تازہ ترین

خواتین کیخلاف جرائم : اغواکاری،گھریلو تشدد،جنسی استحصال اورخودکشی کے رجحان میں اضافہ

چونکا دینے والے اعدادوشمارسامنے آگئے

12 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 
سرینگر//کشمیر صوبے میں صنف نازک کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا اندازہ اس بات لگایا جاسکتا ہے کہ 60گھنٹوں کے دوران ایک خاتون کی عصمت ریزی اور یومیہ2خواتین کی اغوا کاری کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔2018کے دوران کشمیر میں بنت حوا کو نشانہ بنانے کے چونکا دینے والے اعدادو شمارسامنے آئے ہیں۔ وادی میںجہاںگزشتہ برس 8 خواتین گولیوں سے لقمہ اجل ہوئیں،وہیں سماجی سطح پر خواتین کے خلاف جرائم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔خواتین کے خلاف جرائم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر صوبہ میں اوسطاً 60 گھنٹوں کے دوران ایک خاتون کی عصمت ریزی اور یومیہ 2 خواتین کی اغوا کاری ،جبکہ ایک خاتون کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملات سامنے آتے ہیں۔
کیس درج ہوتے ہیں۔ گذشتہ سال کے اوائل میں ہی رسانہ کھٹوعہ میں ایک معصوم بچی کی عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ پیش آیا۔سال کے وسط میں مہجور نگر علاقے میں سکھ فرقہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بھی مبینہ طور پر سسرال والوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنی اور اس کی زندگی کا بھی خاتمہ ہوا۔ نوگام نائک باغ سرینگر کی ایک اورخاتون بھی مبینہ طور پر سسرال والوں کے قہر کا نشانہ بن گئی۔سال گزشتہ میں مجموعی طور پر وادی معہ لداخ میں صنف نازک کے خلاف 987جرائم سے متعلق کیسوں کا انداج کیا گیا۔ دستیاب اعدادو شمار کے مطابق خواتین کی آبرو ریزی سے متعلق142کیس درج کئے گئے۔پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کیسوں میں82 فیصد شرح کے حساب سے116کیسوں کو نپٹایا گیا،جبکہ26کیس زیر تحقیقات ہیں۔ خواتین کی اغوا کاری کے گراف سے متعلق جو اعدادو شمار سامنے آئے ہیں وہ تشویشناک ہیں۔گذشتہ سال صنف نازک کے667اغوا کاری کے معاملات سامنے آئے ۔ ان کیسوں میں417کیسوں کو  نپٹایا گیا،جبکہ250کیس ابھی بھی زیر تفتیش ہیں۔
 
لڑکیوں پر فقرے کسنے کے35واقعات بھی پیش آئے۔خواتین کو گھریلو اور سسرال والوں کے تشدد کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے اور اس دوران مبینہ طور پر کئی خواتین اس تشدد کی بھینٹ بھی چڑھ گئیں۔دستیاب اعداد وشمار کے مطابق2018میں وادی میں گھریلو تشدد سے متعلق143کیسوں کا اندارج عمل میں لایا گیا۔ اعدادو شمار کے مطابق 2017میں ریاست میں مجموعی طور پر صنف نازک کے خلاف جرائم سے متعلق3363کیسوں کا اندراج عمل میں لایا گیا،جبکہ سال2016میں انکی تعداد2929تھی۔خواتین کمیشن کی سابق چیئرمین شمیمہ فردوس کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کیلئے سرکاروں کو سخت پالیسی مرتب کرنی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا’’ فیملی اور فاسٹ ٹریک بنیادوں پر عدالتیں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ خواتین کو انصاف فرہام ہو،تاہم مسلسل حکومتیں اس معاملے میں غیر سنجیدہ ہیں‘‘۔