یہ کس جرم کی سزا ۔۔۔۔ ؟

کہانی

13 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ایف آزاد ؔدلنوی
تھانے سے باہر آتے ہی کرامت علی نے ارد گرد نظریں دوڑائیں تو یہ دیکھ کر دل کو یہ تسلی ہوئی کہ انھیں کسی جان پہچان والے نے تھانے سے باہر آتے ہوئے نہیں دیکھا۔وہ سیدھا قریب ہی ایک ریسٹورنٹ میں چلے گئے تاکہ وہاں بیٹھ کر دم سنبھالے اور چائے کی ایک پیالی بھی پی لیںانھوں نے بیرے کو چائے کا آرڈر دیا۔
اتنی سی دیر میںایک خوبرو نوجوان آ کر بولا۔’’جناب میں آپ کا بہت بڑا مداح ہوں۔میں آپ کے افسانے پڑھتا رہتا ہوں۔آپ اس دور کے ایک بڑے تخلیق کار ہیںمگر ۔۔۔۔۔ آپ کو تھانے سے نکلتے دیکھ کرمجھے حیرانی ہوئی۔خیریت تو ہے۔‘‘
سن کر کرامت علی من ہی من میں سوچنے لگے۔’’یہ واقعی حیرانی کی بات ہے ہر اس شخص کے ذہن میں ہزار طرح کے خدشات پیدا ہونگے‘مجھ جیسے شخص کو تھانے سے نکلتے ہوئے دیکھے گا۔‘‘
کچھ توقف کے بعد اس نوجوان سے بولے۔’’مت پوچھو میاں۔‘‘ سرد آہ بھر تے ہوئے۔’’کئی دنوں سے تھانے آتا رہا ہوںمگر کلرک صاحب ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ آج کے دور میں کسی کو احساس ذمہ داری نہیں ہے میاں۔ہوتا تو مجھے اتنی کوفت نہیں اٹھانی پڑتی۔خیر میں بھی کہانی کے کلائمکس تک آتا رہوں گا۔‘‘
’’مگر جناب کہانی کے کلائمکس تک کہیں آپ خود کہانی نہ بن جائیں۔ حالات خراب ہیں کہیں کوئی تہمت نہ لگ جائے۔چھوٹا منہ بڑی بات، میری مانئے تو ان سے دور ہی رہئے گاکیونکہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔‘‘
اتنے میں بیرے نے چائے لائی ۔’’دو کپ رکھ دو۔ ‘‘کرامت علی نے نوجوان سے بیٹھنے کے لئے کہا۔
’’جناب یہ میری خوش بختی ہے کہ مجھے آپ کے روبرو بیٹھنے کا موقعہ مل رہا ہے۔ ویسے میں آپ سے ملنے ہی والا تھا۔‘‘دونوں چائے پینے لگے کرامت علی نے چائے کی کچھ چسکیاں لے کراُسے پوچھا ۔
’’تم کس سلسلے میں مجھ سے ملنا چاہتے ہو۔‘‘
’’جناب میرا نام  منیب خان ہے میں ریسرچ اسکالر ہوں۔‘‘
’’کون سا موضوع لیا ہے ۔‘‘
’’کرامت علی بحیثیت افسانہ نگار۔‘‘
’’اچھا میاں۔ میں کب سے ریسرچ کا موضوع بحث بن گیا ہوں۔‘‘
’’جناب آپ کے افسانے خوب چر چے میں رہتے ہیں۔ آپ کے افسانے سبق آموزجو ہو تے ہیں۔‘‘
 میاںمطالعہ کرتے رہو۔ خیالات میں پختگی آجائے گی۔‘‘ ’’جناب آپ کی بات گانٹھ باندھ لوں گا۔‘‘
’’اچھا میاں اب چلتا ہوں‘‘وہ اٹھنے ہی لگے تھے کہ نوجوان بولا۔’’جناب آپ کس سلسلے میں تھانے آئے تھے۔‘‘
’’میاں در اصل ہماری ویریفکیشن ہورہی ہے، ہم کون ہیں کہاں رہتے ہیں ‘‘
یہ کہہ کر وہ تھانے کی طرف چل پڑے ۔دن کے دو بج رہے تھے، کرامت علی چلتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ اب کلرک صاحب نے کھانا کھایا ہوگا۔اندر داخل ہوتے ہی ان کا سامنا اپنے ہی کے علاقے کے سرپنچ سے ہوا۔ وہ بھاگتا ہوا آیا اور بولا۔
’’جناب آپ بھی۔‘‘ کرامت علی متعجب ہوکر بولے۔
’’ میں سمجھا نہیں‘‘
’’ جناب حملہ آور کو پکڑوانے میں آپ بھی تعاون دے رہے ہیں نا۔‘‘
یہ سن کر کرامت علی کے پائوں تلے زمین کھسکنے لگی۔ ماتھے سے پسینہ پھوٹنے لگا۔من ہی من میں سوچنے لگے ۔
’’مجھے کام نپٹا کر چلے جانا چاہئے۔‘‘وہ تیز تیز سیڑھیاں چڑھ کرکمرے میں داخل ہوئے اور کلرک سے مخاطب ہوکر بولے۔
’’ہماری ویری فکیشن ہوچکی کیا۔‘‘
’’تشریف رکھئے جناب ۔آپ اس علاقے کے ایک معروف افسانہ نگار ہیں جناب ہم بیٹھے بیٹھے بور ہو رہے ہیں آپ اپنا کوئی مختصر افسانہ سنا دیجئے دل بہل جائے گا۔‘‘
کرمت علی خوشی سے پھولے نہ سمائے۔   
’’آپ اصرار کرتے ہیں تو سن لیجئے  ۔‘‘ کرامت علی نے افسانہ سنا دیا۔سن کر سبھی محظوظ ہوئے۔ تھوڑے وقفے کے بعد وہ کلرک  سے بولے۔
  ’’ جناب میں کچھ عرض کر رہا تھا۔‘‘
’’ہاں مجھے یاد ہے آپ کی ادبی تنظیم کی ویری فکیشن کا معاملہ۔ اس کی گراونڈ رپورٹ آچکی ہے اب آپ تنظیم کے سبھی ممبران کے  ڈاکیومنٹ دے دیجئے۔پھر وقت ملتے ہی میں رپورٹ تیار کر کے رکھ دوں گا۔‘‘
’’ ڈاکیو منٹ ابھی لیجئے۔مگر تھوڑا جلدی کیجئے۔‘
کلرک نے دھیمی آواز میں کہا۔
’’کیا ہے کہ ہما رے بڑے صاحب پر کسی نے رات کے اندھیرے میں حملہ کیا ہے، کسی تیز دھار والے ہتھیارسے۔صاحب اس حملے میںزخمی ہوئے۔ ہمیں اُس حملہ آور کی تلاش ہے۔آج کل دم لینے کی فرصت نہیں ملتی ہے۔دس دن بعد آئیں۔‘‘
کرامت علی گھر واپس لوٹ آئے۔ اگلے دن وہ گھر میں بیٹھے کچھ پڑ ھ رہے تھے کہ منیب خان نے دروازہ کھٹکھٹا یا۔اس پر نظریں پڑتے ہی  بولے۔
’’تشریف لائو میاں۔‘‘آداب بجا لا کر وہ بیٹھ گیا اور بولا۔
’’جناب مجھے آپ کی افسانہ نگاری کے بارے میں کچھ جانکاری چاہئے۔‘‘
 پھر کرامت علی نے اپنی افسانہ نگاری کا ہر ایک پنّا کھول  کے رکھ دیااور منیب خان کوساری جانکاری دیدی۔پھر باتوں ہی باتوں میں منیب خان بولا ۔
’’جناب وہ ویری فکیشن ہو چکی کیا۔‘‘
’’کہاں میاں ابھی نہ جانے کتنے چکر لگانے پڑیں۔ایک مہینہ گزر گیا اب اور دس دن مانگے ہیںدراصل میاں ہم نے ایک نئی ادبی تنظیم تشکیل دی ہے ہما را مدعا و مقصد یہ ہے کہ ہم نو آموز قلمکاروں کو اسٹیج فراہم کریںتاکہ انھیں بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقعہ ملے۔‘‘
’’آپ کا منشا نیک ہے مگر جناب تنظیم کے کسی دوسرے ممبر کو بھیج دیا کریں۔بار بار آپ کا جانا زیب نہیں دیتا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ کرمت علی نے منیب خان کی صلاح کو بجا سمجھتے ہوئے کچھ دن بعد اپنی تنظیم کے ایک اور ممبر کو رپورٹ لانے کے لئے کہا۔جو ہر بار ہی تھانے سے نامرادوا پس لوٹتا رہا۔بلآخراس نے کرامت علی سے صاف صاف لفظوں میں کہا۔
’’جناب وہ روز ٹال مٹول کررہے ہیںمجھ سے یہ کام نہیں ہوگا۔‘‘
اس با ت پر کرامت علی کو بہت غصہ آیا۔اگلے دن تھانے میں جاکراس نے کلرک سے قدرے تند لہجے میں کہا۔
’’آج آپ کو ویری فکیشن رپورٹ دینا ہی پڑیگااب یہاں آتے آتے ہم تھک چکے ہیں۔‘‘
’’ضرور دیں گے مگر جناب ہمارا بھی کچھ خیال کریںیہ رپورٹ تیار کرنے میں بہت محنت لگتی ہے یہ فیلڈ سے منگوانی پڑتی ہے اس میں کئی بندے بھیجنے پڑتے ہیں۔‘‘
’’میںایک کوڑی بھی نہیں دے سکتا۔ یہ میرے اصولوں کے خلاف ہے۔‘‘
’’جناب آپ اپنا وقت ضائع مت کیجئے ابھی رپورٹ تیار نہیں ہے۔‘‘کرمت علی کو لگا ایسے کام بننے والا نہیں ہے۔ اس نے دو ہزار کا نوٹ پرس سے نکال کراپنی قمیض کی اگلی جیب میں ڈال کر کہا ۔
’’اچھا دیجئے رپورٹ۔‘‘نوٹ دیکھ کر کلرک نے رپورٹ اس کو تھما دی۔کرامت علی نوٹ جیب سے نکال کر واپس پرس میں ڈالتے ہوئے بولے
’’رشوت لینا اور رشوت دینا قانونََ جرم ہے اور تیز تیز ڈگ بھرتے ہوئے نکلنے لگے تو کلرک نے آواز دی۔
’’بند کر دوانھیں۔‘‘دو تین بندے آکر کرامت علی کو پکڑ کر لے گئے۔اگلے دن اخبار کی شہ سرخیوں میں لکھا تھا ۔۔
’’حملہ آور پکڑا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘اوپر کرامت علی کی تصویر تھی۔
٭٭٭
دلنہ بارہمولہ، موبائل نمبر:-9906484847

تازہ ترین