تازہ ترین

بی پی ایل اور اے اے وائی فہرستوں کو مشتہرکیا جائے:صراف

13 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: فائل فوٹو    )

بلال فرقانی
سرینگر//سرکاری راشن ڈیپوئوں میں خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے اور اے اے وائی زمرے کے صارفین کے راشن میں کٹوتی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لوک جن شکتی پارٹی کے قومی ترجمان سنجے صراف نے راشن ڈیپوئوں میں بی پی ایل اور اے اے وائی فہرستیں مشتہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایوان صحافت سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سنجے صراف نے کہا کہ ان زمروں میں صارفین کو فراہم ہونے والی راشن کے حجم سے متعلق تفصیلات اور معلومات کو ہر ڈیپو میں منظر عام پر لانا لازمی ہے۔ صراف نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر امور صارفین و عوامی تقسیم کاری سے بھی ملاقات کی اور انکی نوٹس میں بھی یہ بات لائی۔انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ نصف درجن راشن ڈیپوئوں کیلئے صرف ایک ہی سٹور کیپر تعینات ہے،جس کی وجہ سے صارفین کو بروقت راشن کی حصولیابی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں محکمہ کو چاہئے کہ افردی قوت کی قلت کو پورا کرنے کیلئے مزید اسٹور کیپروں کو تعینات کرے،جس سے نہ صرف تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو روزگار کے وسائل بھی مہیا ہونگے،بلکہ صارفین کو بھی راشن کی حصولیابی کیلئے کئی کئی دنوں تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔سنجے صراف نے سابق ممبر اسمبلی حبہ کدل شمیمہ فردوس کی طرف جموں میںسے دئے گئے بیان محض اشک شوئی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق ایم ایل اے معروف معالج ڈاکٹر ٹھسو اور دیگر پنڈتوں کے مکانات کا معاملہ بھول گئیں۔واضح رہے کہ شمیمہ فردوس نے حال ہی میںجموں میں میڈیا کو بتایا کہ حبہ کدل میں پنڈتوں کے مکانات پرکوئی قبضہ نہیں کیا گیابلکہ مندروں کی دیکھ ریکھ اور انکی مرمت کیلئے3کروڑ روپے صرف کئے گئے۔صراف نے سوالیہ انداز میںکہا کہ وہ3کروڑ روپے کی رقم کہاں سے آئی اور  کن مندروں پر خرچ کیا گیا۔انہوں نے گورنر انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ لاسی پورہ پلوامہ میں سٹیل پلانٹ نصب کرنے کے منصوبے کو ہری جھنڈی دکھائیں جس سے قریب3ہزار بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فرہم ہوگا۔