تازہ ترین

چوکیدار ایک بھی چور کو نہیں چھوڑے گا:مودی

کہاسلطنت بچانے کیلئے کانگریس خوفزہ ہے ، ایودھیا معاملے میں رخنہ ڈال رہی ہے

13 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر وکیلوں کے ذریعہ سے اجودھیا معاملے میں عدالتی عمل میں رخنہ ڈال کر فیصلے میں تاخیر کرانے کا الزام لگایا ہے ۔مسٹر مودی نے یہاں رام لیلا میدان میں بی جے پی کے قومی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہا ‘‘ کانگریس اپنے وکیلوں کے ذریعہ سے عدالتی عمل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے ۔ کانگریس نہیں چاہتی کہ اجودھیا مسئلے کا حل نکلے ۔’’ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف تحریک مواخذہ لانے کی بھی کوشش کی تاکہ اس معاملے میں فیصلے میں تاخیر ہو۔’’انہوں نے بی جے پی کارکنوں سے کہا کہ آپ کو کانگریس کا یہ رویہ بھولنا نہیں ہے اور کسی کو بھولنے بھی نہیں دینا ہے ۔ادھر مودی نے کانگریس کی زیرقیادت سابقہ ترقی پسند اتحاد حکومتوں پر  بدعنوانی اور اداروں کے غلط استعمال کے الزامات عائد کرتے ہوئے   کہا کہ  ملک کے پیسے کی چوری کرنیوالے خواہ ملک میں ہوں یا ملک کے باہر بھاگ گئے ہوں انہیں چھوڑا نہیں جائے گا۔مسٹر مودی نے یہا ں تاریخی رام لیلا میدان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے  قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکار پہلی بار کسی ہتھیار  سودے کے بچولئے (کرسچن مشیل) کو پکڑ کر  ملک میں واپس لائی ہے۔ اس بچولئے سے پوچھ گچھ کے دوران  یہ بات سامنے آئی ہے کہ رافیل  سودے میں  ترقی پسند اتحاد  حکومت اس لئے تاخیر کررہی تھی کہ یہ بچولیا  رافیل کے بجائے  کسی دیگر کمپنی سے جنگی طیارے خریدوانا چاہتا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ  یہ سچ اب سامنے آرہا ہے کہ  اس لئے  کانگریس کے رہنما  شور مچارہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس لئے یہ لیڈر  گالی گلوج اور سازشوں پر اتر آئے ہیں۔ خواہ کوئی کتنا بھی جھوٹ بولے، گالی دے چوکیدار رکنے والا نہیں ہے۔ چور چاہے ملک میں ہو یا ملک سے باہر  یہ چوکیدار ایک کو بھی چھوڑنے والا نہیں ہے۔رافیل  طیارہ سودے میں  اس کی قیمت کے حوالے سے  لگائے جانے والے الزامات پر صفائی دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خالی بوری کی قیمت  ہمیشہ کم ہوتی ہے اور اس میں گیہوں یا چاول بھر دینے سے اس کی قیمت الگ ہوجاتی ہے۔ یہ بات کوئی کم پڑھا لکھا آدمی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ لیکن جو سمجھنا ہی نہیں چاہتا اسے سمجھایا نہیں جاسکتا۔مسٹر مودی نے کہا کہ  سال 2014 میں ان کی سرکار بننے سے پہلے ترقی پسند اتحاد حکومت نے بینکوں کو خستہ حال  اور بدحال کرکے  دیوالیہ ہونے کی حالت میں پہنچادیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ اگر اس وقت بینکوںکی حقیقی صورت حال کا’راز‘ کھول دیا گیا ہوتا تو معیشت کا برا حال ہوجاتا۔ اس لئے ان کی حکومت نے دھیرے دھیرے کام کیا اور اب بینکوں کی حالت مضبوط ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ  2014 سے پہلے  ملک اس حالت میں تھا جب بینکوں میں اپنا پیسہ جمع کرنے والوں کی کوئی قدر نہیں تھی۔  جن کے پاس عوام کے پیسے کی حفاظت کی ذمہ داری تھی  وہی عوام کا پیسہ  لٹارہے تھے۔کانگریس کی سرکار میں  عوام کا پیسہ گھپلے بازوں کو  قرضے کی شکل میں دیا جاتا تھا۔  انہوں نے الزام لگایا کہ  کانگریس نے ملک کے ساتھ بھیانک وشوگھات کیا ہے ۔  وزیراعظم نے کہا کہ  کانگریس کے زمانے میں قرض لینے کے دو طریقے تھے۔  ایک تھا  کامن پروسس ’عام طریقہ‘ اور دوسرا تھا کانگریس پروسس۔ کامن پروسس  میں آپ بینک سے لون مانگتے تھے اور کانگریس پروسس  میں بینکوں  کو کانگریس  کے گھپلے باز دوستوں کو قرضہ دینے کے لئے  مجبور کیا جاتا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ  آزادی سے لے کر سال 2008 تک 60 سالوں میں بینکوں  نے صرف  18 لاکھ کروڑ روپے کا قرض دیا تھا۔ لیکن 2008  سے 2014 تک یہ قرضہ بڑھ کر  52 لاکھ کروڑ روپے ہوگیا۔ یعنی کانگریس کے آخری چھ سال میں 34 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے دیئے گئے۔ہم نے کانگریس  پروسس  والے نظام پر  لگام لگائی ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ  پہلے جہاں بینکوں کا پیسہ  جارہا تھا وہیں اب بینکوں میں اب پیسہ واپس آرہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ  انسالونسی اینڈ بینک کرپسی  کوڈ آنے کے بعد سے بینکوں میں تین لاکھ کروڑ روپے واپس آئے ہیں۔ اگرپہلے کی حکومت ہوتی تو یہ بھی لوٹ لیا گیا ہوتا۔نیشنل ہیرالڈ معاملے پر بھی کانگریس کو گھیرتے ہوئے مودی نے کہا کہ کانگریس اور  اس کا نامور خاندان سسٹم کو کیسے توڑتا ہے یہ اس کی مثال ہے۔ ادھر مودی نے آندھرا پردیش ،مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ میں سی بی آئی کے ’کام کرنے پر روک لگانے کے لئے ‘ کانگریس اور اس کی ساتھی اپوزیشن جماعتوں پر اداروں کے ساتھ عدم تعاون کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ اپنی سلطنت بچانے کے لئے ڈرے ہوئے ہیں۔مسٹر مودی نے یہاں رام لیلا میدان میں بی جے پی کے قومی اجلاس میں اختتامی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آندھراپردیش ، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ نے سی بی آئی پر پابندی عائدکردی ہے۔ آخر ان ریاستوں کو سی بی آئی سے خوف کیوں لگ رہا ہے۔