی افسانوی ہے‘ وہ خود اسکرپٹ لکھ سکتے ہیں کیوں کہ وہ اچھے قلم کار بھی ہیں اور شاعر بھی ہیں۔
جب سیاسی شخصیات پر اتنی فلمیں منظر عام پر آرہی ہیں تو بھلا نریندر مودی پر فلم کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فدنویس نے دے دیا۔ ا نہوں نے مودی پر فلم کا پوسٹر 23؍زبانوں میں جاری کیا۔ یہ فلم اسی سال 23؍زبانوں میں ریلیز کی جائے گی۔ مودی کا رول ویویک اوبرائے ادا کررہے ہیں جن کے والد سریش اوبرائے 1994ء سے بی جے پی کے رُکن ہیں۔ کشمیر کے سابق چیف منسٹر عمرعبداللہ نے فلم مودی کا مضحکہ اُڑاتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا کردار نبھانے کے لئے انوپم کھیر جیسا منجھا ہوا اداکار ملا اور مودی کے رول کے لئے ویویک اوبرائے پر اکتفا کرنا پڑا۔مودی پر ایک اور فلم کی تیاری کی اطلاعات ہیں‘ جس میں گجرات کے چیف منسٹر سے ہندوستانی وزیر اعظم تک بننے والے مسٹر مودی کا رول پریش راول ادا کرنے والے ہیں جن کا تعلق بھی گجرات سے ہے اور وہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔سیاسی شخصیات پر فلموں کی تیاری کا کس حد تک سیاسی جماعتیں فائدہ اٹھاسکیں گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ جب کبھی کسی سیاسی شخصیت پر کوئی فلم بنائی گئی تو وہ ادھوری بھی رہی اور متنازعہ بھی۔ اس میں کردار کے ساتھ مکمل انصاف نہیں کیا گیا۔ 1970ء کے دہے میں گلزار کی فلم ’’آندھی‘‘ پر پہلے پابندی عائد کی گئی تھی کیوں کہ یہ اندرا گاندھی کی نجی اور سیاسی زندگی پر مبنی تھی۔ ایمرجنسی کے دوران اس فلم پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ایمرجنسی کے بعد یہ فلم سپرہٹ ہوگئی۔ سوچترا سین نے اندرا گاندھی کا رول بڑی خوبی سے نبھایا تھا۔ ایمرجنسی کے بعد ’’قصہ کرسی کا‘‘ فلم ایمرجنسی کے حالات پر بنائی گئی تھی۔ جو بُری طرح سے فلاپ رہی۔سیاسی حالات اور واقعات و شخصیات پر فلمیں ہر دور میں بنائی جاتی رہی ہیں جس میں ہمیشہ سیاست دانوں کے منفی رول کو پیش کیا گیا کہ کس طرح سے سیاست دان اپنے اثرات و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہیں ،چاہے وہ دلیپ کمار کی فلم’ ’لیڈر‘‘ ہو یا کمل ہاسن کی ’’ مےئر صاحب‘ ‘یا پھر راجیش کھنہ کی ’’آج کا ایم ایل اے‘‘، امیتابھ بچن کی ’’انقلاب‘‘۔
رابطہ: ایڈیٹر ’’گواہ اردو ویکلی‘‘ حیدرآباد۔فون:9395381226